உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    پاکستان: خطرے میں عمران خان کی حکومت، اپوزیشن لارہی ہے تحریک عدم اعتماد، کیوں آئی نوبت

    اگر پاکستان میں یہ تحریک عدم اعتماد منظور ہو جاتی ہے تو وزیر اعظم عمران خان کو کرسی چھوڑنی پڑ سکتی ہے۔ بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق تحریک عدم اعتماد کی کامیابی کے لیے 172 نشستوں کی ضرورت ہے تاہم اپوزیشن کی اتحادی جماعتوں نے دعویٰ کیا ہے کہ انہیں قومی اسمبلی میں 200 ارکان کی حمایت حاصل ہے۔

    اگر پاکستان میں یہ تحریک عدم اعتماد منظور ہو جاتی ہے تو وزیر اعظم عمران خان کو کرسی چھوڑنی پڑ سکتی ہے۔ بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق تحریک عدم اعتماد کی کامیابی کے لیے 172 نشستوں کی ضرورت ہے تاہم اپوزیشن کی اتحادی جماعتوں نے دعویٰ کیا ہے کہ انہیں قومی اسمبلی میں 200 ارکان کی حمایت حاصل ہے۔

    اگر پاکستان میں یہ تحریک عدم اعتماد منظور ہو جاتی ہے تو وزیر اعظم عمران خان کو کرسی چھوڑنی پڑ سکتی ہے۔ بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق تحریک عدم اعتماد کی کامیابی کے لیے 172 نشستوں کی ضرورت ہے تاہم اپوزیشن کی اتحادی جماعتوں نے دعویٰ کیا ہے کہ انہیں قومی اسمبلی میں 200 ارکان کی حمایت حاصل ہے۔

    • Share this:
      اسلام آباد: پاکستان میں عمران خان(Imran Khan) کی حکومت پر خطرات کے بادل منڈلا رہے ہیں۔ بڑھتی ہوئی مہنگائی اور بے روزگاری کے مسائل پر گھری اس حکومت کے خلاف اپوزیشن تحریک عدم اعتماد(No-Trust Motion) لا رہی ہے۔ اپوزیشن جماعتوں کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ پاکستان (Pakistan) کے عوام اب عمران خان کی حکومت سے ناراض ہیں۔ تحریک عدم اعتماد پر بحث شروع ہوتے ہی عمران خان الرٹ ہو گئے ہیں۔ منگل کو اپوزیشن جماعتوں نے قومی اسمبلی سیکرٹریٹ میں تحریک عدم اعتماد جمع کرادی۔ اب جماعتوں نے اسمبلی کا اجلاس بلانے کا مطالبہ کیا ہے۔ اگر یہ تحریک عدم اعتماد منظور ہو گئی تو عمران خان کو بڑا دھچکا لگ سکتا ہے۔
      کیا ہے تحریک عدم اعتماد؟ ایسا کیوں کیا گیا؟ پاکستان کی نیشنل اسمبلی میں اسے کتنے ارکان کی حمایت ملی ہے؟ جانیے ان سوالوں کے جواب۔۔۔

      کیا ہوتی ہے تحریک عدم اعتماد؟
      آئین کے آرٹیکل 95 کے تحت پاکستان میں وزیر اعظم کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک لائی جا سکتی ہے۔ اس تجویز کو لانے کے بعد اسے قومی اسمبلی میں پیش کرنا ہو گا۔ ایسا کرنے کے لیے قومی اسمبلی میں 20 فیصد ارکان کو تحریک عدم اعتماد پر دستخط کرنا ہوں گے۔ اس کی تحریری معلومات پارلیمنٹ کے سیکرٹریٹ میں جمع کی جاتی ہے۔

      یہ بھی پڑھیں:
      Ukarineسے جان بچاکر 1100 کلومیٹر دور سلوواکیہ بارڈر تنہا پہنچا 11 سال کا بچہ

      اس لئے لائی جارہی ہے عدم اعتماد کی تحریک
      عمران خان کی حکومت کے خلاف تحریک عدم اعتماد لانے کی ضرورت کیوں پیش آئی ہے اس پر قائد حزب اختلاف شہباز شریف کا کہنا ہے کہ کئی جماعتوں نے مل کر عمران خان حکومت کے خلاف قومی اسمبلی میں تحریک عدم اعتماد جمع کرائی ہے۔ ان میں پاکستان پیپلز پارٹی، جے یو آئی اور مسلم لیگ ن سمیت کئی اپوزیشن جماعتیں شامل ہیں۔

      اب ہم سمجھتے ہیں کہ ایسا کیوں کیا جا رہا ہے۔ دراصل، جب سے عمران خان کی قیادت میں حکومت پاکستان میں آئی ہے مہنگائی اور بے روزگاری اپنے عروج پر ہے۔ شہباز شریف کہتے ہیں ملک پر قرضہ بڑھتا جا رہا ہے۔ قرضہ لینے کے باوجود تبدیلی آتی دکھائی نہیں دے رہی۔ اس لیے پارلیمنٹ میں عدم اعتماد کی تحریک قوم کے مفاد کے لیے کی گئی ہے۔

      یہ بھی پڑھیں:
      Russia Ukraine War:امریکہ نے روس سے گیس اور تیل پر لگائی پابندی، صدر جوبائیڈن نے کیا اعلان

      کیا ہوگا اگر تحریک عدم اعتماد کو منظوری مل گئی تو؟
      اگر پاکستان میں یہ تحریک عدم اعتماد منظور ہو جاتی ہے تو وزیر اعظم عمران خان کو کرسی چھوڑنی پڑ سکتی ہے۔ بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق تحریک عدم اعتماد کی کامیابی کے لیے 172 نشستوں کی ضرورت ہے تاہم اپوزیشن کی اتحادی جماعتوں نے دعویٰ کیا ہے کہ انہیں قومی اسمبلی میں 200 ارکان کی حمایت حاصل ہے۔ اگر ایسا ہوا تو عمران خان کے لیے بڑا دھچکا ہو گا جو پہلے ہی مشکل میں ہیں۔ پاکستان کی میڈیا رپورٹ میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ اپوزیشن اتحاد حکمران جماعت پی ٹی آئی کے کچھ ارکان سے بھی رابطے میں ہے، تاکہ اس تحریک عدم اعتماد کو روکا جا سکے۔
      Published by:Shaik Khaleel Farhaad
      First published: