உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    ماحولیاتی تحفط کی سمت ایک قدم! پاکستان میں بنی پہلی Plastic Road، دس ٹن کچرے کا ہوا استعمال

    کوکا کولا پاکستان کے وی پی فہد اشرف (Fahad Ashraf) نے کہا کہ ’’وزیراعظم عمران خان نے ہمیں ایسے حل تلاش کرنے کا وژن دیا ہے، جس سے عام آدمی کی خدمت ہوسکے۔ مجھے یہ کہتے ہوئے خوشی ہو رہی ہے کہ یہ سڑک وژن کا حصہ ہے کیونکہ یہ نوکریاں فراہم کرتی ہے۔ حکومت کی جانب سے ادا کیے جانے والے مرمت کے اخراجات کو بچاتی ہے اور سب سے بڑھ کر ہمارے ماحول کی حفاظت کرتی ہے‘‘۔

    کوکا کولا پاکستان کے وی پی فہد اشرف (Fahad Ashraf) نے کہا کہ ’’وزیراعظم عمران خان نے ہمیں ایسے حل تلاش کرنے کا وژن دیا ہے، جس سے عام آدمی کی خدمت ہوسکے۔ مجھے یہ کہتے ہوئے خوشی ہو رہی ہے کہ یہ سڑک وژن کا حصہ ہے کیونکہ یہ نوکریاں فراہم کرتی ہے۔ حکومت کی جانب سے ادا کیے جانے والے مرمت کے اخراجات کو بچاتی ہے اور سب سے بڑھ کر ہمارے ماحول کی حفاظت کرتی ہے‘‘۔

    کوکا کولا پاکستان کے وی پی فہد اشرف (Fahad Ashraf) نے کہا کہ ’’وزیراعظم عمران خان نے ہمیں ایسے حل تلاش کرنے کا وژن دیا ہے، جس سے عام آدمی کی خدمت ہوسکے۔ مجھے یہ کہتے ہوئے خوشی ہو رہی ہے کہ یہ سڑک وژن کا حصہ ہے کیونکہ یہ نوکریاں فراہم کرتی ہے۔ حکومت کی جانب سے ادا کیے جانے والے مرمت کے اخراجات کو بچاتی ہے اور سب سے بڑھ کر ہمارے ماحول کی حفاظت کرتی ہے‘‘۔

    • Share this:
      پاکستان نے پلاسٹک کے کچرے (plastic waste) سے بننے والی اپنی پہلی سڑک کا افتتاح کر دیا ہے۔ ملک میں اپنی نوعیت کے ایک اقدام میں کوکا کولا پاکستان نے کیپٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی اور نیشنل انکیوبیشن سینٹر کے تعاون سے پلاسٹک کے کچرے کو استعمال کرتے ہوئے پہلی بار دوبارہ کارپٹ شدہ سڑک کی تعمیر کی۔

      اتاترک ایونیو (Ataturk Avenue) اسلام آباد کے قریب تعمیر کی گئی ایک کلومیٹر طویل پلاسٹک سڑک نے تقریباً 10 ٹن پلاسٹک کے کچرے کو ری سائیکل کرنے میں مدد کی ہے۔ گلف نیوز کی رپورٹ کے مطابق پلاسٹک کے فضلے کو استعمال کرتے ہوئے سڑک کو دوبارہ کارآمد بنانا 'ورلڈ وداؤٹ پلاسٹک' (World Without Plastic) پروگرام کا حصہ ہے اور اس کا افتتاح وزیر داخلہ شیخ رشید احمد نے کیا۔


      کوکا کولا پاکستان کے وی پی فہد اشرف (Fahad Ashraf) نے کہا کہ ’’وزیراعظم عمران خان نے ہمیں ایسے حل تلاش کرنے کا وژن دیا ہے، جس سے عام آدمی کی خدمت ہوسکے۔ مجھے یہ کہتے ہوئے خوشی ہو رہی ہے کہ یہ سڑک وژن کا حصہ ہے کیونکہ یہ نوکریاں فراہم کرتی ہے۔ حکومت کی جانب سے ادا کیے جانے والے مرمت کے اخراجات کو بچاتی ہے اور سب سے بڑھ کر ہمارے ماحول کی حفاظت کرتی ہے‘‘۔

      حکومتی اندازے کے مطابق پاکستان میں روزانہ 87,000 ٹن ٹھوس فضلہ پیدا ہوتا ہے اور ملک ہر سال تقریباً 55 ارب پلاسٹک کے تھیلے تیار کرتا ہے۔ تمام فضلہ ڈمپوں، لینڈ فلز اور گٹروں کو بھر کر ختم ہو جاتا ہے۔ کوکا کولا پاکستان نے کیپٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی اور ٹیکنالوجی ہب ٹیم اپ کے ساتھ سڑکوں کو دوبارہ کارآمد کرنے کے لیے شراکت داری کی۔ اس منصوبے کی کل لاگت 21 ملین پاکستانی روپے ہے۔

      یہ بات قابل ذکر ہے کہ کوکا کولا کی جانب سے 2018 میں 'ورلڈ ود آؤٹ ویسٹ' اقدام کا آغاز کیا گیا تھا، جہاں کمپنی نے ہر بوتل کو جمع کرنے اور ری سائیکل کرنے کا عہد کیا تھا۔
      قومی، بین الاقوامی اور جموں وکشمیر کی تازہ ترین خبروں کےعلاوہ تعلیم و روزگار اور بزنس کی خبروں کے لیے نیوز18 اردو کو ٹویٹر اور فیس بک پر فالو کریں ۔

      Published by:Mohammad Rahman Pasha
      First published: