ہوم » نیوز » عالمی منظر

لشکر طیبہ اور جیش محمد کے دہشت گردوں کو تربیت دیتی ہے آئی ایس آئی : پرویز مشرف

اسلام آباد: ممبئی حملے کے مجرم ڈیوڈ کولمین ہیڈلی کے سنسني خیز انکشاف کے بعد اب پاکستان کے سابق صدر اور سابق فوجی سربراہ جنرل (ریٹائرڈ) پرویز مشرف نے اعتراف کیا ہے کہ پاکستان کی انٹیلی جنس ایجنسی آئی ایس آئی لشکر طیبہ اور جیش محمد کے دہشت گردوں کو تربیت دیتی ہے۔

  • UNI
  • Last Updated: Feb 11, 2016 11:55 PM IST
  • Share this:
  • author image
    NEWS18-Urdu
لشکر طیبہ اور جیش محمد کے دہشت گردوں کو تربیت دیتی ہے آئی ایس آئی : پرویز مشرف
پرویز مشرف ۔ فائل فوٹو

اسلام آباد: ممبئی حملے کے مجرم ڈیوڈ کولمین ہیڈلی کے سنسني خیز انکشاف کے بعد اب پاکستان کے سابق صدر اور سابق فوجی سربراہ جنرل (ریٹائرڈ) پرویز مشرف نے اعتراف کیا ہے کہ پاکستان کی انٹیلی جنس ایجنسی آئی ایس آئی لشکر طیبہ اور جیش محمد کے دہشت گردوں کو تربیت دیتی ہے۔


جنرل پرویز مشرف نے ' ٹوڈے انڈیا ٹی وی چینل کو آج دیئے گئے انٹرویو میں ایسے کئی انکشافات کئے ہیں، جن سے ہندوستان اور پاکستان کے تعلقات میں نئے سرے سے کشیدگی پیدا ہو سکتی ہے۔


انہوں نے کہا کہ لشکر طیبہ اور جیش محمد کے دہشت گردوں کو آئی ایس آئی تربیت دیتی ہے اور ہندوستان میں دہشت گردانہ واقعات کو انجام دینے میں مدد دیتی ہے۔تاہم ان کے مطابق ممبئی حملے میں آئی ایس آئی اور پاکستانی فوج کا کوئی کردار نہیں ہے۔


جنرل پرویزمشرف نے کہا کہ ممبئی حملے کے ماسٹرمائنڈ اور جماعت الدعوة کے سرغنہ حافظ سعید کو پاکستان میں 'ہیرو سمجھا جاتا ہے۔ انہوں نے بھی ہندوستان کے خلاف زہر اگلنے والے حافظ سعید کو 'ہیرو کہا جبکہ جیش محمد کے سرغنہ مسعود اظہر کو ایک دہشت گرد قرار دیا۔ سابق فوجی سربراہ کے مطابق کشمیر کے لئے لڑنے والا ہر شخص ایک ہیرو ہے۔


پاکستان کے سابق صدر جنرل مشرف نے ساتھ ہی ہندوستان پر امن مذاکرات کے عمل میں خلل ڈالنے کا الزام بھی لگایا۔ انہوں نے الزام لگایا ہے کہ ہر بار ہندوستان امن بات چیت کو متاثر کرنے کا سبب پیدا کرتا ہے اور صرف دہشت گردی پر ہی بحث کرنا چاہتا ہے۔


ڈیوڈ ہیڈلی کے بیان کے بارے میں جنرل مشرف نے کہا کہ انہیں ہیڈلی کے بیان پر ذرہ بھی بھروسہ نہیں ہے۔ پاکستانی انٹیلی جنس ایجنسی کو بھی ہیڈلی سے پوچھ گچھ کرنے کا موقع دینا چاہئے۔


سابق فوجی سربراہ کے مطابق ہندوستان کی خفیہ ایجنسی پاکستان میں ہونے والے حملوں کے لئے ذمہ دار ہے اور پاکستان کے پاس آر ڈبلیو اے کے خلاف ثبوت ہیں۔  جنرل مشرف کے مطابق لشکر طیبہ پاکستان میں ہونے والی دہشت گردانہ سرگرمیوں میں ملوث نہیں ہے بلکہ اس کے لئے ہندوستان ذمہ دار ہے۔


اطلاعات کے مطابق اس انٹرویو کے بعد جنرل مشرف کی طبیعت خراب ہو گئی ہے اور انہیں فی الحال بحریہ کے ایک اسپتال میں داخل کرایا گیا ہے۔

First published: Feb 11, 2016 11:55 PM IST