உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    روئے زمین پر بنائی گئی سب سے مہنگی چیز کی قیمت جان کر اڑجائیں گے آپ کے ہوش، کیلکولیٹر بھی نہیں لگا پائے گا حساب!

    روئے زمین پر بنائی گئی سب سے مہنگی چیز کی قیمت جان کر اڑجائیں گے آپ کے ہوش

    روئے زمین پر بنائی گئی سب سے مہنگی چیز کی قیمت جان کر اڑجائیں گے آپ کے ہوش

    کیا زمین پر بنائی گئی سب سے مہنگی چیز برج خلیفہ عمارت ہے یا پھر کوئی قیمتی ہیرا، یا کسی کاروباری کا بنگلہ یا پھر کچھ اور ہے ؟

    • Share this:
      روئے زمین پر ہر دن الگ الگ چیزیں بنائی جاتی ہیں ۔ قلم سے لے کر جہاز تک تو ایک کمرے کے مکان سے لے کر 20 منزلہ عمارت تک ، دنیا کے سبھی ملک کسی نہ کسی چیز کی تعمیر کرتے رہی رہتے ہیں ، مگر کیا آپ نے کبھی سوچا ہے کہ اس زمین پر بننے والی ہر چیز میں سے سب سے مہنگی چیز کونسی ہے اور اس کی قیمت کتنی ہے ۔

      کیا زمین پر بنائی گئی سب سے مہنگی چیز برج خلیفہ عمارت ہے یا پھر کوئی قیمتی ہیرا، یا کسی کاروباری کا بنگلہ یا پھر کچھ اور ہے ؟ آپ کو بتادیں کہ زمین پر بنائی گئی سب سے قیمتی چیز دراصل زمین پر موجود ہی نہیں ہے ۔ وہ زمین سے باہر ہے ۔ سی این بی سی کی ایک رپورٹ کے مطابق انٹرنیشنل اسپیس اسٹیشن دنیا میں بنائی گئی سب سے مہنگی چیز ہے ۔ اس اسپیس اسٹیشن کی قیمت 150 بلین ڈالر ہے یعنی پندرہ ہزار کروڑ ڈالر ۔ اگر روپے میں اس کا اندازہ لگایا جائے تو کیلکولیٹر بھی اس کی گنتی نہیں کرپائے گا ۔

      تصویر : Twitter/@NASA
      تصویر : Twitter/@NASA


      رپورٹس کی مانیں تو ناسا کو ہر سال 400 کروڑ ڈالر انٹرنیشنل اسپیس سینٹر کو مینٹین کرنے کیلئے خرچ کرنا پڑتا ہے ۔ اسپیس اسٹیشن کا پورا سسٹم سیٹ اپ کرنا اتنا مشکل تھا کہ کئی ممالک کو اس اسپیس سینٹر کو بنانے میں اپنا کردار ادا کرنا پڑا تھا ۔ امریکہ ، روس ، یوروپ ، کناڈا اور جاپان نے اس سینٹر کو بنانے کیلئے فنڈ دئے تھے ۔

      اگر آپ سوچ رہے ہیں کہ اسپیس سینٹر میں ہیرے یا قیمتی جواہرات جڑے ہیں ، اس لئے یہ اتنا منہگا ہے تو آپ غلط ہیں ۔ گرینج ویب سائٹ کی رپورٹ کے مطابق اسپیس اسٹیشن کی لیب ، اور دوسری سہولیات اتنی جدید ہیں کہ انہیں بنانے میں یہ سارے پیسے خرچ ہوئے ہیں ۔ نومبر 2000 سے شروع ہوئے انٹرنیشنل اسپیس اسٹیشن میں الگ الگ ممالک کے ایسٹروناٹس رہتے ہیں ، جو خلا میں رہ کر دوسرے پلانیٹس کے اوپر ریسرچ کرتے ہیں ۔
      Published by:Imtiyaz Saqibe
      First published: