میونخ کے نوعمر حملہ آور کا اسلامک اسٹیٹ سے کوئی تعلق نہیں : جرمن پولیس

میونخ پولیس کے ایک ترجمان نے بتایا کہ جائے وقوع کے قریب مردہ پائے گئے شخص نے خودکشی کی اورپورا امکان ہے کہ یہی تنہا حملہ آور تھا۔

Jul 23, 2016 06:16 PM IST | Updated on: Jul 23, 2016 06:16 PM IST
میونخ کے نوعمر حملہ آور کا اسلامک اسٹیٹ سے کوئی تعلق نہیں : جرمن پولیس

برلن : ایرانی نژاد جرمن نوعمر جس نے میونخ میں 9 افراد کو گولی مارکر ہلاک کرنے کے بعد خودکشی کرلی، غالباً تنہا حملہ آور تھا اور اس کا اسلامک اسٹیٹ سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ یہ اطلاع پولیس نے دی ہے۔

پولیس نے یہ بھی بتایا کہ اس کا نفسیاتی علاج بھی ہوا تھا۔ میونخ پولیس کے ایک ترجمان نے بتایا کہ جائے وقوع کے قریب مردہ پائے گئے شخص نے خودکشی کی اورپورا امکان ہے کہ یہی تنہا حملہ آور تھا۔ اس 18 سالہ نوجوان نے ایک مصروف شاپنگ مال کے قریب مذکورہ واردات کو انجام دیا۔ اس کی پشت پر بندھے ہوئے تھیلے میں تین سو گولیاں پائی گئیں۔ اس کی موت گولی لگنے سے ہوئی۔

اس حملہ آور کے کمرے کی تلاشی مکمل ہونے کے بعد میونخ پولیس کے سربراہ ہیوبرٹس آنڈرے نے شاپنگ مال میں ہوئی ہلاکتوں کا اسلامک اسٹیٹ سے کوئی تعلق ہونے کو خارج از امکان قرار دیا۔ مسٹر آنڈرے نے ایک اخباری کانفرنس میں بتایا کہ تلاشی کے دوران ہمیں اس طرح کا کوئی سراغ نہیں ملا ہے جس سے اس واقعہ کا اسلامک اسٹیٹ یا پناہ گزینوں کے مسئلے سے تعلق ثابت ہو۔تفتیش کاروں نے ایسی کوئی وجہ بھی نہیں بتائی ہے کہ جس سے یہ معلوم ہو کہ وہ اس واردات کو انجام دینے میں تنہا نہیں تھا۔

آنڈرے نے یہ بھی بتایا کہ یہ نوعمر قاتل میونخ میں ہی پیدا ہوا تھا اور اس کی پرورش بھی یہیں ہوئی تھی اور اس نے کچھ وقت دماغی علاج کے ایک سنٹر بھی گزارے تھے۔ اس دوران چانسلر انجیلا مارکل آج اپنے چوٹی کے سلامتی مشیروں کے ساتھ صورتحال کا جائزہ لینے کے لئے ملاقات کررہی ہیں اور اس سلسلے میں ایک بیان جاری کریں گی۔ یہ اطلاع ان کے دفتر نے دی۔

Loading...

Loading...