உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    UAE visas:متحدہ عرب امارات میں آئندہ ماہ سے تبدیل ہونگے ویزا رولز؟ کیاہیں نئے قوانین؟ جانئے یہاں

    متحدہ عرب امارت میں ویزے کے نئے قوانین کا نفاذ  آئندہ ماہ سے ہوگا ۔(تصویر:شٹر اسٹاک)۔

    متحدہ عرب امارت میں ویزے کے نئے قوانین کا نفاذ آئندہ ماہ سے ہوگا ۔(تصویر:شٹر اسٹاک)۔

    ایک نمایاں طور پر توسیع شدہ گولڈن ویزا اسکیم، نئی پانچ سالہ گرین ریذیڈنسی، ایک سے زیادہ داخلے کا سیاحتی ویزا اور نوکری تلاش کرنے کے ان متعدد ریذیڈنسی اصلاحات میں شامل ہیں جو اگلے ماہ سے نافذ العمل ہوں گی۔

    • Share this:
      ایک نمایاں طورپر توسیع شدہ گولڈن ویزا اسکیم (Golden Visa scheme)، نئی پانچ سالہ گرین ریذیڈنسی(Green residency)، ایک سے زیادہ داخلے کا سیاحتی ویزا(Tourist Visa) اور کام کی تلاش کے لیے داخلے کی اجازت، ان متعدد ریذیڈنسی اصلاحات میں شامل ہیں جو اگلے ماہ سے لاگو ہوں گیں۔ یہ نئے ویزے اور داخلے کے اجازت نامے متحدہ عرب امارات (United Arab Emirates) میں اپنائے جانے والے سب سے بڑے داخلے اور رہائشی اصلاحات کا حصہ ہیں۔

      ان نئے ویزا نظام سے متحدہ عرب امارات میں مقیم اور کام کرنے والے تارکین وطن کے ساتھ ساتھ زائرین کو کافی فائدہ پہنچے گا۔ اس سے امارات غیر ملکیوں اور اعلیٰ مالیت کے حامل افراد کے لیے اور بھی زیادہ سرمایہ کار دوست ملک بن جائے گا جو متحدہ عرب امارات میں طویل مدتی موجودگی کے خواہاں ہیں۔

      متحدہ عرب امارات کے نئے ویزوں کا اطلاق آئندہ ماہ سے ہوگا۔
      متحدہ عرب امارات کے نئے ویزوں کا اطلاق آئندہ ماہ سے ہوگا۔


      اپریل کے وسط میں متحدہ عرب امارات کی کابینہ کے فیصلے کے مطابق، داخلہ اور رہائش کے قوانین سے متعلق یہ تمام نئے انتظامی ضوابط سرکاری گزٹ میں اس کی اشاعت کی تاریخ سے 90 دن کے بعد نافذ العمل ہوں گے۔

      درجہ ذیل میں ان ویزوں کی فہرست ہے جن کا اعلان اپریل میں کیا گیا تھا۔ ان میں سے زیادہ تر اگلے مہینے سے نافذ ہو جائیں گے اور ان میں سے کچھ پہلے ہی متعارف کرائے گئے ہیں:

      • ملٹی انٹری ٹورسٹ ویزا (Multi-entry tourist visa) : نئے پانچ سالہ ملٹی انٹری ٹورسٹ ویزا کے لیے اسپانسر کی ضرورت نہیں ہے اور وہ شخص کو 90 دنوں تک متحدہ عرب امارات میں رہنے کی اجازت دیتا ہے اوراسے مزید 90 دنوں تک بڑھایا جا سکتا ہے۔ ایک شخص اس سیاحتی ویزا پر زیادہ سے زیادہ 180 دن رہ سکتا ہے۔ درخواست دہندہ کے پاس درخواست دینے سے پہلے پچھلے چھ مہینوں میں $4,000 (Dh14,700) یا اس کے مساوی غیر ملکی کرنسی بینک میں ہونا چاہیے۔

      • کاروباری ویزا(Business visa) : سرمایہ کار اور کاروباری افراد کسی کفیل یا میزبان کی ضرورت کے بغیر کاروباری ویزا کے لیے درخواست دے سکتے ہیں۔



      • رشتہ داروں/دوستوں سے ملنے کے لیے ویزا (Visa to visit relatives/friends) : ایک غیر ملکی اس ویزا کے لیے درخواست دے سکتا ہے اگر وہ متحدہ عرب امارات کے شہری یا رہائشی کا رشتہ دار یا دوست ہے۔ اس کے لیے اسپانسر یا میزبان کی ضرورت نہیں ہے۔



      • عارضی کام کا ویزا (Temporary work visa): جو لوگ عارضی کام جیسے پروبیشن ٹیسٹنگ یا پروجیکٹ پر مبنی کام لیے متحدہ عرب امارات جانا چاہتے ہے، وہ لوگ اس ویزا کے لیے درخواست دے سکتے ہیں۔ امیدواروں کو عارضی کام کا معاہدہ یا آجر کی طرف سے ایک خط اور فٹنس کا ثبوت پیش کرنے کی ضرورت ہے۔



      • مطالعہ/تعلیمی ویزا (Visa for study/training): اس ویزا کا مقصد ان لوگوں یا طلباء کے لیے ہے جو تربیت، مطالعاتی کورسز اور انٹرن شپ پروگراموں میں شرکت کرنا چاہتے ہیں۔ یہ ویزا سرکاری اور نجی دونوں شعبوں کے تعلیمی اور تحقیقی اداروں کی طرف سے سپانسر کیا جا سکتا ہے۔ اس کے لیے ادارے کی طرف سے ایک خط درکار کرنا ہے جس میں مطالعہ یا تربیت یا انٹرنشپ پروگرام اور اس کی مدت کی تفصیلات کی وضاحت کرنی ہوگی۔

      • فیملی ویزا (Family visa) : اس سے پہلے والدین صرف 18 سال سے کم عمر کے اپنے بچوں کو سپانسر کر سکتے تھے۔ اب 25 سال کی عمر تک مرد بچوں کی کفالت کی جا سکتی ہے۔ اس میں معذور بچوں کو بھی خصوصی اجازت نامہ ملتا ہے اور غیر شادی شدہ بیٹیوں کو غیر معینہ مدت کے لیے کفیل کیا جا سکتا ہے۔

      • ملازمت کا ویزا (Job visa) : ملازمت کے متلاشی متحدہ عرب امارات میں مواقع تلاش کرنے کے لیے اس نئے ویزا سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ اس ویزا کے لیے کسی اسپانسر یا میزبان کی ضرورت نہیں ہوگی اور یہ بیچلر ڈگری ہولڈرز یا اس کے مساوی اور دنیا کی بہترین 500 یونیورسٹیوں کے تازہ گریجویٹس کے ساتھ ساتھ وزارت انسانی وسائل اور اماراتی کے مطابق پہلی، دوسری یا تیسری مہارت کی سطح میں درجہ بندی کرنے والوں کو دیا جائے گا۔

      • گرین ویزا (Green visa): یہ پانچ سالہ ویزا ہولڈرز کو اسپانسر یا آجر کے بغیر اپنے اہل خانہ کو لانے کی اجازت دیتا ہے۔ یہ ویزا ہنر مند کارکنوں، سیلف ایمپلائرز، فری لانسرز وغیرہ کے لیے دستیاب ہے۔ اس کے لیے دیگر ضروریات میں بیچلر کی ڈگری یا اس کے مساوی اور Dh 15,000 کی کم از کم تنخواہ شامل ہے۔


      یہ بھی پڑھیں: Gaza ceasefire: غزہ میں ایک ہفتےکےدوران اسرائیلی حملوں میں 48 فلسطینی ہلاک، اقوام متحدہ کی رپورٹ


      • گولڈن ویزا (Golden Visas): متحدہ عرب امارات نے کئی پیشہ ورانہ زمروں اور سرمایہ کاروں کے لیے گولڈن ویزا کا اعلان کیا ہے جو طویل مدتی بنیادوں پر ملک کے بہترین معیار زندگی سے لطف اندوز ہونا چاہتے ہیں۔ ذیل میں مختلف زمروں کے لیے گولڈن ویزوں کی فہرست ہے:

      • رئیل اسٹیٹ (Real estate): ویزا کے اہل ہونے کے لیے رئیل اسٹیٹ میں 2 ملین Dh کی کم از کم سرمایہ کاری ضروری ہے۔ مارگیج اور آف پلان پراپرٹیز پر جائیداد خریدنے والے سرمایہ کاروں کو بھی اجازت ہے اگر ان کی مجموعی سرمایہ کاری 2 ملین Dh یا اس سے زیادہ ہو۔

      • اسٹارٹ اپ (Startups): کاروباری افراد اب تین کیٹیگریز کے تحت گولڈن ویزا حاصل کرسکتے ہیں - (a) اسٹارٹ اپ ملک میں رجسٹرڈ ہو (b) ایس ایم ای SME کے تحت آنا چاہیے، (3) اور سالانہ 1 ملین Dh یا اس سے زیادہ ہونی چاہیے۔

      • سائنسدان(Scientists) : جو لوگ اپنے شعبے میں ماہر ہیں وہ گولڈن ویزا کے لیے درخواست دے سکتے ہیں اگر وہ ان تقاضوں کو پورا کرتے ہیں – ایمریٹس سائنس کونسل کی تجویز اور لائف سائنس، نیچرل سائنسز، ٹیکنالوجی اور انجینئرنگ میں کسی اعلیٰ یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی یا ماسٹر ڈگری۔




      • طلباء (Students): غیر معمولی طلباء جنہوں نے متحدہ عرب امارات کے ثانوی اسکولوں اور یونیورسٹیوں میں اعلی اسکور حاصل کیے ہیں یا وہ جو دنیا بھر کی بہترین 100 یونیورسٹیوں میں آتے ہیں گولڈن ویزا کے لیے درخواست دے سکتے ہیں۔

      • غیر معمولی ہنر (Exceptional talent): وہ لوگ جو فن، ثقافت، ڈیجیٹل ٹیکنالوجی، کھیل، اختراع، طب اور قانون کے میدان میں غیر معمولی ہنر رکھتے ہیں، وہ گولڈن ویزا کے لیے درخواست دے سکتے ہیں۔ انہیں ایک سفارشی خط یا متعلقہ حکومتی ادارے سے منظوری درکار ہے۔

      Published by:Faheem Mir
      First published: