உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Pakistan Floods:پاکستان میں سیلاب نے لی اب تک 937 افراد کی جان،قومی ایمرجنسی کا اعلان

    پاکستان میں سیلاب کی تباہی جاری۔

    پاکستان میں سیلاب کی تباہی جاری۔

    Pakistan Floods: وزیر موسمیاتی تبدیلی شیری رحمن نے کہا کہ وزیر اعظم شہباز شریف نے این ڈی ایم اے میں 'وار روم' قائم کیا ہے جو ملک بھر میں امدادی کارروائیوں کی قیادت کرے گا۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Jammu | Punjab | New Delhi | Hyderabad | Lucknow
    • Share this:
      Pakistan Floods:پاکستان حکومت نے ملک میں بارش کی وجہ سے آئے سیلاب میں اب تک 343 بچوں سمیت 937 لوگوں کی موت اور کم از کم تین کروڑ لوگوں کے بے گھر ہونے کے بعد قومی ایمرجنسی کا اعلان کردیا ہے۔ این ڈی ایم اے کے مطابق، سندھ صوبے میں 14 جون سے اب تک 306 لوگ مارے جاچکے یہں۔ سب سے زیادہ متاثر سندھ اور بلوچستان صوبے ہوئے ہیں جہاں بالترتیب 784 فیصد اور 496 فیصد زیادہ بارش درج کی گئی۔

      موجودہ مونسون کے موسم میں بلوچستان میں 234 لوگوں کی موت ہوئی، جبکہ خیبر پختونخواہ اور پنجاب صوبے میں بالترتیب 185 اور 165 لوگوں کی جان چلی گئی۔ وہیں پی او کے میں 37 اور گلگت بالتستان علاقے میں نو لوگوں کی موت ہوئی ہے۔

      'ڈان نیوز' کے مطابق پاکستان میں اگست کے مہینے میں 166.8 ملی میٹر بارش ہوئی، جو اس دوران ہونے والی اوسط 48 ملی میٹر بارش سے 241 فیصد زیادہ ہے۔ پاکستان کے جنوبی علاقوں میں بارشوں میں غیرمعمولی اضافے کے باعث سیلابی ریلہ آیا جس کی وجہ سے سندھ کے 23 اضلاع کو پہلے ہی 'آفت زدہ' قرار دیا جا چکا ہے۔

      یہ بھی پڑھیں:

      Windows PC Users: حکومت کی طرف سے سیکیورٹی انتباہ جاری! ونڈوز پی سی کے صارفین ہوں متوجہ

      یہ بھی پڑھیں:

      Afghanistan میں اچانک آئے سیلاب سے تباہی، 180 لوگوں کی موت، سیکڑوں زخمی اور لاپتہ

      راحت رسانی کاموں میں پریشانی
      پاکستانی وزیر موسمیاتی تبدیلی شیری رحمن نے کہا کہ وزیر اعظم شہباز شریف نے این ڈی ایم اے میں 'وار روم' قائم کیا ہے جو ملک بھر میں امدادی کارروائیوں کی قیادت کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ مسلسل بارشوں کی وجہ سے امدادی کارروائیوں میں مشکلات پیش آرہی ہیں خاص کر ہیلی کاپٹروں کے ذریعے۔ انہوں نے کہا کہ ’زبردست بارشوں کی وجہ سے آنے والے سیلاب نے ملک کے مختلف حصوں میں پل اور کنیکٹیویٹی انفراسٹرکچر کو بہا دیا ہے۔‘
      Published by:Shaik Khaleel Farhaad
      First published: