உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Monkeypox:منکی پاکس بیماری 15 ملکوں تک پہنچی، اسرائیل و آسٹریا میں ملے کیس

    15 ممالک تک پہنچا منکی پاکس۔

    15 ممالک تک پہنچا منکی پاکس۔

    Monkeypox: ہیڈ کا کہنا ہے کہ برطانیہ کے ہیلتھ اتھارٹیز اور ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن نے بھی ماضی میں پھیلنے والے منکی پوکس کے بارے میں کہا ہے کہ جب تک متاثرہ افراد کو خارش اور زخم ہوتے ہیں تب تک ایک سے دوسرے میں انفیکشن کا خطرہ رہتا ہے۔

    • Share this:
      Monkeypox:منکی پاکس کی وباء بڑھ رہی ہے۔ اسرائیل اور آسٹریا میں بھی منکی پاکس کے کیسز کی تصدیق ہوئی ہے۔ اس کے ساتھ یہ بیماری اب تک 15 ممالک میں پھیل چکی ہے۔ اس سے قبل ہفتے کے روز سوئٹزرلینڈ میں منکی پاکس کے پہلے کیس کی تصدیق ہوئی تھی۔ نیدرلینڈ کے ہیلتھ حکام نے بھی ہفتے کے روز منکی پاکس کے متعدد کیسز کی تصدیق کی۔ پہلا کیس جمعہ کو یہاں پایا گیا۔

      بی بی سی نے رپورٹ کیا ہے کہ اسرائیل دیگر مشتبہ کیسوں کی تحقیقات کر رہا ہے۔ یورپ، امریکہ، کینیڈا اور آسٹریلیا میں حالیہ وباء میں 80 سے زائد کیسز کی تصدیق ہو چکی ہے۔ برطانیہ کی نیشنل ہیلتھ سروس کے مطابق زیادہ تر متاثرہ افراد چند ہفتوں میں صحت یاب ہو جاتے ہیں۔ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (ڈبلیو ایچ او) نے کہا ہے کہ کئی دیگر مشتبہ کیسز کی تحقیقات کی جا رہی ہیں۔

      آپ کو بتادیں کہ ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ منکی پوکس کے مریض چار ہفتوں تک انفیکشن پھیلا سکتے ہیں۔ ڈیلی میل کی ایک رپورٹ کے مطابق جان ہاپکنز یونیورسٹی کے متعدی امراض کے ماہر امیش ادلجا نے ایک انٹرویو میں خبردار کرتے ہوئے یہ معلومات دی ہیں۔

      یہ بھی پڑھیں:
      Explained: موزمبیق میں 1992 کےبعدپہلی بارجنگلی پولیو وائرس کےکیس کی تصدیق! یہ کیا ہے؟

      انہوں نے بتایا کہ جو لوگ اس وائرس سے متاثر ہوتے ہیں انہیں پہلے بخار ہوتا ہے اور پھر چہرے اور جسم پر دانے اور جلد کے زخم ہوتے ہیں۔ اس کے بعد یہ متاثرہ حصے کو چھونے اور بلغم اور چھینکوں سے پھیلتا ہے۔ جلد پر زخم بھرنے میں چند ہفتے لگتے ہیں۔ اس میں مبتلا افراد اس وقت تک متعدی ہوتے ہیں جب تک کہ ان کی جلد کے زخم خشک نہ ہوجائیں۔

      یہ بھی پڑھیں:
      Monkeypox:کتنا خطرناک ہے منکی پاکس،کیسے پھیلتا ہے، علاج، علامات اور بچاؤ کے کیا ہیں طریقے؟

      زخم رہنے تک انفیکشن کا رہتا ہے خطرہ
      برطانیہ کی ساؤتھمپٹن ​​یونیورسٹی کے ماہر صحت مائیکل ہیڈ بھی ادلجا سے اتفاق کرتے ہیں۔ ہیڈ کا کہنا ہے کہ برطانیہ کے ہیلتھ اتھارٹیز اور ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن نے بھی ماضی میں پھیلنے والے منکی پوکس کے بارے میں کہا ہے کہ جب تک متاثرہ افراد کو خارش اور زخم ہوتے ہیں تب تک ایک سے دوسرے میں انفیکشن کا خطرہ رہتا ہے۔ یہ ایک ماہ تک ہوسکتا ہے۔
      Published by:Shaik Khaleel Farhaad
      First published: