உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Pakistan:پاکستان میں اقلیتوں پر ظلم کا سلسلہ جاری، کراچی میں نابالغ ہندو لڑکے کا اغوا

    علامتی تصویر۔

    علامتی تصویر۔

    ایک کرانہ کی دکان چلانے والے کمار کے والد ہیرو مل نے بتایا کہ ہمیں ابھی تک اغوا کاروں کی طرف سے کوئی کال موصول نہیں ہوئی تاہم تاوان کی نیت سے ایسے واقعات اکثر ہوتے رہتے ہیں۔

    • Share this:
      اسلام آباد: پاکستان کے صوبہ سندھ میں اقلیتی ہندو طبقے کے ایک نابالغ لڑکے کا بائیک سوار دو نامعلوم افراد نے اس کے گھر کے باہر سے اغوا کرلیا ہے۔ پولیس اور افراد خاندان کے مطابق واقعہ پیر کی صبح اس وقت پیش آیا ہے آدیش کمار اپنے پروس کے دو دوستوں کے ساتھ اپنے گھر کے سامنے کھیل رہا تھا۔ موٹرسائیکل سوار دو لوگوں نے گلی میں آکر اس کا اغوا کرلیا۔

      دو بچوں کا اغوا کرنے کی کوشش ہوئی
      بچے کے ماموں ساون راج نے ایکسپریس ٹریبیون کو بتایا کہ ابتدائی طور پر اغوا کاروں نے دو بچوں کو اغوا کرنے کی کوشش کی، لیکن ایک فرار ہونے میں کامیاب ہو گیا، اس لیے وہ کمار کے ساتھ لے کر بھاگ گئے۔ مقامی لوگوں نے جائے وقوعہ سے 50 کلومیٹر دور کوٹ بنگلو تک ملزمان کا پیچھا کیا تاہم ملزمین فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ لڑکے کو بچانے کی کوشش کے دوران اغوا کاروں نے مبینہ طور پر اس پر فائرنگ کردی جس میں ایک شخص زخمی بھی ہوگیا تھا۔

      پڑوسیوں نے لڑکے کو چیختے ہوئے دیکھا۔ راج نے بتایا کہ واقعہ کے فوراً بعد اس نے پولیس کو اطلاع دی جنہوں نے بچے کی بازیابی کی صرف یقین دہانی کرائی۔ پولیس کا کہنا ہے کہ انہوں نے سی سی ٹی وی ریکارڈنگ کی جانچ کی ہے اور معاملے کی تحقیقات شروع کر دی ہے۔ ایس ایچ او رانی پور امیر علی چانگ نے کہا کہ ہم نے کچھ مشتبہ افراد کو بھی گرفتار کیا ہے اور امید ہے کہ ہم لڑکے کو بازیاب کر کے اصل ملزمان کو پکڑنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔

      یہ بھی پڑھیں:
      فلوریڈا میں 8 سال کے بچے نے غلطی سے چلائی گولی، بچی کی موت اور ایک زخمی

      یہ بھی پڑھیں:
      Twitter Account Banned:پاکستان کے چار سفارتخانوں کے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر ہندوستان میں پابندی

      ہندو طبقے کے افراد نے پولیس اسٹیشن کے سامنے دیا دھرنا
      ایک کرانہ کی دکان چلانے والے کمار کے والد ہیرو مل نے بتایا کہ ہمیں ابھی تک اغوا کاروں کی طرف سے کوئی کال موصول نہیں ہوئی تاہم تاوان کی نیت سے ایسے واقعات اکثر ہوتے رہتے ہیں۔ واقعے کے بعد ہندو برادری کے ارکان اور مقامی کارکنوں نے تھانے کے سامنے دھرنا دیا۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ انہوں نے لڑکے کی بازیابی کو یقینی بنانے اور مستقبل میں ایسے واقعات کو روکنے کے لیے علاقے میں سخت سیکیورٹی کا مطالبہ کیا۔
      Published by:Shaik Khaleel Farhaad
      First published: