ہوم » نیوز » عالمی منظر

دنیا بھر کےکئی صارفین کو ٹویٹرکے ڈاون ہونے کا مسئلہ درپیش، ٹوئٹر صارفین کاملاجلا ردعمل

زیادہ تر صارفین نے شکایت کی کہ وہ اپنی ٹائم لائن چیک کرنے سے قاصر ہیں اور کسی خاص پوسٹ پر فوکس کرتے وقت جوابات یا ٹویٹر کو لوڈ نہیں کرسکتے ہیں ، کیونکہ ویب سائٹ نے بار بار ایک غلطی کا پیغام بھجوا دیا جس میں کہا گیا تھا کہ ’’کچھ غلط ہو گیا ہے ، دوبارہ لوڈ کرنے کی کوشش کریں‘‘۔

  • Share this:
دنیا بھر کےکئی صارفین کو ٹویٹرکے ڈاون ہونے کا مسئلہ درپیش، ٹوئٹر صارفین کاملاجلا ردعمل
علامتی تصویر

دنیا بھرمیں ٹویٹرصارفین کو تکنیکی دشواری کا سامنا کرنا پڑرہاہے۔اطلاعات کے مطابق ٹائم لائنز قابل رسائی رہنے کے باوجود کئی تھریڈز اور پروفائلز (threads and profiles) کو لوڈ کرنے میں ناکام ہونے کی وجہ سے جمعرات کی صبح ٹویٹر یوزرس کو ایک عجیب مسئلے کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ٹویٹر کے ڈاون ہونے کی شکایت کرنے کے لئے متعدد صارفین نے اپنے ذاتی ہینڈل سنبھال لئے۔ تاہم ابھی بھی کچھ اہم خصوصیات استعمال کی جاسکتی ہیں۔ اگرچہ ٹویٹر بہت سے لوگوں کے لئے ان کے ذاتی کمپیوٹر پر ناقابل رسائی رہا ، لیکن کچھ صارفین نے کہا کہ سوشل میڈیا پلیٹ فارم موبائل پر زیادہ تر فعال ہے۔


اس طرح کے مسائل کا نوٹ لیتے ہوئے ٹویٹر نے کہا کہ ’’ممکن ہے کہ کچھ پروفائل ویب پر لوڈ نہیں ہوسکتے ہیں کیونکہ ویب سائٹ ’فکس‘ پر کام کر رہی ہے۔ پروفائلز کے ٹویٹس شاید آپ میں سے بعض ویب پر لوڈ نہ ہوں اور ہم فی الحال اس معاملہ کے حل پر کام کر رہے ہیں۔ ہمارے ساتھ جڑے رہنے کے لیے شکریہ! "




زیادہ تر صارفین نے شکایت کی کہ وہ اپنی ٹائم لائن چیک کرنے سے قاصر ہیں اور کسی خاص پوسٹ پر فوکس کرتے وقت جوابات یا ٹویٹر کو لوڈ نہیں کرسکتے ہیں ، کیونکہ ویب سائٹ نے بار بار ایک غلطی کا پیغام بھجوا دیا جس میں کہا گیا تھا کہ ’’کچھ غلط ہو گیا ہے ، دوبارہ لوڈ کرنے کی کوشش کریں‘‘۔

اس دن ٹویٹر کے ساتھ ہونے والی سنیگ کی اطلاع پوری دنیا میں ملی۔ آوٹ آئیجنگ مانیٹرنگ ویب سائٹ ڈاونڈیکٹر کے مطابق جمعرات کے روز رات 9:33 بجے سے ہی ایسٹرن ٹائم زون (صبح 7:03 بجے کے قریب) صارفین کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ، جبکہ پلیٹ فارم سے متعلق اطلاعات کی تعداد پچھلے 24 گھنٹوں میں ڈرامائی انداز میں بڑھ چکی ہے۔

ویب سائٹ کے مطابق کل رات گئے سے ہی 6000 سے زیادہ صارف کی رپورٹوں میں بھی ٹویٹر کے ساتھ مسائل کی نشاندہی کی گئی۔ ڈاونڈیکٹر کے مطابق ان میں سے 93 فیصد ٹویٹر ویب سائٹ سے وابستہ ہیں۔ بدھ کے روز کاروباری اوقات کے بعد نیوز ایجنسی رائٹرز کی جانب سے تبصرہ کی درخواست پر ٹویٹر نے فوری طور پر جواب نہیں دیا۔
Published by: Mohammad Rahman Pasha
First published: Jul 01, 2021 09:36 AM IST