உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Crisis in Sri Lanka:صدر کے خلاف تحریک عدم اعتماد اور مواخذہ پر بحث کے لئے اپوزیشن آج کرے گا اہم میٹنگ

    ایس جے بی لیڈر ساجیت پریماداسا نے بدھ کو صدر کے خلاف مواخذے کی تحریک اور حکومت کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک پر دستخط کئے۔

    ایس جے بی لیڈر ساجیت پریماداسا نے بدھ کو صدر کے خلاف مواخذے کی تحریک اور حکومت کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک پر دستخط کئے۔

    Crisis in Sri Lanka: سنہالی، تامل اور متعدد مسلمان سری لنکا کے صدارتی سیکرٹریٹ کے باہر جمع ہوئے،وہ 'گو گوٹا گو' کے نعرے لگا رہے تھے اور ملک کی اقتصادی حالت کے لیے صدر گوٹا بایا راجا پاکسے کو موردِ الزام ٹھہرا رہے تھے۔

    • Share this:
      کولمبو: معاشی بحران کا شکار سری لنکا میں سیاسی عدم استحکام بھی دن بدن بڑھتا جا رہا ہے۔ سری لنکا کی اپوزیشن کی جماعت سماگی جنا بال ویگیا (SJB) آج اتوار کو ایک میٹنگ کرے گی جس میں حکمراں حکومت کے خلاف تحریک عدم اعتماد اور صدر گوٹابایا راجاپکسے کے خلاف مواخذے کی تحریک کے بارے میں اپنے اگلے لائحہ عمل کا فیصلہ کیا جائے گا، مقامی میڈیا نے ہفتہ کو رپورٹ کیا۔ کولمبو پیج کی رپورٹ کے مطابق، SJB پارٹی نے کہا کہ وہ 19 اپریل کو پارلیمنٹ کے بلائے جانے پر مواخذے اور تحریک عدم اعتماد کو اسپیکر کو پیش کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ اپوزیشن لیڈر اور ایس جے بی لیڈر ساجیت پریماداسا نے بدھ کو صدر کے خلاف مواخذے کی تحریک اور حکومت کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک پر دستخط کئے۔

      یہ بھی پڑھیں:
      سری لنکا کے اسپتالوں میں دواؤں کی قلت، صدارتی دفتر کے باہر مظاہرین نے منایا روایتی نیا سال

      دریں اثنا، ایک سیاسی جماعت، سیلون ورکرز کانگریس (CWC) نے حکومت کے خلاف تحریک عدم اعتماد کی حمایت نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ سی ڈبلیو سی کے صدر ایم پی مرداپندی رامیشورن نے کہا کہ پارٹی کو توقع ہے کہ وہ تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ سے باز رہے گی۔ سیلون ورکرز کانگریس کے دو ارکان پارلیمنٹ میں نمائندگی کر رہے ہیں۔ دونوں اس وقت پارلیمنٹ کے آزاد ارکان کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں۔

      یہ بھی پڑھیں:
      'اتنا میں تو سری لنکا خرید لو'، ایلن مسک کے Twitter کو خریدنے کے آفر پر لوگوں کا مشورہ

      ملک کے معاشی بحران کے لئے صدر کو ٹھہرایا جارہا ہے ذمہ دار
      بتادیں کہ کئی اپوزیشن جماعتوں سمیت مختلف کمیونٹیز کے لوگ سری لنکا کی حکومت کے معاشی حالات سے نمٹنے کے طریقے کی مخالفت کر رہے ہیں۔ جمعہ کے روز، سنہالی، تامل اور متعدد مسلمان سری لنکا کے صدارتی سیکرٹریٹ کے باہر جمع ہوئے،وہ 'گو گوٹا گو' کے نعرے لگا رہے تھے اور ملک کی اقتصادی حالت کے لیے صدر گوٹا بایا راجا پاکسے کو موردِ الزام ٹھہرا رہے تھے۔
      Published by:Shaik Khaleel Farhaad
      First published: