ہوم » نیوز » عالمی منظر

کیپٹل ہل تشدد معاملے میں امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی مشکلات میں ہوا اضافہ

مائیکرو بلاگنگ سائٹ ٹوئٹر (Twitter) نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ (US President Donald Trump ) کے نجی اکاونٹ کو ہمیشہ کے لئے معطل کر دیا ہے۔ ٹوئٹر کی طرف سے یہ کارروائی امریکی پارلیمنٹ کے احاطے میں ہوئے تشدد (US Capitol violence) کے بعد کی گئی۔ کمپنی کی طرف سے کہا گیا ہے کہ اسے اس بات کا اندشیہ ہے کہ ٹرمپ تشدد کو اور بھڑکا سکتے ہیں۔ اس سے پہلے ٹرمپ کے ٹوئٹر اکاونٹ کو 12 گھنٹے کے لئے بند کیا گیا تھا۔ اس وقت انہیں یہ انتباہ دیا گیا تھا کہ ان کے ٹوئٹر اکاونٹ کو ہمیشہ کے لئے معطل کیا جا سکتا ہے۔

  • Share this:

کیپٹل ہل تشدد معاملے میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی مشکلوں میں اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ امریکی کانگریس کے دونوں ایوانوں میں ٹرمپ مخالفین انھیں عہدے سے ہٹانے کا مطالبہ کررہے ہیں۔ڈیموکریٹک سینیٹر چک شومر نے ڈونلڈ ٹرمپ کو فوری عہدے سے ہٹا دیا جانا چاہیے جبکہ اسپیکر نینسی پلوسی کے مطابق ڈونلڈ ڈرمپ کا مواخدہ ہوسکتا ہے۔لیکن ٹرمپ کو عہدے سے ہٹانے کے لیے ریپبلکن ممبران کی حمایت کی بھی ضرورت ہوگی۔خیال رہے کہ امریکی کانگریس نے صدارتی انتخابات کے نتائج کی توثیق کردی ہے۔جس کے بعد ٹرمپ نے اقتدارکی منظم انداز میں منتقلی پر توجہ دینے کی بات کہی ہے۔نومنتخب صدرجوبائیڈن نے پورے معاملے پر ٹویٹ کیا ہے۔انھوں نے کہا کہ یہ اختلاف نہیں بلکہ فساد اوربے ضابطگی ہے۔کیپٹل ہل پر دھاوا بولنے والے مظاہرین نہیں بلکہ بلوائی ،فسادی اورگھریلو ٹیررسٹ تھے۔وا ضح رہے کہ بدھ کے روز کانگرس کے مشترکہ اجلاس کے دوران کیپٹل ہل پر کیے گیے حملے اور ہنگامہ آرائی میں چار افرادہلاک ہوئے تھے۔اس معاملے میں اڑسٹھ افراد کو اب تک گرفتار کیا جاچکا ہے۔


مائیکرو بلاگنگ سائٹ ٹوئٹر (Twitter) نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ (US President Donald Trump ) کے نجی اکاونٹ کو ہمیشہ کے لئے معطل کر دیا ہے۔ ٹوئٹر کی طرف سے یہ کارروائی امریکی پارلیمنٹ کے احاطے میں ہوئے تشدد (US Capitol violence) کے بعد کی گئی۔ کمپنی کی طرف سے کہا گیا ہے کہ اسے اس بات کا اندشیہ ہے کہ ٹرمپ تشدد کو اور بھڑکا سکتے ہیں۔ اس سے پہلے ٹرمپ کے ٹوئٹر اکاونٹ کو 12 گھنٹے کے لئے بند کیا گیا تھا۔ اس وقت انہیں یہ انتباہ دیا گیا تھا کہ ان کے ٹوئٹر اکاونٹ کو ہمیشہ کے لئے معطل کیا جا سکتا ہے۔


اس سے پہلے بھی ٹوئٹر نے بدھ کو ٹرمپ کا اکاونٹ 12 گھنٹے کے لئے بند کر دیا تھا اور ایک ویڈیو سمیت ان کے تین ٹویٹ ہٹا دئیے تھے۔ کمپنی نے ان کے اکاونٹ پر نظرثانی کرنے کے بعد یہ بڑا فیصلہ لیا ہے۔ ٹوئٹر کی دلیل ہے کہ ٹرمپ بار بار اس کے ضوابط کی خلاف ورزی کر رہے ہیں۔ ٹوئٹر کی اس کارروائی کے بعد ٹرمپ کے کیمپین صلاح کار جیسن ملر نے ٹویٹ کرتے ہوئے ناراضگی جتائی ہے۔


فیس بک کی بھی کارروائی
اس سے پہلے فیس بک نے بدھ کو دو پالیسی خلاف ورزیوں کے سبب ٹرمپ کا اکاونٹ 24 گھنٹے کے لئے بلاک کر دیا تھا۔ فیس بک کے بانی مارک زکربرگ نے جمعرات کو کہا کہ امریکہ کے نومنتخب صدر جو بائیڈن کی حلف برداری تک ملک کے رخصت پذیر صدر ڈونلڈ ٹرمپ فیس بک اور انسٹاگرام کا استعمال نہیں کر پائیں گے۔ یہ حلف برداری تقریب 20 جنوری کو منعقد ہونے والی ہے۔

واضح رہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کے ہزاروں حامی بدھ کو کیپٹل میں گھس آئے اور اس دوران پولیس کے ساتھ ان کی پُرتشدد جھڑپ ہوئی۔ اس حادثہ میں کم از کم چار لوگوں کی موت ہوگئی اور نئے صدر کے طور پر جو بائیڈن کے نام پر مہر لگانے کے آئینی عمل میں رخنہ اندازی ہوئی۔
Published by: Sana Naeem
First published: Jan 09, 2021 12:50 PM IST