اپنا ضلع منتخب کریں۔

    12 ملین سے زیادہ چینی گھرانوں کو آکسیجن وینٹی لیٹرز کی پڑ سکتی ہے ضرورت، لیکن....؟

    عدم اطمینان بڑھتا جا رہا ہے

    عدم اطمینان بڑھتا جا رہا ہے

    بیجنگ میں حکام کی جانب سے کووڈ۔19 کی وبا سے نمٹنے کے لیے ناکافی انتظامات کی وجہ سے بہت سے شہری وینٹی لیٹرز اور آکسیجن مشینیں خرید رہے ہیں۔ چین میں کووڈ۔19 کے ضمن میں حکومت کی جانب سے زیرو ٹالیرنس پالیسی کے خلاف احتجاج نے دارالحکومت بیجنگ، عالمی اقتصادی مرکز شنگھائی اور دیگر مقامات کو ہلا کر رکھ دیا۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • China
    • Share this:
      عالمی میڈیا رپورٹس کے مطابق چین میں ان دنوں عالمی وبا کورونا وائرس (Covid-19) کے کیسز بڑھ رہے ہیں، بیجنگ میں حکام کی جانب سے کووڈ۔19 کی وبا سے نمٹنے کے لیے ناکافی انتظامات کی وجہ سے بہت سے شہری وینٹی لیٹرز اور آکسیجن مشینیں خرید رہے ہیں۔ چین میں کووڈ۔19 کے ضمن میں حکومت کی جانب سے زیرو ٹالیرنس پالیسی کے خلاف احتجاج نے دارالحکومت بیجنگ، عالمی اقتصادی مرکز شنگھائی اور دیگر مقامات کو ہلا کر رکھ دیا۔

      چینی سنسرشپ کے خلاف بھی مظاہرے ہوئے کیونکہ کووڈ زیرو کی وجہ سے ارومچی میں ایک اپارٹمنٹ میں آگ لگنے سے 10 افراد کے مرنے کی خبر کو بھی سنسر کیا گیا تھا۔ میڈیکل اسٹورز چلانے والے لوگوں نے فنانشل ٹائمز کو بتایا کہ کووڈ-19 کے علاج کے لیے استعمال ہونے والے آلات کی فروخت میں لگاتار اضافہ ہورہا ہے۔ اس کی علامات 11 نومبر سے شروع ہوگئیں ہیں، جو کہ مسلسل بڑھ رہی ہے۔ چونگ کنگ میں قائم ایک مالیاتی فرم ساؤتھ ویسٹ سیکیورٹیز کے اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے خبر رساں ایجنسی نے کہا کہ کم از کم 12 ملین چینی گھرانوں کو وینٹی لیٹرز اور آکسیجن مشینیں خریدنے کی ضرورت پڑسکتی ہے۔

      یہ بھی پڑھیں: 

      خبر رساں ایجنسی نے وی چیٹ سے ڈیٹا تک رسائی حاصل کی اور وینٹی لیٹرز اور آکسیجن مشینوں اور آکسی میٹرز کی تلاش کو دیکھا جس میں تقریباً 90 گنا اضافہ ہوا۔ اس نے مزید کہا کہ جب بیجنگ نے کچھ پابندیوں میں نرمی کی تو وینٹی لیٹرز کی تلاش معمول سے 80 گنا زیادہ تھی۔

      چینی شہریوں نے فنانشل ٹائمز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے وینٹی لیٹر خریدنے کے لیے 500 ڈالر سے زیادہ اور آکسیجن مشین کے لیے 100 ڈالر سے زیادہ کی رقم خرچ کی۔ ان کا کہنا تھا کہ اسپتالوں میں مریضوں کی آمد اور بستروں کی کمی نظر آئے گی۔
      Published by:Mohammad Rahman Pasha
      First published: