نیوز18 اردو کی خبر کا اثر: سعودی عرب میں 1 ماہ قبل وفات پانے والے شیخ نعیم الدین کی تدفین کے لئے اقدامات ہوئے تیز

نیوز18 اردو کی خبر نے ایک بار پھر اثر دکھایا ہے۔ نیوز 18 اردو کی جانب سے ٹویٹ کئے گئے ویڈیو پر ریاض اور جدہ کے سفارت خانوں نے رد عمل کا اظہار کیا ہے۔

Jul 24, 2019 08:17 AM IST | Updated on: Jul 24, 2019 10:37 AM IST
نیوز18 اردو کی خبر کا اثر: سعودی عرب میں 1 ماہ قبل وفات پانے والے شیخ نعیم الدین کی تدفین کے لئے اقدامات ہوئے تیز

نیوز18 اردو کی خبر نے ایک  بار پھر اثر دکھایا ہے۔ نیوز 18 اردو کی جانب سے ٹویٹ کئے گئے ویڈیو پر ریاض اور جدہ کے سفارت خانوں نے رد عمل کا اظہار کیا ہے۔ جدہ کے سفارت خانے نے کہا ہے کہ ایک ماہ قبل وفات پانے والے سید نعیم الدین کی تدفین کیلئے  افراد کو پاورآف اٹارنی جاری کیا گیا تھا لیکن تدفین کیوں نہیں ہو پائی ان وجوہات کا پتہ لگایا جائے گا۔

واضح ہو کہ سعودی عرب کے شہر جیزان میں دل کا دورہ پڑنے سے انتقال کر جانے والے  حیدرآباد  کے شیخ نعیم الدین کے افراد خاندان ان کی تجہیز و تکفین کو لیے کر کافی پریشان ہیں۔ ایک مہینہ سے زائد کی مدت گزر جانے کے باوجود مرحوم کے جسد خاکی کو نہ ہندستان بھیجنے اور نہ سعودی عرب میں ہی تکفین وتدفین  کے انتظامات کیے گئے۔ فی الحال شیخ نعیم الدین کی ڈیڈ باڈی اسپتال کے مرده خانے میں پڑی ہے۔

حیدرآباد کے علاقہ یوسف گوڑ ا سے تعلق رکھنے والے 37سالہ ٹیکنیشن شیخ نعیم الدین کا 18جون کو سعودی عرب کے شہر جیزان کی ایک مسجد میں انتقال ہو گیا۔ شیخ نعیم الدین کے انتقال کی خبر ملنے کے بعد سے حیدرآباد میں ان کے افراد خاندان اس کوشش میں ہیں کہ کسی طرح انکا جسد  حیدرآباد منتقل کروایا جائے   لیکن جب انہیں بتایا گیا کہ سعودی عرب سے ڈیڈ باڈی کو ہندوستان منتقل کرنا مشکل کام ہے۔

ان  کی اہلیہ ثمینہ بیگم نے ایک خط لکھ کر سعودی حکام سے گزارش کی کہ ان کے شوہر کی وہیں تدفین کا انتظام کیا جائے۔ اس سلسلہ میں انہوں نے ضابطہ کے مطابق ایک  ہندوستانی شخص حسن عبداللہ کو پاور آف اٹارنی بھی دیا لیکن اس کے باوجود انہیں معلوم ہوا کہ شیخ نعیم کی ڈیڈ باڈی اسپتال کے مردہ خانے میں ہی پڑی ہے۔

سید نعیم الدین: فائل فوٹو

شیخ نعیم الدین کے افراد خاندان نے تلنگانہ کی ریاستی حکومت اور مرکزی حکومت سے اپیل کی ہے کہ  مرحوم شیخ نعیم کی ڈیڈ باڈی کا جلد از جلد پوسٹ مارٹم کرواتے ہوئے تجہیز و تکفین کا انتظام کروایا جائے۔

Loading...