ہوم » نیوز » عالمی منظر

سعودی عرب پر مقدمے کی امریکی سیاستدانوں کی تائید کے پس منظر میں اوبامہ کا ریاض کا دورہ

واشنگٹن : صدر امریکہ بارک اوبامہ آج جہاں سعودی دورے پر ریاض روانہ ہو رہے ہیں وہیں امریکہ کے دونوں صدارتی امیدواروں ہیلری کلنٹن اور برنی سینڈرز نے اس بل کی حمایت کا اعلان کر دیا ہے

  • UNI
  • Last Updated: Apr 19, 2016 06:12 PM IST
  • Share this:
  • author image
    NEWS18-Urdu
سعودی عرب پر مقدمے کی امریکی سیاستدانوں کی تائید کے پس منظر میں اوبامہ کا ریاض کا دورہ
واشنگٹن : صدر امریکہ بارک اوبامہ آج جہاں سعودی دورے پر ریاض روانہ ہو رہے ہیں وہیں امریکہ کے دونوں صدارتی امیدواروں ہیلری کلنٹن اور برنی سینڈرز نے اس بل کی حمایت کا اعلان کر دیا ہے

واشنگٹن : صدر امریکہ بارک اوبامہ آج جہاں سعودی دورے پر ریاض روانہ ہو رہے ہیں وہیں امریکہ کے دونوں صدارتی امیدواروں ہیلری کلنٹن اور برنی سینڈرز نے اس بل کی حمایت کا اعلان کر دیا ہے جس کے مطابق 9/11 متاثرین کے خاندان اُن حکومتوں کے خلاف مقدمہ دائر کرسکتے ہیں جن کے شہری حملے میں ملوث تھے۔

اوبامہ انتظامیہ نہ صرف اس بل کو منظور ہونے سے روک رہی ہے بلکہ وہ کانگرس کو ورلڈ ٹریڈ سینٹر پر 11 ستمبر 2001 کو ہونے والے حملے کی اُن دستاویزات کو سامنے لانے سے بھی روک رہی ہے جس میں سعودی عرب پر الزام لگایا گیا ہے۔ دوسری طرف امریکی قانون ساز اس بات کی نشاندہی کرچکے ہیں کہ 19 میں سے 15 ہائی جیکروں کا تعلق سعودی عرب سے تھا اور اب تک سعودی شہریوں کو امریکہ میں کسی جانچ پڑتال کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔

اس بل کی وجہ سے سعودی-امریکی تعلقات میں کشیدگی پیدا ہوگئی ہے اورسعودی عرب نے بل کی منظوری پر امریکہ کے ساتھ کی گئی 750 بلین ڈالر کی سرمایہ کاری واپس لینے کی دھمکی دے دی ہے۔سعودی عرب نے اوبامہ پر مشرقِ وسطیٰ میں ایران کی پوزیشن کی بحالی کا الزام بھی عائد کیا ہے۔ واقعہ ہے کہ ایران نے امریکہ کے ساتھ نیوکلیائی معاہدے طے کرکے اپنی معیشت مستحکم کر لی ہے۔یہ تنازع امریکی صدر اوبامہ کے دورہ سعودی عرب سے چند دن قبل سامنے آیا ہے۔

امریکی میڈیا کے مطابق حکومت کے پاس حفاظت سے موجود ان 28 صفحات میں 9/11 کے ہائی جیکرز کے ساتھ سعودی عرب کے روابط کے ثبوت موجود ہیں جو 838 صفحات پر مبسوط رپورٹ کا حصہ ہے۔ گزشتہ ماہ امریکی سینیٹ کی عدالتی کمیٹی میں دہشت گردی کی کفالت کرنے والوں کے خلاف منظور ہونے والے بل میں ہر چند کہ سعودی عرب کا نام موجود نہیں، تاہم اکثر خاندانوں نے سعودی حکومت کے خلاف مقدمہ دائر کرنے کا فیصلہ ابھی سے کرلیا ہے۔

اے بی سی نیوز سے بات کرتے ہوئے صدارتی امیدوار ہیلری کلنٹن نے کہا کہ ظاہر ہے کہ ہمیں اُن تمام لوگوں کو، جو دہشت گردی کا حصہ ہیں یا اس کی حمایت کرتے ہیں، سبق سکھاناہے اور ہمیں اُن تمام نتائج کو مدِنظر رکھنا ہوگا جو امریکی شہریوں یا فوج پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے اپنے ایک اور حتمی بیان میں کہا کہ دہشت گردی کے متاثرین اور ان کے خاندان کو ذمہ داروں کا احتساب کرنا ہوگا اور صدر کی حیثیت سے وہ کانگریس کے ساتھ اس معاملے پر کام کریں گی۔

دوسرے صدارتی امیدوار برنی سینڈرز نے کہا ہے کہ وہ سینیٹر چک شمرز کی جانب سے اس قانون سازی کی حمایت کرتے ہیں جو امریکیوں بالخصوص 9/11 کے متاثرین کو اس بات کی اجازت دے گا کہ وہ امریکی عدالتوں کو استعمال کرتے ہوئے اس بات کا تعین کرسکیں کہ امریکہ میں بین اقوامی ادارے دہشت گردی کے حملوں کے مجرم ہیں اور کیا وہ اپنے جانی و مالی نقصان کا معاوضہ حاصل کرسکتے ہیں۔
ریپبلکن اور ڈیموکریٹک قانون ساز، کانگریس کی 838 صفحات پر مشتمل رپورٹ کے 28 صفحات، جن میں 9/11 کے بارے میں بیان کیا گیا ہے، سامنے لانے کا زوروشور سے مطالبہ کر رہے ہیں۔ ان 28 صفحات میں 9/11 کے ہائی جیکرز کے ساتھ سعودی عرب کے روابط کے مبینہ ثبوت موجود ہیں۔ واضح رہے کہ 9/11 حملے کے ہزاروں متاثرین کے خاندان کئی سال سے حکومت سے یہ مطالبہ کر رہے تھے کہ وہ ان 28 صفحات کو سامنے لے آئیں اور سعودی عرب پر مقدمہ دائر کریں۔
شروع میں ہیلری کلنٹن اور برنی سینڈردونوں ہی اس تنازع کا حصہ نہیں بننا چاہتے تھے لیکن جب میڈیا رپورٹس اور سروے میں اس بات کہ نشاندہی ہوئی کہ امریکی شہری حملے میں ملوث تمام حکومتوں کے خلاف قانونی چارہ جوئی کرنا چاہتے ہیں تو انہوں نے اپنا موقف تبدیل کرلیا۔ ہیلری کلنٹن نے اس بات کی بھی یقین دہانی کرائی ہےکہ وہ اوبامہ انتظامیہ کی طرف سے بل کو روکنے کی کوششوں کی حمایت نہیں کریں گی۔برنی سینڈرز نے تو یہ بھی کہہ دیا ہے کہا کہ ’ان 28 صفحات کے مآخذ کو اور ہائی جیکرز کو موصول ہونے والی غیر ملکی امداد کے ممکنہ ذرائع کو بھی سامنے لایا جائے‘۔
فلوریڈا کے سابق سینیٹر باب گراہم نے امریکی حکومت پر زوردیا کہ وہ سعودی عرب سے بلیک میل نہ ہوں۔ ان کا کہنا ہے کہ سعودی عرب کو اس بات کی فکر ہے کہ اگر بل منظور ہوگیا تو اس کے 'دہشت گردوں کے ساتھ تعلقات بے نقاب ہو جائیں گے۔ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ زیادہ قابلِ اعتراض بات یہ ہے کہ امریکی حکومت سعودی عرب کی حمایت کر رہی ہے اور قانون سازی کی منظوری میں روڑے اٹکا رہی ہے۔
First published: Apr 19, 2016 06:12 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading