نیپال میں نئی آئین کے نفاذ پر مقامی گروپوں کے اختلافات کو حل کرنا ضروری: ہندوستان

نئی دہلی۔ ہندوستان نے نیپال میں کل نئی آئین کے نفاذ کا اعلان ہونے پر پڑوسی ملک کے عوام کو مبارکباد دیتے ہوئے نیپالی قیادت سے اپنی اس درخواست کا اعادہ کیا ہے کہ نئي آئین کی منظوری کے بعد اس کے نفاذ پر تمام فریقوں کے اختلافات کو حل کیا جانا چاہئے۔

Sep 21, 2015 07:59 AM IST | Updated on: Sep 21, 2015 07:59 AM IST
نیپال میں نئی آئین کے نفاذ پر مقامی گروپوں کے اختلافات کو حل کرنا ضروری: ہندوستان

نئی دہلی۔ ہندوستان نے نیپال میں کل نئی آئین کے نفاذ کا اعلان ہونے پر پڑوسی ملک کے عوام کو مبارکباد دیتے ہوئے نیپالی قیادت سے اپنی اس درخواست کا اعادہ کیا ہے کہ نئي آئین کی منظوری کے بعد اس کے نفاذ پر تمام فریقوں کے اختلافات کو حل کیا جانا چاہئے۔

واضح رہے کہ نیپال نے سات سال تک سیاسی تنازعہ اور تعطل کو ختم کرتے ہوئے اپنے پہلے آئینی دستور کو قبول کر لیا ہے ۔ نیپال کی 601 رکنی آئین ساز اسمبلی میں 85 فیصد سے زیادہ ووٹوں سے نئی آئین کے مسودے کو منظوری ملنے کے بعد کل صدر جمہوریہ رامبرن یادو نے اسے باضابطہ طور پر نافذ کرنے کا اعلان کیا۔ تاہم، ملک میں میدانی علاقے کی مدھیسي کمیونٹی اور تھارو قبائل کے نمائندوں نے نئی آئین کی چند دفعات کی مخالفت میں تحریک چھیڑ دی ہے۔

Loading...

وزارت خارجہ کی طرف سے یہاں جاری ایک بیان میں نئي آئین کے نفاذ پر نیپالی عوام کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا گیا کہ ہندوستان نے نیپال میں ایک وفاقی، جمہوری اور جامع آئین کی تشکیل کے عمل کی شروع سے حمایت کی ہے، اور گزشتہ سات برسوں کے غوروخوض اور بات چیت کے بعد نیپال میں  نئي جمہوری آئین نافذ کردیا گيا ہے۔  بیان میں کہا گیا کہ "ہندوستان اپنی سر حدوں سے متصل نیپال کے کئی شہروں میں تشدد جاری رہنے پر فکر مند ہے۔ ہندوستانی سفیر نے نیپال کے وزیر اعظم سے اس سلسلے میں بات چیت کی ہے۔ ہندوستان پڑوسی ملک نیپال کی قیادت سے اپیل کرتا ہے کہ متنازعہ مسائل کو تشدد اور خوف سے پاک ماحول میں بات چیت کے ذریعے ادارہ جاتی طور پر حل کیا جانا چاہیے تاکہ نئي آئین سب لوگوں کے لئے قابل قبول ہو، اور تبھی اس سے ملک میں ہم آہنگی، ترقی اور معاشی و سماجی پیش رفت کی بنیاد فراہم ہوگی"۔

قابل ذکر ہے کہ دو روز قبل خارجہ سکریٹری ایس جے شنکر نے وزیر اعظم نریندر مودی کے خصوصی ایلچی کے طور پر نیپال میں نئي آئین کے نفاذ کے سلسلے میں چھڑنے والی پرتشدد تحریک اور نئے دستور کی منظوری پر ہندوستان کے خدشات کا اظہار کرنے کے لئے راجدھانی کاٹھمنڈو کا سفر کیا تھا۔ انہوں نے کاٹھمنڈو میں اپنے دو روزہ قیام کے دوران نیپال کے صدر جمہوریہ رامبرن یادو اور وزیر اعظم سشیل کمار کوئرالا سمیت سیاسی پارٹیوں کے ديگر اعلی لیڈروں سے ملاقات کی تھی۔

Loading...