ہوم » نیوز » عالمی منظر

مصر، اردن، بحرین اور یو اے ای کے بعد اب عمان بھی اسرائیل سے کرے گا دوستی

بحرین کے اسرائیل کے ساتھ امن سمجھوتہ قائم کرنے کے فیصلے کی عمان نے تعریف کی ہے جس کے بعد مانا جا رہا ہے کہ اس ضمن میں اب اگلا نمبر عمان کا ہی ہے۔ ادھر ایران نے بحرین کے اس قدم کو دھوکہ بتایا ہے اور اس کے برے نتائج کی وارننگ دی ہے۔

  • Share this:
مصر، اردن، بحرین اور یو اے ای کے بعد اب عمان بھی اسرائیل سے کرے گا دوستی
مصر، اردن، بحرین اور یو اے ای کے بعد اب عمان بھی اسرائیل سے کرے گا دوستی

مسقط ۔ دہائیوں سے چلی آ رہی دشمنی کو بھلا کر مشرق وسطیٰ کے ممالک مصر (Egypt)، اردن (Jordon)، متحدہ عرب امارات (UAE) اور بحرین (Bahrain) نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی رشتے قائم کر لئے ہیں۔ بحرین کے اسرائیل کے ساتھ امن سمجھوتہ قائم کرنے کے فیصلے کی عمان نے تعریف کی ہے جس کے بعد مانا جا رہا ہے کہ اس ضمن میں اب اگلا نمبر عمان (Oman) کا ہی ہے۔ ادھر ایران نے بحرین کے اس قدم کو دھوکہ بتایا ہے اور اس کے برے نتائج کی وارننگ دی ہے۔


عرب نیوز کے مطابق، حال ہی میں اسرائیل اور بحرین اپنے رشتوں کو پوری طرح سے معمول بنانے کو لے کر ایک تاریخی سمجھوتے پر متفق ہوئے ہیں۔ اس سے پہلے متحدہ عرب امارات اور اسرائیل کے درمیان امن سمجھوتہ کی رسمی شروعات پہلی باقاعدہ اڑان کے ساتھ ہوئی تھی۔ بتا دیں کہ مشرق وسطیٰ کے ملکوں اور اسرائیل کے بیچ فلسطین کے مسئلہ پر اختلافات رہے ہیں اور ان کے بیچ تین جنگیں بھی ہو چکی ہیں۔ عرب ملکوں کی مانگ رہی ہے کہ اسرائیل کو فلسطین کو ایک آزاد ملک کا درجہ دینا چاہئے۔ ایران اسی لئے ہی اس بات چیت کو دھوکہ بتا رہا ہے کیونکہ یہ زیادہ تر ممالک اب فلسطین کی مانگ سے جڑے اپنے معاملوں کو پیچھے چھوڑ چکے ہیں۔


مصر کی رکنیت منسوخ ہوئی تھی


بتا دیں کہ عرب ملکوں اور اسرائیل کے درمیان رشتے اتنے خراب تھے کہ 1979 میں مصر کے اسرائیل سمجھوتے پر دستخط کرنے کے بعد اسے عرب لیگ نے نکال دیا تھا۔ مصر کے بعد اردن 1994 میں اسرائیل کے ساتھ امن سمجھوتے پر دستخط کرنے والا دوسرا ملک بنا تھا۔ اب متحدہ عرب امارات اور بحرین نے بھی اسرائیل کو تسلیم کر لیا ہے۔ ادھر ایران اور ترکی جیسے ملکوں نے اسرائیل کو تسلیم کرنے کی اس نئی شروعات پر اپنا سخت اعتراض جتایا ہے اور اس کی مذمت کی ہے۔

عمان بھی قطار میں

متحدہ عرب امارات اور بحرین کے بعد اب اس بات کا امکان بڑھتا دکھ رہا ہے کہ جلد ہی عمان کے ساتھ بھی اسرائیل کا امن سمجھوتہ ہو سکتا ہے اور اس کے ساتھ ہی ان دونوں ملکوں کے درمیان باقاعدہ سفارتی رشتوں کا آغاز ہو سکتا ہے۔ سال 2018 میں اسرائیل کے وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو عمان کے دورے پر بھی جا چکے ہیں۔ تب انہوں نے عمان کے اس وقت کے رہنما سلطان قابوس کے ساتھ وسط ۔ مشرق میں امن قائم کرنے کو لے کر تبادلہ خیال کیا تھا۔

حالانکہ، عمان نے ابھی اسرائیل کو تسلیم کرنے اور اس کے ساتھ کسی بھی طرح کے سمجھوتے کے امکانات کے بارے میں رسمی طور پر کچھ کہا نہیں ہے۔ لیکن، عمان نے بحرین اور اسرائیل کے امن سمجھوتے کا خیرمقدم کیا ہے اور اسے اسرائیل اور فلسطین کے درمیان امن قائم کرنے میں اہم رول نبھانے والا قدم بتایا ہے۔ اس کے بعد سے اسرائیل کے ساتھ عمان کے امن سمجھوتے کی قیاس آرائیاں تیز ہو گئی ہیں۔
Published by: Nadeem Ahmad
First published: Sep 15, 2020 09:19 AM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading