உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    NASA: دنیا کا سب سے بڑا جیمز ویب اسپیس ٹیلی اسکوپ ہوا کامیابی سے لانچ، خلا میں انسانی زندگی پر ہوگی تحقیق

    جیمز ویب اسپیس ٹیلی اسکوپ (James Webb Space Telescope) کو خلا میں انسانی زندگی کی کھوج کے لیے استعمال کیا جائے گا۔ ویب کا یہ مشن خلا کے بارے میں ہماری سمجھ کو بدل دے گا جیسا کہ ہم اب تک جانتے آئے ہیں۔ اس ٹیلی اسکوپ کی مدد سے کئی سربستہ رازوں کا انکشاف ہوسکتا ہے۔

    جیمز ویب اسپیس ٹیلی اسکوپ (James Webb Space Telescope) کو خلا میں انسانی زندگی کی کھوج کے لیے استعمال کیا جائے گا۔ ویب کا یہ مشن خلا کے بارے میں ہماری سمجھ کو بدل دے گا جیسا کہ ہم اب تک جانتے آئے ہیں۔ اس ٹیلی اسکوپ کی مدد سے کئی سربستہ رازوں کا انکشاف ہوسکتا ہے۔

    جیمز ویب اسپیس ٹیلی اسکوپ (James Webb Space Telescope) کو خلا میں انسانی زندگی کی کھوج کے لیے استعمال کیا جائے گا۔ ویب کا یہ مشن خلا کے بارے میں ہماری سمجھ کو بدل دے گا جیسا کہ ہم اب تک جانتے آئے ہیں۔ اس ٹیلی اسکوپ کی مدد سے کئی سربستہ رازوں کا انکشاف ہوسکتا ہے۔

    • Share this:
      ناسا (NASA) کی اگلی دہائی کی سب سے بڑی خلائی رصد گاہ سے جیمز ویب اسپیس ٹیلی اسکوپ (James Webb Space Telescope) کو کامیابی سے لانچ کیا گیا ہے۔ اسے خلا میں ’’ٹائم مشین‘‘ کہا جارہا ہے۔ یہ ایک ایسا لمحہ ہے جسے کامیاب بنانے میں کئی دہائیاں گزر چکی ہیں۔ جیمز ویب اسپیس ٹیلی اسکوپ (دوربین) کو 25 دسمبر 2021 کی صبح کامیابی کے ساتھ خلا میں روانہ کیا گیا۔

      فرانسیسی گیانا میں یوروپ کے اسپیس پورٹ سے علی الصبح دوربین کا فضائی سفر شروع ہوا۔ ناسا نے ٹویٹر پر شیئر کیا کہ ’’ہمارے پاس NASAWebb@ اسپیس ٹیلی سکوپ کی LIFTOFF ہے!‘‘۔ جیمز ویب اسپیس ٹیلی اسکوپ اس صدی کی سائنس کی ایک نئی جہت ہے۔ یہ ایک دلچسپ دہائی کا آغاز ہے۔ اس ٹیلی اسکوپ کو خلا میں انسانی زندگی کی کھوج کے لیے استعمال کیا جائے گا۔ ویب کا یہ مشن خلا کے بارے میں ہماری سمجھ کو بدل دے گا جیسا کہ ہم اب تک جانتے آئے ہیں۔ اس ٹیلی اسکوپ کی مدد سے کئی سربستہ رازوں کا انکشاف ہوسکتا ہے۔



      کہکشاؤں کے سربستہ رازوں کا ہوگا انکشاف:

      جیمز ویب اسپیس دوربین کو خلا میں پرواز کرنے کے لیے کئی سال سے مسلسل صبر سے کام لیا گیا اور اتنی تاخیر برداشت کرنی پڑتی، جس میں کورونا وائرس سے عملے کے کام پر اثر اور تکنیکی چیلنجوں کے دیگر عوامل شامل ہیں، لیکن دنیا کی سب سے طاقتور اور پیچیدہ خلائی رصد گاہ ہمارے نظام شمسی کے بارے میں کئی سوالات کے جوابات فراہم کرے گی۔ اس ٹیلی اسکوپ کی مدد سے اب کہکشاؤں میں انسانی زندگی کو دریافت کیا جائے گا۔

      یہ خلائی دوربین ’’جیمز ویب اسپیس ٹیلی اسکوپ‘‘ کو ناسا کے ساتھ ساتھ یورپی خلائی ایجنسی اور کینیڈین اسپیس ایجنسی نے مشترکہ تعاون کے ساتھ لانچ کیا ہے۔ یورپی خلائی ایجنسی نے ٹوئٹ کیا کہ اسے بین الاقوامی لانچ ٹیموں کے ساتھ ساتھ پوری خلائی سائنس کے لیے ایک زبردست کرسمس تحفہ کے طور پر بھیجا گیا ہے۔ ناسا (NASA) کے ایڈمنسٹریٹر بل نیلسن نے بین الاقوامی ٹیموں کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے اس مشن کو کرسمس 2021 کے موقع پر ممکن بنایا ہے۔

      ناقابل تصور ہوگی دریافتیں:

      نیلسن نے لانچ کے فوراً بعد کہا کہ ’’یہ کرض ارض کے لیے بہت اچھا دن ہے۔ ٹیم کا شکریہ! آپ سبھوں نے ناقابل یقین حد تک دوربین کی کامیابی کے لیے محنت کی ہیں۔ تین دہائیوں کے دوران آپ نے یہ دوربین تیار کی ہے جو اب ہمیں کائنات کی ابتدا کے بارے میں معلومات فراہم کرے گی۔ ہم ایسی ناقابل یقین چیزیں دریافت کرنے جا رہے ہیں جن کا ہم نے کبھی تصور بھی نہیں کیا تھا‘‘۔

      کیسی کام کرے گی یہ دوربین؟

      واضح رہے کہ دوربین ایک آئینے سے لیس ہوتی ہے جو 21 فٹ اور 4 انچ (6.5 میٹر) تک پھیل سکتی ہے۔ یہ بڑی لمبائی ہے جو آئینے کو ان چیزوں سے زیادہ روشنی جمع کرنے کی اجازت دے گی جن کا مشاہدہ دوربین کی مدد سے خلا میں کیا جاسکتا ہے۔ آئینہ جتنی زیادہ روشنی جمع کر سکتا ہے، دوربین اتنی ہی زیادہ تفصیلات کا مشاہدہ کر سکتی ہے۔ آئینے میں 18 ہیکساگونل گولڈ لیپت والے حصے شامل ہیں، ہر ایک کا قطر 4.3 فٹ (1.32 میٹر) ہے۔



      ایجنسی نے کہا کہ یہ ناسا کا اب تک کا سب سے بڑا آئینہ (دوربین) ہے، لیکن اس کے سائز نے ایک انوکھا مسئلہ پیدا کر دیا۔ آئینہ اتنا بڑا تھا کہ راکٹ کے اندر فٹ نہیں ہو سکتا تھا۔ لہذا ناسا کی ٹیم نے دوربین کو حرکت پذیر حصوں کی ایک سیریز کے طور پر ڈیزائن کیا، یعنی اس کے حصوں کو آسانی سے فولڈ کیا جاسکتا ہے اور یہ 16 فٹ (5 میٹر) جگہ کے اندر فٹ ہو سکتے ہیں۔

      قومی، بین الاقوامی اور جموں وکشمیر کی تازہ ترین خبروں کےعلاوہ تعلیم و روزگار اور بزنس کی خبروں کے لیے نیوز18 اردو کو ٹویٹر اور فیس بک پر فالو کریں ۔
      Published by:Mohammad Rahman Pasha
      First published: