உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    22 YouTube چینل حکومت نے کئے بلاک، ملک مخالف کنٹنٹ کو لےکرپاکستانی چینل پربھی پابندی

    22 YouTube چینل حکومت نے کئے بلاک، ملک مخالف کنٹنٹ کو لےکرپاکستانی چینل پربھی پابندی

    22 YouTube چینل حکومت نے کئے بلاک، ملک مخالف کنٹنٹ کو لےکرپاکستانی چینل پربھی پابندی

    ہندوستان کے خلاف غلط جانکاری پھیلانے والے 22 YouTube چینل پر پابندی عائد کردی گئی ہے۔ اس فہرست میں چار پاکستانی چینل بھی شامل ہیں۔

    • Share this:
      منسٹری آف انفارمیشن اینڈ کاسٹنگ نے IT Rules 2021 کے تحت ایمرجنسی پاور کا استعمال کرتے ہوئے 22 YouTube  چینلس، تین اکاونٹ،  ایک فیس بک اکاونٹ اورایک نیوز ویب سائٹ کو بلاک کرنے کا حکم دیا ہے۔ بلاک کئے گئے  چینل کے پاس کل 260  کروڑ ویورشپ تھی۔ ان اکاونٹس اور چینلس کا استعمال حساس اور ہندوستان کی سیکورٹی، غیرملکی پالیسی اور پبلک آرڈر سے جڑے معاملات میں فرضی نیوز اور سوشل میڈیا پر غلط جانکاری پھیلانے کے لئے کیا جا رہا تھا۔

      ہندوستانی YouTube چینل پر ایکشن

      IT Rules 2021 کی بنیاد پر یہ پہلا موقع ہے، جب ہندوستانی YouTube چینلس پر ایکشن لیا گیا ہے۔ واضح رہے کہ حکومت گزشتہ سال فروری میں آئی ٹی رولس 2021 کا نوٹیفکیشن جاری کیا تھا۔ تازہ ترین بلاکنگ آرڈر کے تحت 18 ہندوستانی اور چار پاکستانی YouTube چینلس پر بھی پابندی عائد کی گئی ہے۔

      ان یوٹیوب چینلس کا استعمال مختلف موضوعات پر فرضی نیوز پھیلانے کے لئے کیا جا رہا تھا۔ خاص طور پر ہندوستانی فوج، جموں وکشمیر جیسے موضوعات پر فرضی پوسٹ ان چینلس کے ذریعہ کئے جارہے تھے۔ مختلف سوشل میڈیا اکاونٹس کے ذریعہ پوسٹ کئے گئے ہندوستان مخالف کنٹنٹ کو بھی بلاک کیا گیا ہے۔ جانچ میں پایا گیا ہے کہ ہندوستانی YouTube  چینلس کے ذریعہ یوکرین کی صورتحال پر بھی کئی غلط جانکاریاں شیئر کی گئی ہیں۔ دوسرے ممالک کے ساتھ ہندوستان کے تعلقات کو متاثر کرنے کی منشا سے ان چینلس کے ذریعہ پوسٹ کیا جارہا تھا۔

      کن چینلس پر لگائی گئی پابندی

      ARP News, AOP News, LDC News, Sarkari Babu, SS ZONE Hindi, Smart News, News23 Hindi, Online Khabar, DP news, PKB News,  Kisan Tak, Borana News, Sarkari News Update, Bharat Mausam, RJ ZONE 6, Exam Report, Digi Gurukul, دن بھر کی خبریں۔

      پاکستانی چینلس

      Duniya Mery Aagy, Ghulam Nabi Madni, HAQEEQAT TV, HAQEEQAT TV 2.0

      ویب سائٹس

      Dunya Mere Aagy

      سوشل میڈیا اکاونٹس

      ٹوئٹر- Ghulam Nabi Madni, Dunya Mery Aagy, Haqeeqat TV
      فیس بک:  Dunya Mery AagyLive TV
      Published by:Nisar Ahmad
      First published: