உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    کیا اب ٹویٹر کے تمام معطل اکاؤنٹس ہوں گے بحال؟ نئی پیش رفت کے تحت اگلے ہفتے تک ہوگا بڑا فیصلہ

    ایلون مسک فائل فوٹو

    ایلون مسک فائل فوٹو

    جملہ 3,162,112 ووٹ حاصل کرنے کے بعد پول کے نتائج درج ذیل ہیں: 72.4 فیصد لوگوں نے ممنوعہ اکاؤنٹس کو بحال کرنے کے حق میں ووٹ دیا، جب کہ بقیہ 27.6 فیصد نے نہیں کو ووٹ دیا۔ اپنے اس اقدام کی تصدیق کرتے ہوئے ایلون مسک نے ٹویٹ کیا کہ ’لوگ بول چکے ہیں۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • USA
    • Share this:
      ایلون مسک نے بدھ 23 نومبر کو ’جنرل ایمنسٹی‘ (عام معافی) کے بارے میں رائے عامہ کا جائزہ لینے کے لیے ایک نیا پول بنایا۔ اب جب کہ لوگوں نے کچھ ممنوعہ اکاؤنٹس کو بحال کرنے کے لیے ووٹ دیا ہے، تو ٹویٹر کے سربراہ اگلے ہفتے سے معطل اکاؤنٹس کو ’عام معافی‘ فراہم کرنے جا رہے ہیں۔ ایلون مسک نے ایک ٹویٹ میں پوچھا کہ کیا ٹویٹر کو معطل اکاؤنٹس کے لیے عام معافی کی پیشکش کرنی چاہیے، بشرطیکہ انہوں نے قانون کی خلاف ورزی نہ کی ہو یا زبردست اسپام میں ملوث نہ ہوں؟ اس پر دنیا بھر کے صارفین نے اپنا اپنا رع عمل ظاہر کیا۔ جس میں ہاں یا نہیں کا بھی آپشن تھا۔

      جملہ 3,162,112 ووٹ حاصل کرنے کے بعد پول کے نتائج درج ذیل ہیں: 72.4 فیصد لوگوں نے ممنوعہ اکاؤنٹس کو بحال کرنے کے حق میں ووٹ دیا، جب کہ بقیہ 27.6 فیصد نے نہیں کو ووٹ دیا۔ اپنے اس اقدام کی تصدیق کرتے ہوئے ایلون مسک نے ٹویٹ کیا کہ ’لوگ بول چکے ہیں۔ ایمنسٹی اگلے ہفتے شروع ہو رہی ہے۔

      اس مہینے کے شروع میں مسک کے ذریعے بنائے گئے ٹویٹر پول کے نتیجے میں سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا ٹویٹر اکاؤنٹ دوبارہ بحال ہو گیا۔ 51.8 فیصد صارفین نے ٹرمپ کے حق میں ووٹ دیا۔ مسک نے اس کے بعد ٹویٹ کیا اور کہا کہ لوگ بول چکے ہیں۔ ٹرمپ کو دوبارہ بحال کیا جائے گا۔

      یہ بھی پڑھیں: 

      مسک نے ٹویٹ کیا کہ ’میں بہت اچھا وقت گزار رہا ہوں۔ نمستے!‘۔ وہ سمجھتے ہیں کہ ہندوستان ٹویٹر کے لیے ایک اہم مارکیٹ ہے اور کئی ہندوستانی نژاد سافٹ ویئر انجینئرز کمپنی میں کام کر رہے ہیں۔

      ایلون مسک نے منگل کے روز لاکھوں ہندوستانی صارفین اور اپنے فالوورز کو نمستے کے ساتھ مبارکباد دی۔ اب انہوں نے بلیو سروس کو دوبارہ ویریفیکیشن کے لیے روک دیا ہے، جو 29 نومبر سے شروع ہونے والی تھی۔
      Published by:Mohammad Rahman Pasha
      First published: