ہوم » نیوز » عالمی منظر

اشتعال انگیز خطاب سے تشدد بھڑکانے کے جرم میں جیل جاسکتے ہیں ڈونالڈ ٹرمپ، 20 جنوری کا انتظار

Capitol Hill Violence: ایک رپورٹ کے مطابق، امریکہ کے 200 سے زیادہ اراکین پارلیمنٹ ڈونالڈ ٹرمپ (Donald Trump) کو مواخذہ کے ذریعہ اقتدار سے ہٹانے کے حق میں ہیں۔ اگر ایسا نہیں بھی ہوتا ہے تو 20 جنوری کو عہدہ چھوڑنے کے بعد انہیں دارالحکومت میں تشدد بھڑکانے کے جرم میں گرفتار کیا جاسکتا ہے۔

  • Share this:
اشتعال انگیز خطاب سے تشدد بھڑکانے کے جرم میں جیل جاسکتے ہیں ڈونالڈ ٹرمپ، 20 جنوری کا انتظار
اشتعال انگیز خطاب سے تشدد بھڑکانے کے جرم میں جیل جاسکتے ہیں ڈونالڈ ٹرمپ، 20 جنوری کا انتظار

واشنگٹن: امریکہ کی راجدھانی واشنگٹن کے کیپٹل میں ڈونالڈ ٹرمپ حامیوں کے تشدد (Capitol Hill Violence) کے لئے سبکدوش ہونے والے صدر ڈونالڈ ٹرمپ (Donald Trump) کو جیل جانا پڑ سکتا ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق، 200 سے زیادہ امریکی پارلیمنٹ ایسے ہیں، جو چاہتے ہیں کہ ڈونالڈ ٹرمپ پر نہ صرف  مواخذہ کا عمل چلے بلکہ 20 جنوری سے پہلے ہی انہیں صدر کے عہدے سے ہٹا دیا جائے۔ اس کے علاوہ 20 جنوری کو صدر عہدے سے استعفیٰ دیتے ہوئے ڈونالڈ ٹرمپ کو راجدھانی میں اشتعال انگیز بیان کے ذریعہ تشدد پھیلانے کے جرم میں گرفتار کرلیا جائے۔


THE HILL کی ایک رپورٹ کے مطابق، کئی پارلیمنٹ آئین کے 25 ویں ترمیم کا استعمال کرنے کے حق میں ہیں۔ ڈونالڈ ٹرمپ کی مشکلیں اس لئے بڑھتی سکتی ہیں کیونکہ ان کی کابینہ اور پارٹی میں بھی ان ان کے خلاف مخالفت تیز ہونے لگی ہے۔ سی این این کی رپورٹ کے مطابق، فی الحال ڈونالڈ ٹرمپ پر مواخذہ چلانے کا کوئی معاملہ نہیں بنتا۔ انہیں ہٹانا اس لئے مشکل ہے کیونکہ بھلے ہی تشدد کے بعد مائیک پینس نے سخت رخ اپنایا تھا، لیکن وہ ابھی بھی آرٹیل 25 کا استعمال کرنے کے حق میں نہیں ہیں۔ پینس بھلے ہی ڈونالڈ ٹرمپ کے بارے میں نہیں سوچ رہے، لیکن انہیں پارٹی کی شبیہ پر بٹہ لگانے کا خوف ستا رہا ہے۔ ایسا بھی ہوسکتا ہے کہ چار سال بعد پینس ہی ریپبلکنس کی طرف سے صدر عہدے کے امیدوار بنیں۔


ڈونالڈ ٹرمپ کے جیل جانے کی بھی خبر


USA TODAY کی ایک رپورٹ کے مطابق، امریکی جانچ ایجنسیوں کے پاس اس بات کے پختہ اور تمام ثبوت ہیں کہ جمعرات کی تشدد ڈونالڈ ٹرمپ کے اشتعال انگیز خطاب کے بعد ہی شروع ہوئی۔ کارنیل لا انسٹی ٹیوٹ کے پروفیسر ڈیوڈ اوہن نے کہا- بالکل، تشدد کے لئے ٹرمپ ذمہ دار ہیں، انہوں نے جرم کیا ہے اور ان پر کیس چلنا چاہئے۔ جارج واشنگٹن لا یونیورسٹی کے ڈین فریڈرک لارینس بھی یہی کہتے ہیں۔ کارگزار نگراں اٹارنی جنرل مائیکل شیروین نے کہا- جو ذمہ دار ہیں، انہیں بخشا نہیں جائے گا۔ حالانکہ ڈونالڈ ٹرمپ چاہیں تو ان 12 دنوں میں انہوں نے ہر غلطی کے لئے خود کو صدارتی معافی دے سکتے ہیں۔ تشدد کے معاملے ڈونالڈ ٹرمپ کے اکساوے کے لئے کوئی ثبوت ملنا بھی مشکل ہے۔
Published by: Nisar Ahmad
First published: Jan 08, 2021 02:30 PM IST