உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    جاسوسی اسکینڈل کے بعد سرخیوں میں آئی کمپنی پیگاسس کو بیچ سکتی ہے NSO؟

    فائل فوٹو

    فائل فوٹو

    بلومبرگ کے مطابق اس معاملے سے واقف ایک شخص نے کہا کہ ایسے حالت میں فنڈس کمپنی میں 200 ملین ڈالر کی نئی رقم ڈالیں گے۔ نئے مالکوں میں ممکنہ دو امریکی شامل ہیں جنہوں نے پیگاسس کو خریدنے اور بند کرنے پر بات چیت کی ہے۔

    • Share this:
      واشنگٹن۔ اسپائی وئیر فرم این ایس او گروپ لمیٹیڈ پر ( .spyware firm NSO Group Ltd) قرضوں کی وجہ سے ڈیفالٹ ہوسکتی ہے۔ مانا جارہا ہے کہ اس کی وجہ سے کمپنی متنازع پیگاسس (Pegasus) کو بند کرنے اور بیچنے کا فیصلہ کرسکتی ہے۔ کمپنی نے اس بارے میں کئی انوسٹمنٹ فنڈس کے ساتھ بات چیت کی ہے جن میں اسے ریفائنیس کرنے یا ایک ساتھ فروخت کرنے کی خبر ہے۔ نیوز ایجنسی بلومبرگ کے مطابق نام نہ شائع کرنے کی شرط پر اس معاملے پر کہا گیا ہے کہ کمپنی مدد کے لئے .Moelis & Co سے ایڈوائزر لائی ہے۔ کمپنی کو اُدھار دینے والوں کو Willie Farr وکیلوں سے صلاح مل رہی ہے۔ نئے مالکوں سے ممکنہ دو امریکی شامل ہیں جنہوں نے پیگاسس کو خریدنے اور بند کرنے پر بات کی ہے۔

      بلومبرگ کے مطابق اس معاملے سے واقف ایک شخص نے کہا کہ ایسے حالت میں فنڈس کمپنی میں 200 ملین ڈالر کی نئی رقم ڈالیں گے۔ نئے مالکوں میں ممکنہ دو امریکی شامل ہیں جنہوں نے پیگاسس کو خریدنے اور بند کرنے پر بات چیت کی ہے۔

      ڈیٹا وائر نے دی تھی سب سے پہلے اطلاع
      مانا جارہا ہے کہ اس کے ذریعے پیگاسس کی اطلاع کو سائبر دنیا میں محفوظ رکھنے اور اسرائیلی کمپنی کی ڈرون تکنیک کو تیار کیا جائے گا۔ بلومبرگ کے مطابق، این ایس او، Moelis اور Willkie Farr کے نمائندوں نے کوئی جانکاری دینے سے انکار کردیا ہے۔ ممکنہ لین دین کی اطلاع پہلے ڈیٹا وائر (Debtwire) کو دی گئی تھی۔

      بتادیں کہ پیگاسس سافٹ ویئر یوزر کے موبائل فون کو ٹریک کرسکتا ہے۔ اس کے مبینہ غلط استعمال کے معاملوں کے بعد این ایس او ہائی پروفائل رازداری اور انسانی حقوق کے غلط استعمال کے کیسیز کو دنیا کے سامنے لادیا ہے۔ حال کے مہینوں میں کم سے کم نو فارین ڈپارٹمنٹ کے ملازمین کے موبائل فون ہیک کرنے کے لئے پیگاسس کا استعمال کرنے کی بھی اطلاع ملی تھی۔



      قومی، بین الاقوامی اور جموں وکشمیر کی تازہ ترین خبروں کےعلاوہ تعلیم و روزگار اور بزنس کی خبروں کے لیے نیوز18 اردو کو ٹویٹر اور فیس بک پر فالو کریں ۔
      Published by:Shaik Khaleel Farhaad
      First published: