ہوم » نیوز » عالمی منظر

نیپال کی پارلیمنٹ میں متنازعہ نقشہ پاس، ہندوستان کے تین علاقوں کو کیا شامل

نیپال کی پارلیمنٹ میں پاس ہوا یہ نقشہ متنازعہ ہے، جس میں ہندوستان کے تین علاقے لمپیا دھرا، کالاپانی اور لپولیکھ بھی شامل کئے گئے ہیں۔ اس پر وزارت خارجہ نے اپنا سخت موقف بھی واضح کر دیا تھا۔

  • Share this:
نیپال کی پارلیمنٹ میں متنازعہ نقشہ پاس، ہندوستان کے تین علاقوں کو کیا شامل
نیپال کی پارلیمنٹ میں متنازعہ نقشہ پاس، ہندوستان کے تین علاقوں کو کیا شامل

نئی دہلی: نیپال کی پارلیمنٹ نے ہفتہ کے روز آج آئینی ترمیمی بل پاس کردیا ہے۔ اس کے بعد اس ہمالیائی ملک کا نقشہ بدل گیا ہے۔ نیپال کی ایوان نمائندگان میں یہ نقشہ دو تہائی اکثریت سے پاس ہوا ہے۔ نیپال کی پارلیمنٹ میں پاس ہوا یہ نقشہ متنازعہ ہے، جس میں ہندوستان کے تین علاقے لمپیا دھرا، کالاپانی اور لپولیکھ بھی شامل کئے گئے ہیں۔ ہندوستان نے 20 مئی کو اس نقشے کو مسترد کرتے ہوئے اسے نامناسب نقشہ کا دعویٰ بتایا تھا۔ تاہم 11 جون کو اس ووٹنگ سے دو دن پہلے، ہندوستان کے وزارت خارجہ کے ترجمان انوراگ شریواستو نے اس سے منسلک سوالات اور کاٹھمانڈو سے کسی بھی طرح کی بات چیت کو درکنار کرتے ہوئے کہا تھا کہ ہم اس پر پہلے ہی اپنا موقف واضح کر چکے ہیں اور ہندوستان کے ساتھ نیپال کی تہذیب وثقافت اور دوستانہ تعلقات کا حوالہ دیا ہے۔


نیپالی وزیر اعظم نے کہا- کرسکتے ہیں بات چیت


اس حقائق کے باوجود کہ اس بیان سے ایک دن پہلے نیپال کے وزیراعظم کے پی شرما اولی نے کہا کہ اگر ہندوستان نے بات چیت کے لئے زیادہ خواہش کا اظہار کیا تو مسئلے کا حل نکل سکتا ہے۔ ہندوستان نے 20 مئی کے بیان میں ڈپلومیٹک بات چیت پر بھی زور دیا تھا، لیکن وزارت خارجہ سطح کی بات چیت ابھی بھی دونوں ممالک کے درمیان زیر التوا ہے۔


نیپال کے وزیراعظم کے پی شرما اولی نے کہا کہ اگر ہندوستان نے بات چیت کے لئے زیادہ خواہش کا اظہار کیا تو مسئلے کا حل نکل سکتا ہے۔
نیپال کے وزیراعظم کے پی شرما اولی نے کہا کہ اگر ہندوستان نے بات چیت کے لئے زیادہ خواہش کا اظہار کیا تو مسئلے کا حل نکل سکتا ہے۔


ہندوستان نے کہا- ہم نے کی نیپال کی مدد

اس درمیان انوراگ شریواستو نے کووڈ-19 وبا سے لڑنے میں ہندوستان کے ذریعہ نیپال کو دی جانے الی مدد پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا، ’ہم نے نیپال کو تقریباً 25 ٹن میڈیکل اشیا فراہم کی ہے، جس میں پیراسیٹا مال اور ہائیڈروکسیکلوروکین دوائیں، چیک اپ کٹ اور دیگر میڈیکل سے جڑی اشیا شامل ہیں’۔ نیپال ان ممالک کی پہلی فہرست میں تھا، جن کے لئے ہندوستان نے لائسنس کلاس میں لے جانے کے بعد HCQ کے ایکسپورٹ کو منظوری دے دی تھی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ہندوستان نے انسانی بنیاد پر بیرون ملک میں پھنسے نیپالی شہریوں کو واپس لانے میں مدد کی تھی۔ سب سے ضروری، انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ’ہندوستانی حکومت نے یہ بھی یقینی بنایا ہےکہ دونوں طرف سے جاری لاک ڈاون کے باوجود نیپال کو تجارت اور ضروری اشیا کی سپلائی میں کوئی ناخوشگوار مداخلت نہ ہو۔


سال 2015 میں ہوا تھا اختلاف


سال 2015 میں سپلائی میں ہوئی رکاوٹ کے بعد ہندوستان اور نیپال کے درمیان ایک سنگین اختلاف پیدا ہوگیا تھا۔ ہندوستان نے اس بات سے انکار کیا تا کہ اس نے نیپال کے خلاف کسی بھی ناکہ بندی کی گزارش کی تھی اور مسلسل اس بات پر زور دیا تھا کہ مدھیش کے مظاہرین نے سرحدوں کو روک دیا ہے، جس سے ہندوستان میں ضروری اشیا والے ٹرکوں کی سپلائی میں رکاوٹ آ رہی ہے۔ حالانکہ نیپال نے ہندوستان پر ایک اقتصادی ناکہ بندی کی طرف بڑھنے کا الزام لگایا، جس کے بعد اس کی پہاڑی آبادی جو ہندوستان سے رسوئی گیس اور دیگر ضروری اشیا کی سپلائی پر منحصر تھی، اس کی پریشانیوں میں اضافہ ہوگیا تھا۔

First published: Jun 13, 2020 06:25 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading