உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    ماں نے بیٹی کو محبت کرنے کی دی ایسی سزا ، جان کر کانپ جائے گی روح!

    ماں نے بیٹی کو محبت کرنے کی دی ایسی سزا ، جان کر کانپ جائے گی روح! ۔ تصویر : Wikimedia Commons

    ماں نے بیٹی کو محبت کرنے کی دی ایسی سزا ، جان کر کانپ جائے گی روح! ۔ تصویر : Wikimedia Commons

    یوں تو یہ معاملہ کافی پرانا ہے ، مگر آج بھی لوگ اس کے بارے میں بات کرتے ہیں ۔ سال 1901 میں فرانس میں کرائم سے وابستہ ایک ایسا کیس سامنے آیا تھا ، جس نے سبھی کو ہلا کر رکھ دیا تھا ۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Share this:
      آپ نے اکثر فلموں میں دیکھا ہوگا کہ عاشقوں کو پیار کرنے کی سزا دی جاتی ہے ۔ خواہ گھر والوں کی طرف سے یا پھر فلم کے ویلن کی طرف سے ، انہیں کافی پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔ یوں تو وہ سنیما ہوتا ہے ، مگر اس کے باوجود بھی لوگ فلم سے وابستگی محسوس کرنے لگتے ہیں اور عاشقوں کو دیکھ کر دکھی ہوجاتے ہیں ۔ مگر اصل زندگی میں ایک ایسا واقعہ دنیا کے سامنے آچکا ہے جب ایک لڑکی کو اپنی مرضی کے لڑکے سے پیار کرنے کی اتنی بڑی سزا ملی تھی کہ جو بھی اس بارے میں سنتا ہے وہ دنگ رہ جاتا ہے ۔ اس خاتون کو کسی اور نے نہیں بلکہ اس کی ماں اور بھائی نے ہی ایسی اذیتیں دیں ، جو تاریخ میں نہ کبھی سنی گئیں اور نہ دیکھی گئیں ۔

      یوں تو یہ معاملہ کافی پرانا ہے ، مگر آج بھی لوگ اس کے بارے میں بات کرتے ہیں ۔ سال 1901 میں فرانس میں کرائم سے وابستہ ایک ایسا کیس سامنے آیا تھا ، جس نے سبھی کو ہلا کر رکھ دیا تھا ۔ بلینک مونیئر نام کی 25 سال کی خاتون اپنی خوبصورتی کیلئے کافی مشہور تھیں ۔ ان کے والد کا انتقال ہوچکا تھا ، اس لئے ان کی ماں میڈم مونیئر اپنی بیٹی کی شادی کے بھروسے ہی تھیں ۔ وہ چاہتی تھیں کہ وہ اپنی بیٹی کی شادی کسی امیر گھرانے میں کریں، جس سے ان کی بیٹی ان کے بڑھاپے کو بھی سنوار سکے اور ان کا بھی خرچ اٹھانے لگے ۔ مگر بلینک کا کچھ اور ہی ارادہ تھا ۔ 1876 میں ایک لڑکے سے ملیں ، جس سے انہیں پیار ہوگیا ۔ یہی نہیں خاتون اور ان کے عاشق جسمانی طور پر بھی ایک دوسرے سے نزدیک آگئے تھے ۔ جب بلینک کی ماں نے اس کو بتایا کہ وہ امیر لڑکے سے شادی کروائے گی تو بلینک نے فورا انکار کردیا اور کہا کہ وہ پیسوں کے بدلے پیار کو منتخب کریں گی ۔

      بیٹی کو ملی پیار کی سزا

      اس کے بعد بلینک کے ساتھ جو ہوا وہ دل دہلا دینے والا تھا ۔ میڈم مونیئر اور بیٹے مارسیل نے بلینک کو گھر پر ہی ایک اندھیرے کمرے میں قید کردیا ، جس میں کھڑکی بھی نہیں تھی ۔ جب بلینک نے چیخنا شروع کیا تو آس پاس کے لوگ سوال کرنے لگے ۔ تب خاتون کی ماں نے سبھی سے کہا کہ ان کی بیٹی پاگل ہوچکی ہے ، اس لئے انہوں نے اس کو کمرے میں بند کردیا ہے ۔ اس کے بعد لوگوں نے پوچھنا بند کردیا ۔ کچھ وقت بعد جب بلینک کمزور ہوتی چلی گئی تو اس کی ماں نے سب کو جھوٹ بول دیا کہ بلینک کی موت ہوگئی ہے اور اس کے بعد انہوں نے بیٹی کا فرضی آخری رسوم بھی ادا کردی ۔

      تصویر : Youtube


      دردناک ہوچکی تھی بیٹی کی حالت

      دھیرے دھیرے بلینک کی طبیعت بگڑتی چلی گئی ۔ وہ کمزور ہوتی گئی ۔ ایک نوکر انہیں تھوڑا سا کھانا دے دیتا تھا ۔ بلینک کو اسی اندھیرے کمرے میں قضائے حاجت کرنی پڑتی تھی اور رہنا پڑتا تھا ۔ ایک بھی کھڑکی نہیں ہونے کی وجہ سے کمرے میں سورج کی روشی بھی نہیں آتی تھی ، جس کی وجہ سے بلینک کا جسم سوکھتا جارہا تھا ۔ کمرے میں چوہے اور کیڑے مکوڑے گھومنے لگے تھے جو کھانے کیلئے ان کا ہی کھانا اور ان کے جسم کو نوچنے لگے تھے ۔ 25 سالوں میں وہ اتنی کمزور ہوگئی تھیں کہ ان کا وزن صرف 25 کلو ہی رہ گیا تھا ۔ دھیرے دھیرے وہ سچ میں پاگل ہوگئی ۔ وہ بولنا بھی بھول گئی ۔ وہ صرف لفظ بول پاتی تھی ، پورا جملہ نہیں بول پاتی تھی۔

      ڈیلی اسٹار کی ایک رپورٹ کے مطابق 23 مئی 1901 کو پیرس کے اٹارنی جنرل کو ایک خط ملا ، جس میں یہ لکھا تھا کہ بلینک نام کی خاتون کو 25 سالوں تک اس کی ماں میڈم مونیئر نے اپنے گھر کی بالائی منزل پر کمرے میں بند کر رکھا ہے ۔ میڈم مونیئر کافی مشہور گھر سے تعلق رکھتی تھیں ، اس لئے شروعات میں پولیس کو جانچ کرنے میں جھجھک ہوئی ، مگر پھر انہوں نے جانچ کیلئے آگے قدم بڑھایا اور پھر جو انکشافات ہوئے اس سے وہ بھی حیران رہ گئے ۔

       
      Published by:Imtiyaz Saqibe
      First published: