ہوم » نیوز » عالمی منظر

افغانستان: سلسلہ وار دھماکوں سے لرز اٹھا کابل، 5 لوگوں کی موت، 21 سے زائد زخمی

فی الحال معاملے کو لے کر حکام نے کوئی بھی ردعمل ظاہر نہیں کیا ہے۔ حالانکہ، وزارت داخلہ کا کہنا ہے کہ ہفتے کی صبح دو چھوٹے ' سٹکی بامب' سے دھماکے ہوئے تھے۔ ان میں سے ایک نے پولیس کی کار کو نشانہ بنایا تھا جس میں ایک پولیس اہلکار کی موت ہو گئی تھی اور تین زخمی ہو گئے تھے۔

  • Share this:
افغانستان: سلسلہ وار دھماکوں سے لرز اٹھا کابل، 5 لوگوں کی موت، 21 سے زائد زخمی
علامتی تصویر

کابل۔ افغانستان کا دارالحکومت کابل (Kabul) ہفتہ کو ہوئے سلسلہ وار دھماکوں (Blast) سے لرز اٹھا۔ اے ایف پی کی طرف سے اس معاملہ کی جانکاری دی گئی ہے۔ یہ دھماکے شہر کے بیچوں بیچ واقع گھنی آبادی والے گرین زون اور شمالی علاقے میں ہوئے۔ ان دھماکوں میں 5 لوگوں کی موت جبکہ 21 سے زائد کے زخمی ہونے کی اطلاع ہے۔ حالانکہ، اس کی تعداد کی کوئی تصدیق شدہ رپورٹ نہیں ملی ہے۔ مسلسل ہوئے دھماکوں کی آواز سے ایسا لگ رہا تھا کہ ایک کے بعد ایک مسلسل راکٹ داغے گئے ہیں۔


فی الحال معاملے کو لے کر حکام نے کوئی بھی ردعمل ظاہر نہیں کیا ہے۔ حالانکہ، وزارت داخلہ کا کہنا ہے کہ ہفتے کی صبح دو چھوٹے ' سٹکی بامب' سے دھماکے ہوئے تھے۔ ان میں سے ایک نے پولیس کی کار کو نشانہ بنایا تھا جس میں ایک پولیس اہلکار کی موت ہو گئی تھی اور تین زخمی ہو گئے تھے۔


اس دھماکے سے متعلق کچھ فوٹیج سوشل میڈیا پر بھی وائرل ہو رہے ہیں جس میں دکھایا جا رہا ہے کہ راکٹ نے عمارتوں میں سوراخ کر دئیے ہیں۔ حالانکہ، ان تصویروں کی صداقت کی جانچ نہیں ہو سکی ہے۔ غور طلب ہے کہ یہ دھماکے امریکی وزیر خارجہ مائک پومپیو اور طالبان اور قطر کی خلیج ریاست کی افغان حکومت کی میٹنگ سے پہلے ہوئے ہیں۔ ہفتہ کو ہوئے ان دھماکوں کی ابھی تک کسی بھی تنظیم نے ذمہ داری نہیں لی ہے۔


طالبان نے حلف لیا ہے کہ وہ یو ایس وتھڈراول ڈیل کے تحت کسی بھی شہری علاقے میں حملہ نہیں کریں گے لیکن کابل انتظامیہ نے حال میں ہوئے حملوں کے لئے ان کے باغیوں یا ان کے حامیوں پر الزام لگائے ہیں۔ خاص بات یہ ہے کہ طالبان اور افغان حکومت کی طرف سے بات چیت کا عمل ستمبر سے شروع ہو گیا ہے لیکن اس کی سست رفتار بنی ہوئی ہے۔
Published by: Nadeem Ahmad
First published: Nov 21, 2020 11:44 AM IST