உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    گجرات کے 500 سے زیادہ ماہی گیر Pakistani Jails میں بند، ’کیاگزررہی ہونگی ان پر‘ حکومت کااسمبلی میں بیان

    Youtube Video

    چودھری نے یہ بھی کہا کہ گجرات حکومت پاکستان کی قید میں رہنے والے ماہی گیروں کے خاندانوں کو یومیہ 300 روپے کی مالی امداد دیتی ہے۔ وزیر نے بتایا کہ حکومت نے 2020 میں 184 ماہی گیروں کے خاندانوں کو 2.30 کروڑ روپے اور 2021 میں 323 خاندانوں کو 4.28 کروڑ روپے تقسیم کیے ہیں۔

    • Share this:
      گاندھی نگر: گجرات کے 519 ماہی گیر پاکستان (Pakistan) کی جیلوں میں بند ہیں جن میں سے 358 کو اس ملک نے گزشتہ دو سال میں گرفتار کیا ہے۔ ریاستی حکومت نے بدھ کو قانون ساز اسمبلی کو یہ اطلاع دی ہے۔ وقفہ سوالات کے دوران کانگریس کے اراکین اسمبلی کے سوالات کا جواب دیتے ہوئے گجرات کے ریاستی ماہی گیری کے وزیر جیتو چودھری نے بھی اپنے تحریری جوابات میں کہا کہ گجرات کے 20 ماہی گیر پاکستان سے رہائی کے بعد گزشتہ دو سال کے دوران واپس آئے ہیں۔

      پاکستان میری ٹائم سیکیورٹی ایجنسی (Pakistan Maritime Security Agency) وقفے وقفے سے گجرات کے ماہی گیروں کو بحیرہ عرب میں تصوراتی بین الاقوامی میری ٹائم بارڈر لائن (IMBL) کو عبور کر کے پاکستانی سمندری حدود میں داخل ہونے کا الزام لگا کر حراست میں لے رہی ہے۔

      وزیر نے کہا کہ گزشتہ دو سال میں گرفتار کیے گئے 358 ماہی گیروں میں سے 163 کو 2020 میں اور 195 کو 2021 میں پکڑا گیا۔ ان کے اشتراک کردہ اعداد و شمار کے مطابق، 247 ماہی گیر ایک سال سے پاکستانی جیلوں میں 76 پچھلے تین سال سے اور ایک پانچ سال سے زیادہ عرصے سے جیلوں میں بند ہیں۔

      ان ماہی گیروں کو پاکستانی جیلوں سے رہا کروانے کے لیے گجرات حکومت کے طریقہ کار کی وضاحت کرتے ہوئے وزیر نے کہا کہ ریاستی حکومت ان کی قومیت کی تصدیق کے بعد مزید کارروائی کے لیے باقاعدہ وقفوں سے وزارت داخلہ کو مطلوبہ دستاویزات اور ثبوت پیش کرتی ہے۔ بہتر شناخت کے لیے ریاستی حکومت نے ماہی گیروں کو بائیو میٹرک کارڈ دینا بھی شروع کر دیا ہے۔ اب تک 1.68 لاکھ ماہی گیروں کو یہ کارڈ الاٹ کیے گئے تھے۔

      مزید پڑھیں: ICJ: بین الاقوامی عدالتِ انصاف میں روسی جنگ کےخلاف ہندوستانی جج نے دیاووٹ! آخرکون ہیں یہ جج؟

      چودھری نے یہ بھی کہا کہ گجرات حکومت پاکستان کی قید میں رہنے والے ماہی گیروں کے خاندانوں کو یومیہ 300 روپے کی مالی امداد دیتی ہے۔ وزیر نے بتایا کہ حکومت نے 2020 میں 184 ماہی گیروں کے خاندانوں کو 2.30 کروڑ روپے اور 2021 میں 323 خاندانوں کو 4.28 کروڑ روپے تقسیم کیے ہیں۔

      مزید پڑھیں: چین میں بھیڑ کا پرائیویٹ پارٹ، بھونی مکڑی اور گھونسلے کا سوپ، یہ ہیں چین کے 10 عجیب فوڈ

      وزیر نے کہا کہ اگرچہ پاکستانی حکام ماہی گیروں کی ماہی گیری کی کشتیوں کو تحویل میں لیتے ہوئے پکڑ لیتے ہیں، لیکن گجرات حکومت کی طرف سے کشتیوں کے مالکان کو کوئی معاوضہ نہیں دیا جاتا ہے۔
      Published by:Mohammad Rahman Pasha
      First published: