عمران خان نے کھودیا فوج کا اعتماد، جنرل قمر باجوہ سے پوچھ کرلے رہےہیں فیصلے

پاکستان کے فوجی سربراہ جنرل جاوید قمرباجوہ پاکستانی وزیراعظم عمران خان کی چین کے اعلیٰ لیڈروں کےساتھ ہوئی میٹنگ میں شامل ہوئے۔ ایسی خبریں ہیں کہ باجوا ملک میں اپنے لئے اوربڑا رول چاہتے ہیں۔

Oct 09, 2019 12:06 AM IST | Updated on: Oct 09, 2019 12:06 AM IST
عمران خان نے کھودیا فوج کا اعتماد، جنرل قمر باجوہ سے پوچھ کرلے رہےہیں فیصلے

پاکستان کے فوجی سربراہ اپنے لئے ملک میں مزید بڑا رول چاہتے ہیں۔

بیجنگ: پاکستان کے فوجی سربراہ جنرل جاوید قمرباجوہ  پاکستانی وزیراعظم عمران خان کی چین کے اعلیٰ لیڈروں کےساتھ ہوئی میٹنگ میں شامل ہوئے۔ ایسی خبریں ہیں کہ باجوا ملک میں اپنے لئے اوربڑا رول چاہتے ہیں۔ پاکستان میں 1947 سے اب تک تین بارفوجی تختہ پلٹ ہوچکا ہے اوریہ ملک وجود میں آنے کے بعد نصف سے زیادہ وقت تک فوجی اقتدارمیں ہی رہا ہے۔

فیصلہ لینے کے عمل میں بڑھا باجوہ کا قد

Loading...

عمران خان نے جنرل باجوہ کی مدت کارتین سال کے لئے مزید بڑھا دی تھی اوراب وہ فیصلے لینے کے عمل میں بھی زیادہ دلچسپی لے رہے ہیں۔ چین کے وزیراعظم لی کنگ کے ساتھ عمران خان کی میٹنگ میں بھی جاوید قمرباجوہ موجود تھے۔ اس کے بعد باجوہ الگ سے بھی چین کے مرکزی فوجی کمیشن کے نائب چیئرمین شو کلیانگ سے ملاقات کی اوردونوں ممالک کے تعلقات پرتبادلہ خیال کیا۔

اپنے 11 ماہ کی مدت میں تین بارچین جاچکے ہیں عمران خان

عمران خان اپنے محض 11 ماہ کی مدت میں تین بار چین جاچکے ہیں اوراب انہوں نے کہا ہے کہ وہ چینی صدرشی جنپنگ کی طرح بننا چاہتے ہیں۔ ایسا کرکے وہ اپنے ملک کے 500 بدعنوان لوگوں کو جیل بھیج دیں گے۔ اپنے دوروزہ  سفرکے دوران بیجنگ میں چائنا کونسل فارپرموشن آف انٹرنیشنل ٹریڈ کو خطاب کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ میں نے چین سے بدعنوانی سے نمٹنے کا سلیقہ سیکھا ہے۔

عمران خان نے شی جنپنگ کی تعریف کی

عمران خان نے کہا کہ چینی صدر شی جنپنگ کی سب سے بڑی جنگ بدعنوانی کے خلاف ہے۔ میں نے سنا تھا کہ گزشتہ پانچ سالوں میں چین کے تقریباً 400 وزیر سطح کے لوگوں کو بدعنوانی کے معاملے میں قصوروارٹھہرایا گیا ہے اورانہیں جیل میں ڈال دیا گیا ہے۔ میں چاہتا ہوں کہ میں صدر شی جنپنگ کی ہی طرح پاکستان کے 500 بدعنوان لوگوں کو جیل میں ڈال دوں۔ انہوں نے اس کے ساتھ ہی کسی ملک میں پھیلی بدعنوانی کے خاتمہ کے لئے سب سے بڑی رکاویٹ بتایا۔ انہوں نے اس کے علاوہ چین سے غریبی کو دورکرنے کا سلیقہ سیکھنے کی بات بھی کہی۔ انہوں نے اس کے لئے چین کی مثال پیش کرتے ہوئے کہا کہ کیسے اس نے گزشتہ 30 سالوں میں اپنی 70 فیصد آبادی کو غریبی سے باہرکیا ہے۔

Loading...