உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    North Korea: شمالی کوریا نے کیامیزائل کے کامیاب تجربےکادعویٰ، کئی ممالک نےکی سخت تنقید

    ماہرین کا کہنا ہے کہ شمالی کوریا ممکنہ طور پر ایک قابل اعتماد ہائپرسونک نظام کے حصول سے برسوں دور ہے۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ شمالی کوریا ممکنہ طور پر ایک قابل اعتماد ہائپرسونک نظام کے حصول سے برسوں دور ہے۔

    شمالی کوریا پچھلے موسم خزاں کے بعد سے اپنی خلائی سرگرمیوں کو تیز کر رہا ہے جسے ماہرین اقتصادی پابندیوں سے نجات حاصل کرنے کی امید میں اپنے حریفوں واشنگٹن اور سیئول (جنوبی کوریا کا دارالحکومت) پر ایک جوہری طاقت کے طور پر قبول کرنے کے لیے مزید دباؤ ڈالنے کی کوشش کے طور پر دیکھتے ہیں۔

    • Share this:
      شمالی کوریا (North Korea) کا کہنا ہے کہ رہنما کم جونگ اُن (Kim Jong Un) نے ایک ہائپر سونک میزائل (hypersonic missile) کے کامیاب پرواز کے تجربے کی نگرانی کی جس کے بارے میں انہوں نے دعویٰ کیا کہ وہ ملک کی جوہری جنگ کی روک تھام میں نمایاں اضافہ کرے گا۔

      بدھ کے روز شمالی کوریا کے سرکاری میڈیا کی یہ رپورٹ ریاستہائے متحدہ امریکہ، جنوبی کوریا اور جاپان کی فوجوں کے اس بیان کے ایک دن بعد سامنے آئی ہے، جب انھوں نے شمالی کوریا کی جانب سے اپنے مشرقی سمندر میں ایک مشتبہ بیلسٹک میزائل فائر کرنے کا پتہ لگایا ہے۔

      کورین سنٹرل نیوز ایجنسی نے کہا کہ منگل کو کئی گئی لانچ میں ایک ہائپرسونک گلائیڈ میزائیل شامل تھی، جس نے راکٹ بوسٹر سے نکلنے کے بعد 1,000 کلومیٹر (621 میل) دور سمندری ہدف کو نشانہ بنانے سے پہلے گلائیڈ جمپ فلائٹ اور کارک سکرو چال کا مظاہرہ کیا۔ ایجنسی کی طرف سے جاری کردہ تصاویر میں دکھایا گیا ہے کہ ایک میزائیل جس میں ایک نوکیلے شنک کے سائز کے پے لوڈ کے ساتھ نصب کیا گیا ہے اور وہ نارنجی رنگ کے شعلوں کے ساتھ آسمان کی طرف جا رہا ہے ۔

      یہ لانچ شمالی کوریا کی جانب سے ایک ہفتے میں اپنے مطلوبہ ہائپرسونک میزائل کا دوسرا تجربہ ہے۔ یہ ایک قسم کا مہلک ہتھیار ہے۔ جو اس نے ستمبر میں پہلی بار تجربہ کیا تھا، کیونکہ کِم نے بین الاقوامی پابندیوں، وبائی امراض سے متعلق مشکلات اور اس کے باوجود اپنے جوہری ہتھیاروں کی صلاحیتوں کو بڑھانے کے لیے سخت کوشش جاری رکھی ہوئی ہے۔ اسی دوران امریکہ کے ساتھ تعطلی اور سفارت کاری میں دوری بھی پیدا ہوئی۔

      ہائپرسونک میزائیل کیسے کام کرتا ہے؟

      شمالی کوریا پچھلے موسم خزاں کے بعد سے اپنی خلائی سرگرمیوں کو تیز کر رہا ہے جسے ماہرین اقتصادی پابندیوں سے نجات حاصل کرنے کی امید میں اپنے حریفوں واشنگٹن اور سیئول (جنوبی کوریا کا دارالحکومت) پر ایک جوہری طاقت کے طور پر قبول کرنے کے لیے مزید دباؤ ڈالنے کی کوشش کے طور پر دیکھتے ہیں۔ کے سی این اے نے کہا کہ کِم نے ہائپر سونک میزائل سسٹم کی تیاری میں شامل اپنے فوجی سائنسدانوں اور اہلکاروں کے کارناموں کی تعریف کی، جسے انہوں نے شمال کی فوجی قوت کی تعمیر کے لیے 2021 کے اوائل میں اعلان کیے گئے نئے پانچ سالہ منصوبے کا سب سے اہم حصہ قرار دیا۔

      شمال کوریا نے نئے میزائل کو اپنے اسٹریٹجک ہتھیاروں کا حصہ قرار دیا ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ یہ نظام جوہری ہتھیاروں کی فراہمی کے لیے تیار کیا جا رہا ہے۔ واضح رہے کہ ہائپرسونک میزائیل ماچ 5 (Mach 5) سے زیادہ یا آواز کی رفتار سے پانچ گنا زیادہ رفتار سے اڑتا ہے۔ یہ میزائل دفاعی نظام کے لیے اپنی رفتار اور تدبیر کی وجہ سے ایک اہم چیلنج بن سکتے ہیں۔

      اس طرح کے ہتھیار جدید ترین فوجی اثاثوں کی فہرست میں شامل تھے جو کِم نے پچھلے سال کے اوائل میں ملٹی وار ہیڈ میزائلوں، جاسوس سیٹلائٹس، ٹھوس ایندھن کے طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائلوں اور آبدوز سے لانچ کیے جانے والے جوہری میزائلوں کے ساتھ منظر عام پر لائے تھے۔
      Published by:Mohammad Rahman Pasha
      First published: