ہوم » نیوز » عالمی منظر

افغانستان: دہشت گردانہ حملہ کے بعد قومی سوگ کا اعلان، نائب صدر نے طالبان کو ذمہ دار ٹھہرایا

حکومت افغانستان نے کابل یونیورسٹی پر دہشت گردانہ حملے میں اپنی جان گنوانے والوں اور متاثرین کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لئے منگل کے روز قومی سوگ کے ایک دن کا اعلان کیا۔ افغان صدارتی بھون کی طرف سے جاری ہونے والے ایک بیان میں یہ اطلاع دی گئی ہے۔

  • UNI
  • Last Updated: Nov 03, 2020 07:30 PM IST
  • Share this:
افغانستان: دہشت گردانہ حملہ کے بعد قومی سوگ کا اعلان، نائب صدر نے طالبان کو ذمہ دار ٹھہرایا
افغانستان: کابل یونیورسٹی پر دہشت گردانہ حملہ کے بعد قومی سوگ کا اعلان

کابل، 3 نومبر (ژنہوا) حکومت افغانستان نے کابل یونیورسٹی پر دہشت گردانہ حملے میں اپنی جان گنوانے والوں اور متاثرین کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لئے منگل کے روز قومی سوگ کے ایک دن کا اعلان کیا۔ افغان صدارتی بھون کی طرف سے جاری ہونے والے ایک بیان میں یہ اطلاع دی گئی ہے۔

ملک کی وزارت صحت عامہ کی تازہ ریلیز کے مطابق پیر کے روز دہشت گردوں کے ایک گروپ نے کابل یونیورسٹی پر حملہ کیا۔ حملہ آور دہشت گرد یونیورسٹی کے کیمپس کے اندر داخل ہوئے اور اندھا دھند فائرنگ شروع کردی۔


اس حملے میں 22 افراد ہلاک اور اتنی ہی تعداد میں دیگر افراد زخمی ہوئے تھے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ ملک بھر کی مساجد میں خصوصی دعائیں کی جائیں گی اور ملک و بیرون ملک کے سفارتخانوں میں قومی پرچم آدھا جھکا رہے گا۔صدر جمہوریہ محمد اشرف غنی نے اس حملے کی سخت مذمت کی ہے۔


کابل یونیورسٹی پر حملے میں طالبان کا ہاتھ: نائب صدر

افغانستان کے نائب صدر امراللہ صالح نے منگل کے روز کابل یونیورسٹی پر حملے کے لئے دہشت گرد گروپ طالبان کو مورد الزام ٹھہراتے ہوئے کہا کہ اس سلسلے میں بہت سارے شواہد موجود ہیں۔ نائب صدر امراللہ صالح نے سکیورٹی ڈپارٹمنٹ کے عہدیداروں کے ساتھ اپنی معمول کی ملاقاتوں کے بارے میں بتاتے ہوئے اس حملے کا تذکرہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ حملہ آوروں کے ذریعہ استعمال ہونے والے ہتھیار 'جعلی' داعش کے بیان میں دکھائے گئے اسلحہ سے نہیں ملتے ہیں۔ واضح رہے کہ داعش نے اس حملے کی ذمہ داری لی ہے۔

 افغانستان کے نائب صدر امراللہ صالح نے منگل کے روز کابل یونیورسٹی پر حملے کے لئے دہشت گرد گروپ طالبان کو مورد الزام ٹھہراتے ہوئے کہا کہ اس سلسلے میں بہت سارے شواہد موجود ہیں۔

افغانستان کے نائب صدر امراللہ صالح نے منگل کے روز کابل یونیورسٹی پر حملے کے لئے دہشت گرد گروپ طالبان کو مورد الزام ٹھہراتے ہوئے کہا کہ اس سلسلے میں بہت سارے شواہد موجود ہیں۔


خبررساں ایجنسی طلوع نیوز کے مطابق امراللہ صالح نےکہا کہ وہ داعش کے'فرضی' بیان میں دکھائے جانے والے دو افرادکے ہتھیار کابل یونیورسٹی پر حملے میں ہلاک 'دہشت گردوں' کے ہتھیار سے میل نہیں کھاتے ہیں۔ نائب صدر نے کہا کہ مقتول حملہ آوروں کے پاس سے برآمد باکس میں طالبان کا جھنڈا بھی ملا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ کابل یونیورسٹی میں ہونے والے حملے میں 19 افراد ہلاک اور 40 دیگر زخمی ہوئے تھے۔ زخمیوں میں سے 15 کو اسپتال سے ڈسچارج کردیا گیا ہے جبکہ دو کی حالت تشویشناک ہے۔ دوسری جانب، طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے نائب صدر امراللہ صالح کے بیان کو دوٹوک الفاظ میں مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ طالبان کو بدنام کرنے کی سازش ہے۔
Published by: Nisar Ahmad
First published: Nov 03, 2020 07:21 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading