உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    نائجیریا کے چرچ میں بھگدڑ سے 31 لوگوں کی موت، مرنے والوں میں بیشتر بچے

    Nigeria Church Stampede: نائجیریا کے جنوب مشرق میں واقع شہر پورٹ ہرکورٹ میں ہفتہ کے روز ایک چرچ تقریب کے دوران بھگدڑ مچنے سے کم ازکم 31 افراد کی موت ہوگئی اور سات دیگر دیگر زخمی ہوگئے۔ سی این این نے پولیس اور سیکورٹی افسران کے حوالے سے یہ جانکاری دی۔

    Nigeria Church Stampede: نائجیریا کے جنوب مشرق میں واقع شہر پورٹ ہرکورٹ میں ہفتہ کے روز ایک چرچ تقریب کے دوران بھگدڑ مچنے سے کم ازکم 31 افراد کی موت ہوگئی اور سات دیگر دیگر زخمی ہوگئے۔ سی این این نے پولیس اور سیکورٹی افسران کے حوالے سے یہ جانکاری دی۔

    Nigeria Church Stampede: نائجیریا کے جنوب مشرق میں واقع شہر پورٹ ہرکورٹ میں ہفتہ کے روز ایک چرچ تقریب کے دوران بھگدڑ مچنے سے کم ازکم 31 افراد کی موت ہوگئی اور سات دیگر دیگر زخمی ہوگئے۔ سی این این نے پولیس اور سیکورٹی افسران کے حوالے سے یہ جانکاری دی۔

    • Share this:
      لاگوس (نائجیریا): نائجیریا کے جنوب مشرق میں واقع شہر پورٹ ہرکورٹ میں ہفتہ کے روز ایک چرچ تقریب کے دوران بھگدڑ مچنے سے کم ازکم 31 افراد کی موت ہوگئی اور سات دیگر دیگر زخمی ہوگئے۔ سی این این نے پولیس اور سیکورٹی افسران کے حوالے سے یہ جانکاری دی۔ ہفتہ کی صبح چرچ میں کھانا کھانے پہنچے سینکڑوں لوگوں نے گیٹ توڑ دیا، جس سے بھگدڑ کے حالات پیدا ہوگئے۔ حادثہ میں مرنے والوں میں بیشتر بچے تھے۔

      نائجیریا کے شہری سیکورٹی کور کے ایک مقامی ترجمان اولوفیمی ایوڈیل کے مطابق، یہ افسوسناک واقعہ مقامی پولو کلب میں پیش آیا۔ جہاں پاس کے کنگس اسمبلی چرچ نے تحفہ عطیہ مہم کا انعقاد کیا تھا۔ سی این این نے ان کے حوالے سے کہا، ’تحفہ کا سامان بانٹنے کے عمل کے دوران بھیڑ بھاڑ کے سبب بھگدڑ مچ گئی۔ مہلوکین میں بیشتر بچے تھے۔

      ’گیٹ بند ہونے کے باوجود بھیڑ نے پروگرام کے مقام میں  گھسنے کی کوشش‘

      سی این این نے ریاستی پولیس کی ترجمان گریس ووینگکورو ایرنگے-کوکو کے حوالے سے بتایا کہ جب بھگدڑ ہوئی، تب تحفہ دینے کا عمل شروع بھی نہیں ہوا تھا۔ ووینگکورو ایرنگے-کوکو نے کہا کہ گیٹ بند ہونے کے باوجود بھیڑ جبراً پروگرام کی جگہ میں داخل ہوگئی اور اسی وجہ سے وہاں بھگدڑ مچ گئی۔ ووینگکورو ایرنگے-کوکو نے کہا، ’31 لوگوں کی موت کی تصدیق کی گئی ہے۔ حادثہ کے بعد سات زخمیوں کو اسپتال میں داخل کرایا گیا ہے‘۔

       
      Published by:Nisar Ahmad
      First published: