உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    یہاں بچیوں کے باندھ دئے جاتے تھے پاؤں، بھیانک درد دیکر مردوں کو خوش کرنا تھا سبب

    venezuela weird tradition: دوسری وجہ یہ تھی کہ پاؤں موڑ دینے سے خون کا بہاؤ پرائیویٹ پارٹ کی طرف نیچے سے اوپر کی طرف ہوتا تھا۔ اس طرح خواتین جنسی تعلقا بنانے میں زیادہ سرگرم ہو جاتی تھیں۔ مجموعی طور پر یہ سارا عمل مردوں کی خوشی کے لیے کیا جاتا تھا۔

    venezuela weird tradition: دوسری وجہ یہ تھی کہ پاؤں موڑ دینے سے خون کا بہاؤ پرائیویٹ پارٹ کی طرف نیچے سے اوپر کی طرف ہوتا تھا۔ اس طرح خواتین جنسی تعلقا بنانے میں زیادہ سرگرم ہو جاتی تھیں۔ مجموعی طور پر یہ سارا عمل مردوں کی خوشی کے لیے کیا جاتا تھا۔

    venezuela weird tradition: دوسری وجہ یہ تھی کہ پاؤں موڑ دینے سے خون کا بہاؤ پرائیویٹ پارٹ کی طرف نیچے سے اوپر کی طرف ہوتا تھا۔ اس طرح خواتین جنسی تعلقا بنانے میں زیادہ سرگرم ہو جاتی تھیں۔ مجموعی طور پر یہ سارا عمل مردوں کی خوشی کے لیے کیا جاتا تھا۔

    • Share this:
      Weird Tradition: دنیا کے ہر ملک کے اپنے عقائد ہوتے ہیں لیکن کچھ ایسے عجیب و غریب ہوتے ہیں کہ جب دوسرے ممالک کے لوگوں کو ان کے بارے میں معلوم ہوتا ہے تو ان کی روح کانپ جاتی ہے۔ بہت سی روایت اب ختم ہو چکی ہوں لیکن وہ اب بھی تاریخ کے اوراق میں درج ہیں اور لوگوں کو حیران کر دیتی ہیں۔ ایسا ہی ایک رواج چین میں ہوا جہاں چین میں چھوٹی بچیوں کو پاؤں باندھنے (Foot binding tradition in China) کی روایت ہے۔

      پاؤں باندھنے کا یہ عمل(Chinese foot binding weird tradition) کمل جیسے پاؤں (Lotus feet) حاصل کرنے کے لیے کیا جاتا تھا۔ یہ رسم چین میں کئی صدیوں سے چلی آ رہی ہے۔ برٹانیکا ویب سائٹ کی رپورٹ کے مطابق یہ رواج 10ویں صدی میں شروع ہوا۔ جب لڑکیاں 4 سے 6 سال کی ہوتی تھیں تو ان کے پاؤں پٹی سے باندھ دئے جاتے تھے۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ یہ ظلم 3 سال تک کی لڑکیوں سے لیکر 12 سال تک کی لڑکیوں کے ساتھ بھی کیا جاتا تھا۔

      یہ بھی پڑھئے: Pakistan: ہر ہفتے دلہن بن کر تیار ہوتی ہے یہ خاتون، 16سال سے چل رہا ہے عجیب و غریب سلسلہ!

      مردوں کو خوش کرنے کے لیے باندھے جاتے تھے پاؤں
      پاؤں کی 4 انگلیاں تلووں کے اندر کی طرف موڑ کر اس طرح جوڑ دی جاتی تھیں کہ آگے سے پاؤں نوکیلا نظر آئے۔ یہ بہت تکلیف دہ عمل تھا۔ درمیان میں پٹیاں کھول کر پاؤں صاف کر کے خون، پیپ، پھوڑے وغیرہ صاف کر کے دوبارہ باندھ دیا جاتا تھا۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ایسا کیوں کیا جاتا تھا؟ رپورٹس کے مطابق اس زمانے میں مرد چھوٹے اور نوکیلے پاؤں پسند کرتے تھے۔ جس کی وجہ سے آگے سے خواتین کے لیے نوکیلے جوتے بنائے جاتے تھے۔ دوسری وجہ یہ تھی کہ پاؤں موڑ دینے سے خون کا بہاؤ پرائیویٹ پارٹ کی طرف نیچے سے اوپر کی طرف ہوتا تھا۔ اس طرح خواتین جنسی تعلقا بنانے میں زیادہ سرگرم ہو جاتی تھیں۔ مجموعی طور پر یہ سارا عمل مردوں کی خوشی کے لیے کیا جاتا تھا۔

      مزید پڑھئے:  لاشوں کو ساتھ رکھتے ہیں یہاں کے لوگ، ہر روز دیتے ہیں گرم کھانا، گزارتے ہیں ان کے ساتھ نارمل زندگی

      یہ روایت 1949 میں ختم ہوئی۔
      اس رواج سے عورتوں کو بلوغت، مہاوری اور زچگی کے لیے تیار کیا جاتا تھا۔ دوسری بات یہ ہے کہ یہ رواج یہ ظاہر کرتا تھا کہ اگر عورتیں فرمانبردار ہوں گی تو وہ اپنے شوہروں کے تابع ہو جائیں گی۔ ماں، دادی یا گھر کی دوسری عورتیں اس عمل کو انجام دیتی تھیں۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ اس روایت سے معذور ہونے کا خطرہ بڑھ جاتا تھا۔ گینگرین، السر، یا موت کا خوف بھی تھا۔ حالانکہ، اس موت کے معاملات کو انتہائی نایاب سمجھا جاتا تھا۔ سنہ 1662 میں کوئنگ سلطنت نے اس پر پابندی عائد کر دی تھی لیکن لوگ اس کے باوجود بھی ایسا کر رہے تھے اس لیے 1668 میں پابندی ہٹا دی گئی۔ جب 1949 میں پیپلس ریپبلک آف چاینا کا کا قیام عمل میں آیا تو اس رواج کو مکمل طور پر ختم کر دیا گیا۔
      Published by:Sana Naeem
      First published: