உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Monkeypox: عالمی ادرہ صحت کا 23 جون کو ہنگامی اجلاس، مونکی پاکس پر ہوگا اہم فیصلہ

    یہ بیماری مونکی پوکس وائرس کی وجہ سے ہوتی ہے۔

    یہ بیماری مونکی پوکس وائرس کی وجہ سے ہوتی ہے۔

    مونکی پاکس کے کیسوں کی اکثریت (84 فیصد) تصدیق شدہ کیسز یورپی خطے سے ہیں، اس کے بعد امریکہ، افریقہ، مشرقی بحیرہ روم کا علاقہ اور مغربی بحر الکاہل کا علاقہ ہے۔ ڈبلیو ایچ او کا خیال ہے کہ کیسز کی اصل تعداد زیادہ ہے۔

    • Share this:
      ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (World Health Organization) کا کہنا ہے کہ اس نے وائرس کے ردعمل کو بہتر طور پر معلوم کرنے کے لیے مونکی پاکس سے متعلق اپنے ڈیٹا میں کئی ممالک کے درمیان فرق کو ختم کر دیا ہے۔ پچھلے چند مہینوں تک مونکی پوکس عام طور پر مغربی اور وسطی افریقہ تک محدود تھا لیکن اب کئی براعظموں میں موجود ہے۔

      ڈبلیو ایچ او نے 17 جون کو اپنی وباء کی صورتحال کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ہم مقامی اور غیر مقامی ممالک کے درمیان فرق کو ختم کر رہے ہیں، جہاں ممکن ہو سکے وہاں اس بارے میں کوشش کررہے ہیں کہ لوگوں کو اس بارے میں صحیح سے معلوم ہوسکے۔

      اس میں کہا گیا ہے کہ یکم جنوری سے 15 جون کے درمیان 42 ممالک میں 2,103 تصدیق شدہ کیسز، ایک ممکنہ کیس اور ایک موت کی اطلاع ڈبلیو ایچ او کو دی گئی ہے۔ جنیوا میں قائم اقوام متحدہ کی صحت کی ایجنسی 23 جون کو ایک ہنگامی اجلاس منعقد کرنے والی ہے تاکہ اس بات کا تعین کیا جا سکے کہ آیا عالمی منکی پوکس کے پھیلنے کو بین الاقوامی تشویش کی عوامی صحت کی ایمرجنسی کے طور پر درجہ بندی کی جائے یا نہیں؟۔ یہ عہدہ اقوام متحدہ کی ایجنسی کی طرف سے سب سے زیادہ خطرے کی گھنٹی ہے۔

      یہ بھی پڑھیں:
      Urfi Javed Video:فوائل پیپر کی ڈریس کہنے والوں پر بھڑکی عرفی جاوید، کہی یہ بات

      مونکی پاکس کے کیسوں کی اکثریت (84 فیصد) تصدیق شدہ کیسز یورپی خطے سے ہیں، اس کے بعد امریکہ، افریقہ، مشرقی بحیرہ روم کا علاقہ اور مغربی بحر الکاہل کا علاقہ ہے۔ ڈبلیو ایچ او کا خیال ہے کہ کیسز کی اصل تعداد زیادہ ہے۔
      مزید پڑھیں: Celebs Education:سونوسود نے انجینئرنگ تو سنیل شیٹی نے ہوٹل مینجمنٹ میں حاصل کی ڈگری، جانیے کتنے تعلیم یافتہ ہیں بالی ووڈ کے یہ ستارے

      مونکی پوکس کی عام ابتدائی علامات میں تیز بخار، سوجن لمف نوڈس اور چھالے والے چکن پاکس جیسے خارش شامل ہیں۔ تاہم یو ایس سینٹرز فار ڈیزیز کنٹرول اینڈ پریوینشن نے کہا ہے کہ موجودہ کیسز میں ہمیشہ فلو جیسی علامات ظاہر نہیں ہوتیں، اور دانے بعض اوقات مخصوص علاقوں تک محدود ہوتے ہیں۔
      Published by:Mohammad Rahman Pasha
      First published: