ہوم » نیوز » عالمی منظر

نیپال: کمیونسٹ پارٹی نے وزیر اعظم کے پی اولی کو دکھایا باہر کا راستہ، رکنیت منسوخ

نیپال (Nepal) کی سیاست میں بڑا بھونچال آگیا ہے۔ ملک کے کارگزار وزیر اعظم کے پی شرما اولی (Caretaker PM KP Sharma Oli) کو کمیونسٹ پارٹی سے باہر کا راستہ دکھایا ہے۔

  • Share this:
نیپال: کمیونسٹ پارٹی نے وزیر اعظم کے پی اولی کو دکھایا باہر کا راستہ، رکنیت منسوخ
نیپال: کمیونسٹ پارٹی نے وزیر اعظم کے پی اولی کو دکھایا باہر کا راستہ، رکنیت منسوخ

نئی دہلی: نیپال (Nepal) کی سیاست میں بڑا بھونچال آگیا ہے۔ ملک کے کارگزار وزیر اعظم کے پی شرما اولی (Caretaker PM KP Sharma Oli) کو کمیونسٹ پارٹی سے باہر کا راستہ دکھایا ہے۔ اس کے ساتھ ہی پارٹی نے کے پی شرما اولی کی رکنیت کو بھی منسوخ کردیا ہے۔ نیوز ایجنسی اے این آئی سے بات چیت کرتے ہوئے اسپلنٹر گروپ کے ترجمان، نارائن قاضی شریشٹھ نے کہا کہ کے پی شرما اولی کی رکنیت کو فوری اثر سے منسوخ کردیا گیا ہے۔


دراصل، پارٹی میں کے پی شرما اولی کے خلاف بغاوت کے سُر کافی وقت سے بلند ہو رہے تھے۔ نیپال کمیونسٹ پارٹی (این سی پی) کے ایک الگ دھڑے کے رہنما پشپ کمل دہل ’پرچنڈ’ نے جمعہ کو یہاں ایک بڑی حکومت مخالف ریلی کی قیادت کی تھی۔ اس دوران انہوں نے کہا تھا کہ وزیر اعظم کے پی شرما اولی کے ذریعہ پارلیمنٹ کو ’غیر قانونی طریقے’ سے تحلیل کئے جانے سے ملک میں مشکل سے حاصل کی گئی وفاقی جمہوری جمہوری نظام کو سنگین خطرہ پیدا ہوا ہے۔


نیپال کے کارگزار وزیر اعظم کے پی شرما اولی کو کمیونسٹ پارٹی سے باہر کا راستہ دکھایا ہے۔
نیپال کے کارگزار وزیر اعظم کے پی شرما اولی کو کمیونسٹ پارٹی سے باہر کا راستہ دکھایا ہے۔


اولی پر آئین اور طریقہ کار کی خلاف ورزی کا الزام تھا

نیپال کمیونسٹ پارٹی (این سی پی) کے اپنے گروپ کے حامیوں کو خطاب کرتے ہوئے سابق وزیر اعظم پرچنڈ نے کہا کہ اولی نے نہ صرف پارٹی کے آئین اور طریقہ کار کی خلاف ورزی کی، بلکہ نیپال کے آئین کی حد کی بھی خلاف ورزی کی اور جمہوری ریپبلکن سسٹم کے خلاف کام کیا۔ انہوں نے کہا کہ کے پی شرما اولی کے اقدامات کے سبب لوگ مظاہرہ کرنے کو مجبور ہوئے ہیں اور آج، پورا ملک ایوان نمائندگان کو تحلیل کئے جانے کے خلاف ہے۔

گزشتہ سال ہی آیا تھا سیاسی بحران

نیپال میں 20 دسمبر 2020 کو تب سیاسی بحران میں پھنس گیا جب چین حامی سمجھے جانے والے اولی نے پرچنڈ کے ساتھ اقتدار کی جدوجہد کے درمیان اچانک ایوان نمائندگان تحلیل کرنے کی سفارش کردی۔ صدر ودیا دیوی بھنڈاری نے ان کی تعریف پر اسی دن ایوان نمائندگان کو تحلیل کرکے 30 اپریل اور 10 مئی کو نئے انتخابات کی تاریخ کا اعلان بھی کردیا تھا۔
Published by: Nisar Ahmad
First published: Jan 24, 2021 09:10 PM IST