اپنا ضلع منتخب کریں۔

    کم جونگ اُن کا فرمان: ملک کی عوام بچوں کے نام ’خوبصورت‘رکھنے کے بجائے رکھیں بندوق‘یا بم جیسے نام

    کم جونگ اُن کا فرمان: ملک کی عوام بچوں کے نام ’خوبصورت‘رکھنے کے بجائے رکھیں بندوق‘یا بم جیسے نام

    کم جونگ اُن کا فرمان: ملک کی عوام بچوں کے نام ’خوبصورت‘رکھنے کے بجائے رکھیں بندوق‘یا بم جیسے نام

    کچھ لوگوں نے یہ پوچھنے کی ہمت بھی کی ہے کہ کیا وہ اپنے بچوں کو ایسے نام دے سکتے ہیں جو حال میں بھکمری اور تکلیف کے دور کو ظاہر کرتے ہیں۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • North Korea
    • Share this:
      شمالی کوریا کے سربراہ کم جونگ اُن نے اب نیا فرمان جاری کیا ہے۔ اس کے حساب سے ملک میں بچوں کے نام ان کے سرپرستوں کو ایسے رکھنے ہوں گے جن میں مٹھان نہ ہو۔ انہوں نے اے ری (پیار کرنے والا)، سو را (پیانو) اور سو ایم آئی (سوپر بیوٹی) جیسے ناموں کے بجائے چونگ اِل (بندوق)، چُنگ سم (وفاداری)، پوک اِل (بم) جیسے نام رکھنے کو کہا ہے۔ اس دائرے میں بچے ہی نہیں، ملک کا ہر شہری آئے گا۔

      کم جونگ نے نئے ناموں کے لیے باقاعدہ گائیڈلائنس جاری کیے ہیں۔ وہ مانتے ہیں کہ ایسے ناموں میں حب الوطنی کا جذبہ جھلکتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ میٹھے اور سافٹ قسم کے نام جنوبی کوریائی طرز کے ہیں جو اب مغربی تہذیب کی علامت بنتے جارہے ہیں۔ کم کا فرمان ہے کہ اس سال کے آخر میں جو شہری اپنا نام بدل کر کچھ انقلابی نہیں رکھیں گے تو وہ یا تو جرمانے بھگتیں گے یا پھر اس سے بھی بدتر حالات کا سامنا کریں گے۔ ڈیلی اسٹار کی رپورٹ کے مطابق ایک شہری نے ریڈیو فری ایشیا کو بتایا کہ لوگ اس بات کی شکایت کررہے ہیں کہ زیادہ تر لوگوں کو اپنا نام بدلنے کو مجبور کررہے ہیں۔

      نام بدلنے کے لیے نوٹس
      گزشتہ کچھ میہنوں سے ہی شمالی کوریائی شہریوں کو لگاتار نام بدلنے کے لیے نوٹس جاری کیے جارہے ہیں۔ ایسے لوگ جو اپنے نام کے آخر میں کچھ انقلابی نام نہیں دے پائے ہیں، انہیں سال کے آخر تک کا وقت دیا گیا ہے۔ انہیں اپنے نام کے آخری میں کچھ ایسا جوڑنا ہوگا جو سیاسی میسیج دے۔ کچھ شمالی کوریائی لوگ اس حکم سے خوش نہیں ہیں۔

      یہ بھی پڑھیں:
      مظاہرین کو روکنے کے لیے چین کی سیکورٹی فورس پوری طرح تیار، لی جارہی ہے موبائل فون کی تلاشی

      یہ بھی پڑھیں:
      امریکہ نے مذہبی آزادی کی خلاف ورزی کرنے والے ممالک کے طور پر 12 کو کیا نامزد

      لوگوں میں ناراضگی
      ایک ناراض شہری نے کہا، انسان اپنا نام کیسے رکھیں، اس کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔ کیا ہم ایک میشن ہیں؟ شمالی کوریا کے لوگ مذاق بن رہے ہیں کہ کیا وہ اپنے بچوں کا نام یونگ چول، مین بوک یا سن ہوئی جیسے پرانے زمانے کے نام دیں گے۔ کچھ لوگوں نے یہ پوچھنے کی ہمت بھی کی ہے کہ کیا وہ اپنے بچوں کو ایسے نام دے سکتے ہیں جو حال میں بھکمری اور تکلیف کے دور کو ظاہر کرتے ہیں۔
      Published by:Shaik Khaleel Farhaad
      First published: