உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    سیکس کے دوران پریشان کرتی تھی 16 ماہ کی بچی، ہم جنس پرست ماں نے بیٹی کو دے دی ایسی موت

    سیکس کے دوران پریشان کرتی تھی 16 ماہ کی بچی، ہم جنس پرست ماں نے بیٹی کو دے دی ایسی موت

    سیکس کے دوران پریشان کرتی تھی 16 ماہ کی بچی، ہم جنس پرست ماں نے بیٹی کو دے دی ایسی موت

    فرینکی اسمتھ (20 سال) اپنی پارٹنر سوانا برائیک ہل (28 سال) کے ساتھ رہتی ہے۔ دونوں ننہی ہابسن کو مارنے سے انکار کرتی ہیں، لیکن پولیس کو دونوں کے خلاف کافی ثبوت ملے ہیں۔

    • Share this:
      برطانیہ کی رہنے والی 20 سالہ خاتون نے اپنی 28 سالہ ہم جنس پرست پارٹنر کے ساتھ مل کر 16 ماہ کی بیٹی کا قتل کردیا۔ دونوں نے معصوم بچی کا گلا گھونٹ دیا، تاکہ دونوں کے ریلیشن میں کوئی رکاوٹ نہ آئے۔ فی الحال معاملہ عدالت میں زیر غور ہے۔ فرینکی اسمتھ (20 سال) اپنی پارٹنر سوانا برائیک ہل (28 سال) کے ساتھ رہتی ہے۔ دونوں ننہی ہابسن کو مارنے سے انکار کرتی ہیں، لیکن پولیس کو دونوں کے خلاف کافی ثبوت ملے ہیں۔

      فرینکی اسمتھ کی سوتیلی بہن ایلیسیا سیپلر نے پولیس کو سی سی ٹی وی فوٹیج ثبوت دیتے ہوئے کہا کہ کیسے دونوں ہم جنس پرست پارٹنر مل کر بچی کا کبھی بھی قتل کرسکتے ہیں۔ اسمتھ کی ماں اپنی یوون اسپینڈلی نے بھی اس افسوسناک معاملے میں عدالت میں ثبوت دیئے۔ انہوں نے بتایا کہ کیسے ایک بار بچی کو دھوپ میں کئی گھنٹوں تک بھوکا رکھا گیا تھا۔

      پولیس کے مطابق، لیزبین پارٹنر (ہم جنس پرست) نے بچی کو مارنے سے پہلے گوگل پر موت کے طریقے بھی تلاش کئے تھے۔ اسمتھ کے لیپ ٹاپ کے سرچ ہسٹری میں پولیس کو اس کے ثبوت بھی ملے ہیں۔ فرینکی اسمتھ نے گوگل پر سرچ کیا تھا کہ بغیر نیند کے بچی کتنے دن تک زندہ رہ سکتی ہے؟ ساتھ ہی کس جگہ چوٹ لگنے پر بچی کی فوراً موت ہوسکتی ہے؟ فی الحال عدالت میں اس معاملے کی سماعت ابھی جاری رہے گی۔

      اس پورے معاملے سے ایک طرف یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ برطانیہ کی ہم جنس پرست پارٹنر فرینکی اسمتھ (20 سال) اور سوانا برائیک بل (28 سال) کو شک کی نظر سے دیکھا جا رہا ہے کیونکہ ان کے خلاف ثبوت بھی جمع کئے جا رہے ہیں۔ اس پورے معاملے پر پولیس کی تفتیش میں بھی اس کے ثبوت ملے ہیں، تاہم معاملہ عدالت میں زیر غور ہے، لیکن اتنی بات تو طے ہوگئی ہے کہ انہوں نے اپنی خواہش میں رخنہ اندازی کے لئے کچھ غلط تو ضرور کیا ہے۔
      Published by:Nisar Ahmad
      First published: