ملاعمر کی موت کی تصدیق کے بعد طالبان-افغان حکومت امن مذاکرات پر خطرات کے بادل

طالبان کے ترجمان نے افغان حکومت کے ساتھ امن مذاکرات کے ذریعہ افغانستان میں 14 سال سے جاری خانہ جنگی اور سیاسی خلفشار کو ختم کرنے کی کوششوں پر آج یہ کہتے ہوئے پانی پھیر دیا کہ اس بات چیت کے بارے میں انہيں کوئي علم نہيں ہے

Jul 30, 2015 05:07 PM IST | Updated on: Jul 30, 2015 05:07 PM IST
ملاعمر کی موت کی تصدیق کے بعد طالبان-افغان حکومت امن مذاکرات پر خطرات کے بادل

کابل :  طالبان کے ترجمان نے افغان حکومت کے ساتھ امن مذاکرات کے ذریعہ افغانستان میں 14 سال سے جاری خانہ جنگی اور سیاسی خلفشار کو ختم کرنے کی کوششوں پر آج یہ کہتے ہوئے پانی پھیر دیا کہ اس بات چیت کے بارے میں انہيں کوئي علم نہيں ہے اور نہ اس میں ان کی شمولیت ہے۔افغان طالبان کے رسمی ترجمان کا یہ بیان ایسے وقت میں آیا ہے جب ایک روز قبل ہی افغان حکومت اور انٹلیجنس نے پڑوسی ملک پاکستان میں دوسال پہلے طالبان کے امیر ملا عمر کے مرنے کی تصدیق کی ہے۔ملاعمر کے انتقال کی خبر کے بعد پہلے سے تقسیم و انتشار کا شکار طالبان گروپ میں اندرونی جنگ تیز ہوسکتی ہےاور تعطل کے شکار امن بات چیت کی کوششوں پر بھی پانی پھیر سکتا ہے۔افغان حکومت اور طالبان کے درمیان مذاکرات کے متوقع  وسرے راونڈ کے آغاز کے موقع پر ایسے بیانات کا سامنے آنا قیام امن کی کوششوں کے لیے اچھا شگون نہیں مانا جا رہا ہے۔7 جولائی کو پاکستان میں ہونے والے مذاکرات کے بعد8 جولائی کو طالبان کی رہبر شوریٰ نے ایک بیان جاری کیا تھا، جس میں پاکستان کے سیاحتی مقام 'مری' میں ہونے والے مذاکرات کا ذکر نہیں کیا گیا تھا۔ لیکن بیان میں بات واضح طور پر کہا گیا تھا کہ آئندہ مذاکرت کا اختیار صرف اور صرف سیاسی دفتر ہی کو حاصل ہو گا۔

دریں اثناء، طالبان باغیوں کی طرف سے درپیش خطرے کی ایک تازہ یاددہانی کے طورپر آج صوبہ ہیلمند کے جنوبی ضلع پر طالبان جنگجوؤں نے قبضہ کرلیا ہے، جو افغانستان کی مغربی حمایت یافتہ حکومت کو بے دخل کرنےکے لئے پرسرپیکار ہے۔ یہ ضلع انتہائی مخدوش ہے اور ناٹو اتحاد کے تحت مغربی فوجی دستے اس پر قبضہ کے لئے برسوں تک کوشش کرتے رہے تھے۔ خیال رہے کہ طالبان نے2014 میں افغانستان سے ناٹو کا جنگی مشن ختم ہونے کے بعد ملک کے متعدد علاقوں کو اپنے کنٹرول میں لے لیا ہے، جہاں اب افغان فوج کو شدت پسندوں کی طرف سے سخت چیلنج کا سامنا ہے اور کشیدگی کی حالت میں ہرسال ہزاروں لوگ مارے جارہے ہيں۔طالبان کے باضابطہ ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے آج ایک بیان میں کہا کہ " ہم نے میڈیا کی خبروں سے سنا ہے کہ امارت اسلامی اور کابل انتظامیہ کے درمیان امن مذاکرات کے دوسرے مرحلے کی بات چیت جلد ہی پاکستان یا چین میں شروع ہونے والی ہے۔ امارت اسلامی نے اس سلسلے میں تمام اختیارات اپنے سیاسی دفتر کو سونپ دیا ہے اور وہ انہيں اس بات چیت کے بارے میں کوئی علم نہيں ہے۔قابل ذکر ہے کہ طالبان کا یہ سیاسی دفتر قطر میں واقع ہےجو تمام طرح کے سیاسی امور کے لئے قائم کیا گیا ہے۔ تاہم، ترجمان نے اپنے بیان میں اپنے امیر ملا عمر کے بارے میں کچھ نہيں کہا۔ طالبان کی طرف سے ابھی تک ملا عمر کی موت کے بارے میں باضابطہ اعلان نہيں کیا گیا ہے۔

Loading...

Loading...