مسلمان امریکی صدر بننے کے لائق نہیں: کارسن

واشنگٹن۔ امریکہ میں ری پبلکن پارٹی کی جانب سے عہدہ صدارت کے امیدواربین کارسن کا کہنا ہے کہ مسلمان امریکہ کا صدر بننے کے لائق نہیں ہیں۔

Sep 21, 2015 11:10 AM IST | Updated on: Sep 21, 2015 11:41 AM IST
مسلمان امریکی صدر بننے کے لائق نہیں: کارسن

واشنگٹن۔ امریکہ میں ری پبلکن پارٹی کی جانب سے عہدہ صدارت کے امیدواربین کارسن کا کہنا ہے کہ مسلمان امریکہ کا صدر بننے کے لائق نہیں ہیں۔ ان کی دلیل ہے کہ ان کا عہدہ امریکی اصولوں سے میل نہیں کھاتا۔

میڈیا کو دیئے گئے انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ ’’میں کسی مسلمان کے ہاتھ میں ملک کی باگ ڈور سونپے جانے کی وکالت نہیں کروں گا۔ میں اس سے ذرا بھی متفق نہیں ہوں‘‘۔

Loading...

مسٹر کارسن نے ،جو عیسائی ہیں، کہا کہ انہوں نے اپنی ٹیکس تجاویز کا خیال بائبل سے لیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ انہیں لگتا ہے کہ صدر کا مذہب ملک کے آئین سے ملتا جلتا ہونا چاہیے۔ جب ان سےپوچھا گیا کہ کیا اسلام اس شرط پر پورا اترتا ہے تو انہوں نے کہا کہ نہیں میں ایسا نہیں سمجھاتا۔

ری پبلکن پارٹی کے سینئر لنڈسے گراہم نے اس ریمارک پر کہا ہے کہ میرا خیال ہے کہ انہیں اس بیان کے لئے معافی مانگنی چاہئے۔ منی سوٹا کے ڈیموکریٹک ممبر کیتھ الیسن نے جو کانگریس کے لئے منتخب ہونے والے پہلے باعمل مسلمان ہیں، کہا ’’یہ بات ناقابل یقین ہے کہ صدارتی امیدوار اپنی انتخابی مہم کو فائدہ پہنچانے کے لئے خوف پھیلانے کی سیاست پر اتر آئے ہیں‘‘۔

انہوں نے بیان میں یہ بھی کہا ’’ہر امریکی کو اس سے پریشانی ہونی چاہیے کہ اس طرح کی قومی شخصیات مذہبی تعصب پھیلارہی ہیں اور اس طرح کی حرکتوں کو برداشت بھی کررہے ہیں‘‘۔

امریکہ کے مسلم شہری حقوق کے سب سے بڑے گروپ نے کارسن کے بیان کی مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ انہیں صدارتی مقابلے کے لئےنااہل قرار دے دینا چاہے کیونکہ امریکی آئین سرکاری عہدے دار کے لئے مذہبی آزمائش کو ممنوع قرار دیتا ہے۔

امریکہ۔ اسلامی تعلقات کی کونسل کے ترجمان ابراہیم ہوپرنے کہا ’’یہ رویہ خلاف ضابطہ ہے اور انہیں مقابلے سے ہٹ جانا چاہیے‘‘۔ ریٹائرڈ نیورو سرجن کارسن ری پبلکن امیدواروں کی ریس میں تیسرے نمبر پر چل رہے ہیں۔ مذکورہ تنازعہ اس وقت شروع ہوا تھا جب سب سے آگے چلنے والے ڈونالڈ ٹرمپ نے جمعہ کے روز ایک حامی کی جانب سے مسلم مخالف ریمارکس پر اعتراض کرنے سے انکار کردیا تھا۔

کل رات کارسن کی انتخابی مہم کے ترجمان نے ایک بیان جاری کرکے کہا ’’کارسن آئین میں دی گئی مذہبی آزادی کی ضمانت پر پورا یقین رکھتے ہیں‘‘ مگر ان کا یہ بھی خیال ہے کہ امریکی عوام ایک مسلمان کو ہمارے یہودی۔ عیسائی معاشرے کا صدر قبول کرنے کو بالکل تیار نہیں ہیں۔

ترجمان ڈو واٹس نے کہا ’’اس میں کوئی شبہ نہیں کہ مسلمانوں کے عقیدے اور ہمارے آئین کے درمیان کافی پیچیدہ فرق ہے۔ یہ اختلاف بہت حقیقی ہیں اور ایک دوسرے کے متضاد ہیں۔

کارسن رائے شماری میں تیسرے نمبر پر چل رہے ہیں۔ 2016 کے صدارتی انتخابت کے لئے چھ ری پبلکن پارٹی امیدوار بننے کی دوڑ میں ہیں‘‘۔

کارسن کے مسلم مخالف ریمارک پر ایک اور امیدوار ریپبلکن سنیٹر لنڈسے گراہم نے سخت نکتہ چینی کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر کارسن کو معافی مانگنی چاہیے۔ ان کے اس بیان سے ان امریکی فوجیوں کی توہین ہوئی ہے جو مسلمان ہیں۔ جنوری میں لووا ریاست میں ایک رائے شماری کی گئی تھی جس سے پتہ چلا تھا کہ 39 فیصد ریپبلکن اسلام کو بنیادی طور سے پرتشدد مذہب سمجھتے ہیں۔ ان کی بنسبت 13 فیصد ڈیموکریٹ ایسا سوچتے ہیں۔

ٹرمپ سے جب پوچھا گیا کہ کیا وہ کسی مسلم صدر کو قبول کرسکتے ہیں تو انہوں نے جواب دیا ’’بعض لوگوں کا خیال ہے ایسا تو ہوچکا ہے‘‘۔

واضح رہے کہ موجودہ صدر بارک اوبامہ ایک مسلمان کے بیٹے ہیں مگر وہ خود عیسائی ہیں۔

Loading...