ہوم » نیوز » عالمی منظر

پاکستان: سابق وزیر اعظم نواز شریف نے 2018 کے عام الیکشن کے بارے میں کہی یہ بڑی بات

پاکستان کے سابق وزیراعظم نواز شریف نے گزشتہ روز دعوی کیا کہ پاکستانی فوج نے ملک میں 2018 کے عام انتخابات میں ہیرا پھیری کرکے سب سے اوپر ’ نااہل شخص‘ کو بیٹھا دیا۔ انہوں نے کہا کہ ہماری جدوجہد وزیراعظم عمران خان کے خلاف نہیں بلکہ 2018 انتخابات کے ذریعے انہیں اقتدار میں لانے والوں کے خلاف ہے۔

  • UNI
  • Last Updated: Sep 21, 2020 10:58 AM IST
  • Share this:
پاکستان: سابق وزیر اعظم نواز شریف نے 2018 کے عام الیکشن کے بارے میں کہی یہ بڑی بات
سابق وزیر اعظم نواز شریف کی فائل فوٹو

اسلام آباد۔ پاکستان کے سابق وزیراعظم نواز شریف نے گزشتہ روز دعوی کیا کہ پاکستانی فوج نے ملک میں 2018 کے عام انتخابات میں ہیرا پھیری کرکے سب سے اوپر ’ نااہل شخص‘ کو بیٹھا دیا۔ سابق وزیراعظم نواز شریف نے طویل عرصے بعد اپنی خاموشی کو توڑتے ہوئے اپوزیشن کی کثیر جماعتی کانفرنس میں حکومت اور اداروں پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہماری جدوجہد وزیراعظم عمران خان کے خلاف نہیں بلکہ 2018 انتخابات کے ذریعے انہیں اقتدار میں لانے والوں کے خلاف ہے۔ آج ہماری جدوجہد ان لوگوں کے خلاف ہے جو عمران خان کو اقتدار میں لائے اور جنہوں نے الیکشن میں دھاندلی کی اور ان کے جیسے ایک ’نااہل شخص ‘ کو اقتدار میں لائے اور اس طرح پورے ملک کو تباہ کردیا۔


نواز شریف کا یہ تبصرہ ملک کی تقریبا تمام بڑی اپوزیشن جماعتوں کے زیر اہتمام آل پارٹی کانفرنس (اے پی سی) کے دوران سامنے آیا ہے۔ پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کی زیر قیادت کثیر جماعتی کانفرنس منعقد کی گئی، جس میں اپوزیشن کی مختلف جماعتوں نے شرکت کی تاہم جماعت اسلامی نے اس کانفرنس میں شرکت سے پہلے ہی انکار کردیا تھا۔ اس کانفرنس میں پاکستان مسلم لیگ (ن)، جمعیت علمائے اسلام (ف)، عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی)، قومی وطن پارٹی (کیو ڈبلیو پی)، پختونخوا ملی عوامی پارٹی (پی کے میپ)، بلوچستان نیشنل پارٹی مینگل (بی این پی-ایم)، جمعیت اہلحدیث اور پشتون تحفظ موومنٹ (پی ٹی ایم) کے رہنما شریک ہوئے۔


سابق وزیراعظم کا کہنا تھا کہ 'میں وطن سے دور ہوتے ہوئے بھی اچھی طرح جانتا ہوں کہ وطن عزیز کن حالات سے گزر رہا ہے اور عوام کن مشکلات کا شکار ہیں۔ یہ کانفرنس نہایت اہم موقع پر منعقد ہورہی ہے بلکہ میں تو اسے ایک فیصلہ کن موڑ سمجھتا ہوں کیونکہ پاکستان کی خوشحالی اور صحیح جمہوری ریاست بنانے کے لیے ضروری ہے کہ ہم ہر طرح کی مصلحت چھوڑ کر اپنی تاریخ پر نظر ڈالیں اور بیباک فیصلے کریں'۔


انہوں نےمزید کہا کہ 'بدقسمتی سے پاکستان کو اس طرح کے تجربات کی لیبارٹری بنا کر رکھ دیا ہے۔ کبھی کوئی نمائندہ حکومت بن بھی جائے تو اسے ہر طرح کی سازش کے ذریعے پہلے بے اثر اور پھر فارغ کردیا جاتا ہے، اس سے یہ بھی پروا نہیں کی جاتی کہ اس سے ریاستی ڈھانچہ کمزور ہوگا۔ اقوام عالم میں جگ ہنسائی ہوگی اور عوام کا ریاستی اداروں سے اعتماد اٹھ جائے گا'۔ انہوں نے کہاکہ ملکی ترقی کے لیے انتہائی ضروری ہے کہ عوامی مینڈیٹ نہ چرایا جائے اور ہر حال میں عوامی رائے کا احترام کیا جائے۔
Published by: Nadeem Ahmad
First published: Sep 21, 2020 10:58 AM IST