உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    بحران میں اولی حکومت ، سی پی این ماؤنواز نے واپس لی حمایت

    کھٹمنڈو : نیپالی حکومت کی اہم اتحادی پارٹی کمیونسٹ پارٹی نیپال( ماؤ نواز) (سي پي این) نے آج حکومت سے اپنی حمایت واپس لے لی جس کے بعد اولی حکومت اقلیت میں آگئی۔

    کھٹمنڈو : نیپالی حکومت کی اہم اتحادی پارٹی کمیونسٹ پارٹی نیپال( ماؤ نواز) (سي پي این) نے آج حکومت سے اپنی حمایت واپس لے لی جس کے بعد اولی حکومت اقلیت میں آگئی۔

    کھٹمنڈو : نیپالی حکومت کی اہم اتحادی پارٹی کمیونسٹ پارٹی نیپال( ماؤ نواز) (سي پي این) نے آج حکومت سے اپنی حمایت واپس لے لی جس کے بعد اولی حکومت اقلیت میں آگئی۔

    • UNI
    • Last Updated :
    • Share this:
      کھٹمنڈو : نیپالی حکومت کی اہم اتحادی پارٹی کمیونسٹ پارٹی نیپال( ماؤ نواز) (سي پي این) نے آج حکومت سے اپنی حمایت واپس لے لی جس کے بعد اولی حکومت اقلیت میں آگئی۔ سي پي این ماؤنواز پارٹی کے صدر پشپ دہل نے وزیر اعظم کے پی اولی کو خط لکھ کر ان کی حکومت پرسابقہ کئے گئے معاہدے کا احترام نہ کرنے کا الزام لگایا ہے۔ ادھر حکومت سے منسلک ذرائع نے اشارہ دیا ہے کہ مسٹر ولی استعفی نہ دے کر اکثریت ثابت کرنے کا مطالبہ کر سکتے ہیں۔ سي پي این ماؤنواز پارٹی نے نئی قومی حکومت کے قیام کے عزم کا اعلان کرتے ہوئے کابینہ سے اپنے وزراء کو باہر کر لیا ہے۔
      پارٹی کے ایک اعلی عہدیدار کرشن بہادر مهارا نے نامہ نگاروں سے کہا، ’’ہمارا خیال ہے کہ اس حکومت سے حمایت لینے کے ہمارے فیصلے سے اہم سیاسی جماعتوں کے درمیان قومی اتفاق رائے سے نیا اتحاد بنانے میں مدد ملے گی‘‘۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن پارٹی نیپال کانگریس ماؤنواز لیڈر پرچنڈ کی قیادت میں نئی حکومت کی تشکیل کی حمایت کرنے کے لئے تیار ہے ۔ حالانکہ کانگریس پارٹی کی جانب سے ابھی کوئی رد عمل نہیں آیاہے۔
      مبصرین اور سابق سفارت کار لوک راج برال نے کہا کہ ماؤنواز پارٹی کا یہ قدم مسٹر اولی کی مدت ختم کر سکتی ہے۔ انہوں نے کہا،’’نئی حکومت کی تشکیل کا مطلب یہ نہیں ہے کہ آئین کا مسئلہ آسانی سے حل ہو جائے گا‘‘۔ انہوں نے کہا کہ اگر کوئی حکومت آئین میں ترمیم کرنا چاہتی ہے تو اس کے لئے یو ایم ایل (نیپالی کمیونسٹ پارٹی يونیفائڈ مارکسی لینن) کی حمایت ضروری ہو گی ‘‘۔
      انہوں نے ماؤنواز پارٹی اور کانگریس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا، ’’مجھے شک ہے کہ ان دونوں پارٹیوں نے پہلے ہی کوئی سمجھوتہ کر لیا ہے لیکن ہمیں اس بات کا انتظار کرنا پڑے گا کہ مسٹرا ولی اور یو ایم ایل کس طرح کا رد عمل کا اظہار کرتے ہیں۔
      First published: