ہوم » نیوز » عالمی منظر

اوبامہ اور کاسترو کے درمیان تاریخی ملاقات ،88 سال بعد ٹوٹا جمود

ہوانا : کیوبا کے تاریخی تین روزہ دورے پر آئے امریکی صدر براک اوبامہ نے کیوبا کے اپنے ہم منصب راؤل کاسترو سے صدارتی محل میں ملاقات کی۔ گزشتہ 57 سال کے دوران دونوں ممالک کے قومی سربراہان کی یہ پہلی دو طرفہ ملاقات ہے۔ دارالحکومت ہوانا واقع ’پیلس آف دی ریولیوشن‘اس تاریخی اجلاس کا گواہ بنا۔اس دوران مسٹراوبامہ نے کیوبا میں اقتصادی اور سیاسی اصلاحات کا مسئلہ اٹھایا تو وہیں مسٹر کاسترو نے کیوبا پر عائد امریکی پابندیوں کو ہٹانےکے مطالبے کا اعادہ کیا۔

  • UNI
  • Last Updated: Mar 22, 2016 10:10 AM IST
  • Share this:
  • author image
    NEWS18-Urdu
اوبامہ اور کاسترو کے درمیان تاریخی ملاقات ،88 سال بعد ٹوٹا جمود
ہوانا : کیوبا کے تاریخی تین روزہ دورے پر آئے امریکی صدر براک اوبامہ نے کیوبا کے اپنے ہم منصب راؤل کاسترو سے صدارتی محل میں ملاقات کی۔ گزشتہ 57 سال کے دوران دونوں ممالک کے قومی سربراہان کی یہ پہلی دو طرفہ ملاقات ہے۔ دارالحکومت ہوانا واقع ’پیلس آف دی ریولیوشن‘اس تاریخی اجلاس کا گواہ بنا۔اس دوران مسٹراوبامہ نے کیوبا میں اقتصادی اور سیاسی اصلاحات کا مسئلہ اٹھایا تو وہیں مسٹر کاسترو نے کیوبا پر عائد امریکی پابندیوں کو ہٹانےکے مطالبے کا اعادہ کیا۔

ہوانا : کیوبا کے تاریخی تین روزہ دورے پر آئے امریکی صدر براک اوبامہ نے کیوبا کے اپنے ہم منصب راؤل کاسترو سے صدارتی محل میں ملاقات کی۔ گزشتہ 57 سال کے دوران دونوں ممالک کے قومی سربراہان کی یہ پہلی دو طرفہ ملاقات ہے۔ دارالحکومت ہوانا واقع ’پیلس آف دی ریولیوشن‘اس تاریخی اجلاس کا گواہ بنا۔اس دوران مسٹراوبامہ نے کیوبا میں اقتصادی اور سیاسی اصلاحات کا مسئلہ اٹھایا تو وہیں مسٹر کاسترو نے کیوبا پر عائد امریکی پابندیوں کو ہٹانےکے مطالبے کا اعادہ کیا۔


مسٹر اوبامہ اور مسٹر کاسترو کی اس سیدھی بات پر پوری دنیا کی نظریں ٹکی ہوئی تھی۔ تاہم، دونوں سربراہان کے درمیان اس سے پہلے بھی تین بار ملاقاتیں ہو چکی ہیں۔ سال 2013 اور گزشتہ سال اپریل اور ستمبر میں دونوں کی ملاقات کے دوران دو طرفہ تعلقات پر بات چیت نہیں ہو پائی تھی۔ سرد جنگ کے زمانے کے دونوں حریفوں نے دہائیوں کی ترشی اور تلخی کو پیچھے چھوڑ کر دسمبر 2014 میں سفارتی تعلقات بحال کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ تعلقات کو نیا موڑ دینے کے مقصد سے مسٹراوبامہ اپنی صدارت کے آخری دور میں اتوار کو تین روزہ دورے پر کیوبا پہنچے ہیں۔


غور طلب ہے کہ مسٹر اوباما گزشتہ 88 سال کے دوران لاطینی امریکی ملک کے دورے پر آنے والے پہلے امریکی صدر ہیں۔ اپنی بیوی مشیل اوبامہ اور دونوں بیٹیوں کے ساتھ مسٹراوبامہ نے جب ہوانا کی زمین پر قدم رکھا تو ہلکی بارش ہو رہی تھی۔ مسٹر اوبامہ حال ہی میں یہاں پر کھلے امریکی سفارت خانے بھی پہنچے۔ یہاں ملازمین سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے اپنے دورے کو کیوبا کے عوام کے ساتھ براہ راست بات چیت کا تاریخی لمحہ قرار دیا۔


مسٹر اوبامہ منگل کے روز سفارت خانے میں انسانی حقوق کے کارکنوں سے بھی ملاقات کریں گے اور پھر میڈیا کو بھی خطاب کریں گے۔  اس کے بعد بیس بال میچ کا لطف لے کر وہ اپنے خاندان سمیت وطن لوٹ جائیں گے۔ تاہم اس دورے میں مسٹراوبامہ کا کیوبا کے سابق  صدر اور انقلابی لیڈر فیڈل کاسترو سے ملاقات نہیں ہوگی۔ اس کی وجہ سابق صدر کی خرابی صحت بتایا گیا ہے۔


صحت کی وجوہات کے پیش نظر ہی انہوں نے 2008 میں اپنے چھوٹے بھائی راؤل کاسترو کو ملک کی باگ ڈور سونپی تھی۔  واضح رہے کہ کیوبا کے انقلاب کے دوران 1959 میں امریکہ کی حمایت یافتہ حکومت کا تختہ پلٹ ہوا تھا جس کے بعد سے دونوں ممالک  کے درمیان سفارتی تعلقات ختم ہو گئے تھے۔

First published: Mar 22, 2016 10:10 AM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading