உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Kabul Attack:گرودوارا کرتے پروان صاحب پر حملے کے بعد اقلیتوں میں خوف،150 سے زائد سکھ ہندوستانی ویزا کے منتظر

    کابل میں واقع گرودوارہ پر دہشت گردانہ حملہ۔(فائل تصویر)

    کابل میں واقع گرودوارہ پر دہشت گردانہ حملہ۔(فائل تصویر)

    گرونام سنگھ (Gurnam Singh)نے کہا- طالبان کی واپسی کے بعد اس وقت 150 سے زیادہ افغان سکھ ہیں جو ہندوستان آنا چاہتے ہیں۔ اس کے پاس ہندوستانی ویزا بھی تھا لیکن طالبان کی افغانستان واپسی کے بعد اسے معطل کر دیا گیا تھا۔

    • Share this:
      کابل: ہفتے کے روز کابل میں گوردوارہ کرتے پروان صاحب (Gurdwara Karta-E-Parwan)پر ہونے والے دہشت گردانہ حملے سے افغانستان میں بسنے والی اقلیتیں خوفزدہ ہیں۔ خبر رساں ایجنسی پی ٹی آئی کے مطابق گوردوارے میں مقیم 150 سے زائد سکھ ہندوستان آنے کے لیے ویزوں کا بے صبری سے انتظار کر رہے ہیں۔ گوردوارہ کرتے پروان صاحب کے صدر گرونام سنگھ نے حکومت ہند پر زور دیا ہے کہ وہ افغانستان سے ہندوؤں اور سکھوں کو نکالنے کی کوششیں تیز کرے۔

      100 ہندووں اور سکھوں کو ای۔ویزا
      حالانکہ خبررساں ایجنسی اے این آئی نے اپنی رپورٹ یں کہا ہے کہ حکومت ہند نے کابل گرودوارے پر حملے کے بعد ترجیحی بنیادوں پر 100 ہندووں اور سکھوں کو ای ویزا کی منظوری دے دی۔ ایسا نہیں ہے کہ ہندوستانی حکومت نے یہ قدم پہلی بار اٹھایا ہے۔ اس سے پہلے جب طالبان نے افغانستان پر قبضہ کرنے کے لئے حملہ کیا تھا، تو ہندوستان نے ای ویزے جاری کیے تھے۔

      • گرودوارے پر ہوئے حملے میں دو کی موت ہوگئی تھی جب کہ 7 دیگر زخمی ہوگئے تھے۔

      • سیکورٹی اہلکاروں اور دہشت گردوں کے درمیان کئی گھنٹے تک ہوئی فائرنگ میں تین دہشت گرد مارے گئے۔

      • دہشت گرد گروپ اسلامک اسٹیٹ نے گرودوارہ ’کرتے پروان‘ پر حملے کی ذمہ داری لی۔

      • اقوام متحدہ کے مشن نے بھی کابل میں گرودوارے پر ہوئے حملے کی مذمت کی ہے۔


      یہ بھی پڑھیں:
      Washington: واشنگٹن ڈی سی میں فائرنگ سے نوجوان ہلاک! پولیس افسر سمیت 3 افراد زخمی

      یہ بھی پڑھیں:
      Russia-Ukraine War:ناٹو چیف کی وارننگ، سالوں تک جاری رہ سکتی ہے جنگ، چکانی پڑے گی بڑی قیمت

      150 سے زیادہ سکھ آنا چاہتے ہیں ہندوستان
      گرونام سنگھ (Gurnam Singh)نے کہا- طالبان کی واپسی کے بعد اس وقت 150 سے زیادہ افغان سکھ ہیں جو ہندوستان آنا چاہتے ہیں۔ اس کے پاس ہندوستانی ویزا بھی تھا لیکن طالبان کی افغانستان واپسی کے بعد اسے معطل کر دیا گیا تھا۔ وہ کابل میں اپنی دکانیں بیچ کر اپنی روزی روٹی چھوڑ کر مستقل طور پر ہندوستان منتقل ہونے کو تیار ہیں۔ ان افغان سکھوں کی راتوں کی نیند حرام ہوگئی ہیں اور وہ ہندوستان واپسی کے دن گن رہے ہیں۔
      Published by:Shaik Khaleel Farhaad
      First published: