ہوم » نیوز » عالمی منظر

دھمکی دے کر پچھتایا پاکستان، سعودی عرب کو منانے کی کوششیں تیز

جنرل قمر جاوید باجوا کا یہ دورہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب سعودی عرب کے ذریعہ کشمیر مسئلہ پر پاکستان کا موقف مسترد کئے جانے کے سبب دونوں ملکوں کے بیچ رشتوں میں کشیدگی پیدا ہو گئی ہے۔

  • Share this:
دھمکی دے کر پچھتایا پاکستان، سعودی عرب کو منانے کی کوششیں تیز
قمر جاوید باجوا کی فائل فوٹو

اسلام آباد۔ پاکستان (Pakistan) کے فوجی سربراہ جنرل قمر جاوید باجوا دو طرفہ رشتوں پر بات چیت کرنے کے لئے پیر کے روز سعودی عرب (Saudi Arabia) پہنچے۔ ان کا یہ دورہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب سعودی عرب کے ذریعہ کشمیر مسئلہ پر پاکستان کا موقف مسترد کئے جانے کے سبب دونوں ملکوں کے بیچ رشتوں میں کشیدگی پیدا ہو گئی ہے۔ پاکستان نے کشمیر کے موضوع پر اسلامی تعاون تنظیم کے وزرائے خارجہ کی میٹنگ بلانے کی بار بار اپیل کی۔ لیکن تنظیم نے اس کی مانگ پر دھیان نہیں دیا جس کے بعد خفا ہو کر پاکستان نے دھمکی دی تھی کہ وہ اس مسئلہ پر الگ سے میٹنگ بلا سکتا ہے۔ سفارتی ذرائع نے یہاں بتایا کہ جنرل باجوا کے ساتھ پاکستانی خفیہ ایجنسی، آئی ایس آئی کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید بھی سعودی عرب گئے ہوئے ہیں۔


سعودی عرب میں ان کے پروگراموں کے بارے میں کوئی تفصیلی بیان جاری نہیں کیا گیا ہے، لیکن امکان ہے کہ رشتوں میں آئی دوریوں کو ختم کرنے پر بات چیت ہو گی۔ ہندستان کے ذریعہ پچھلے سال اگست میں جموں وکشمیر کا خصوصی درجہ ختم کئے جانے کے بعد سے پاکستان اسلامی تعاون تنظیم کی میٹنگ بلانے پر زور دیتا رہا ہے۔ او آئی سی کے 57 رکن ممالک ہیں۔ حالانکہ، او آئی سی کی طرف سے پاکستان کی درخواست پر ابھی تک کوئی مثبت جواب نہیں ملا ہے۔ او آئی سی سے مثبت جواب نہیں ملنے کے لئے سب سے بڑا سبب یہ ہے کہ سعودی عرب اس کا خواہش مند نہیں ہے۔


او آئی سی میں کسی بھی اہم ترین فیصلے کے لئے سعودی عرب کی حمایت اہم ہے۔ اس تنظیم پر سعودی عرب اور باقی عرب ملکوں کا دبدبہ ہے۔ جموں وکشمیر کا خصوصی درجہ ختم ہونے کے بعد سے پاکستان، ہندستان کے خلاف عالمی حمایت پانے کے لئے کئی کوششیں کر چکا ہے، لیکن وہ کامیاب نہیں ہو پایا ہے۔

Published by: Nadeem Ahmad
First published: Aug 18, 2020 09:39 AM IST