ہوم » نیوز » عالمی منظر

پاکستان کی سرجیکل حملے کی تردید کی کوشش ، مشاہدہ کیلئے غیر ملکی نامہ نگاروں کو ایل او سی پر پہنچایا

ہندوستان کی محدود فوجی کارروائی پر جہاں وزیر اعظم نواز شریف اپوزیشن جماعتوں کی طرف سے مسلسل حملوں کا سامنا کررہے ہیں، وہيں پاکستانی فوج اس واقعہ کو جھوٹ ثابت کرنے میں کوئي کسر باقی چھوڑنا نہيں چاہتی ہے۔

  • UNI
  • Last Updated: Oct 02, 2016 06:57 PM IST
  • Share this:
  • author image
    NEWS18-Urdu
پاکستان کی سرجیکل حملے کی تردید کی کوشش ، مشاہدہ  کیلئے غیر ملکی نامہ نگاروں کو ایل او سی پر پہنچایا
علامتی تصویر

اسلام آباد  : کنٹرول لائن کے اس پار دہشت گردوں کے متعدد لانچ پیڈ پر ہندوستان کی محدود فوجی کارروائی ( سرجیکل اسرائک) پر پاکستان کی طرف سے جوابی کارروائی نہ کرنے پر جہاں وزیر اعظم نواز شریف اپوزیشن جماعتوں کی طرف سے مسلسل حملوں کا سامنا کررہے ہیں، وہيں پاکستانی فوج اس واقعہ کو جھوٹ ثابت کرنے میں کوئي کسر باقی چھوڑنا نہيں چاہتی ہے اور وہ ایل او سی کی خلاف ورزی کے کسی بھی واقعہ کو غلط ثابت کرنے میں جی جان سے لگے ہوئے ہیں۔

واضح رہے کہ ہندوستانی فوج کے سرجیکل حملے کو پاکستان شروع سے ہی مسترد کرتا رہا ہے اور اسی سمت میں اپنی تازہ کوششوں کے تحت پاکستانی فوج نے گزشتہ روز چند غیر ملکی صحافیوں کو اپنے موقع پر لے جا کر یہ ظاہر کرنے کی کوشش کی کہ کنٹرول لائن کے اندر کوئی حملہ نہیں ہوا، بلکہ ہندوستانی فوجی دستوں کی طرف سے فائرنگ کی گئي ہے۔ پاكستاني فوج میڈیا کے چند نامہ نگاروں کو جموں وكشمير میں کنٹرول لائن کے پار پونچھ ندی کے کنارے واقع مانڈهولے گاؤں لے گئي، جہاں سے بھارتی فوج کی چوکیاں نظر آتی ہیں۔

مانڈهولے گاؤں کے باشندوں کو ثبوت کے بطور میڈیا کے سامنے کھڑا کیا گیا اور انہوں نے بھی وہی باتیں دہرائیں جو سرجیکل اسٹرائک کے بعد پاکستانی فوج کہتی آ رہی ہے۔ جبکہ ہندوستانی فوج نے سات لانچ پیڈ کو تباہ کرنے کا دعوی کیا ہے ، جن میں سے ایک مانڈہولے گاؤں کے نزدیک تھا اوروہ ایل او سی پر ہندوستانی چوکیوں سے صرف 500 یارڈ کی مسافت پر واقع ہے۔

دریں اثناء، وزیر دفاع منوہر پاریکر نے پاکستان کو ایک مریض قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ ایسا مریض ہے جسے انیستھسيا دیا گیا ہے ، جس کو یہ نہیں پتہ کہ اس کا آپریشن کیا جا چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اپنے یہاں اپوزیشن کے بڑھتے دباؤ میں ہی سرجیکل حملے کو مسترد کرتے ہیں اور یہی کچھ دکھانے کے لئے وہ غیر ملکی صحافیوں کو حملے کے علاقے میں لے گیا۔

نیویارک ٹائمز کے پاکستانی صحافی سلمان مسعود جائے وقوعہ کا دورہ کرنے والے صحافیوں میں شامل تھے، انہوں نے ھبی دورے کے بعد اس سلسلے میں اپنی رپورٹ سونپی ہے۔ اس نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ "پاکستان اس علاقے میں کسی بھی کشیدگی کو کم کرنے کو لے کر فکر مند ہے"۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ صحافیوں کے گروپوں کو دارالحکومت اسلام آباد سے 100 میل دور پاک مقبوضہ کشمیر کے ضلع بھیمبرمیں پاکستانی فوجی ہیلی کاپٹروں سے ہوائی سروے کرایا گیا۔صحافیوں کو منڈھولے سے 60 کلومیٹر کے فاصلے پر باگھسر پہاڑی گاؤں میں پاکستانی فوج کے ترجمان لیفٹیننٹ جنرل اسیم سلیم باجواسمیت فوج کے حکام نے اس سلسلے میں معلومات دی گئیں۔
نیویارک ٹائمز نے پاکستانی فوج کے حکام کے حوالے سے رپورٹ دی ہے کہ ہندوستانی فوجیوں نے جمعرات کو دو بجے رات کوعلاقے کی پانچ جگہوں پر فائرنگ کی۔ پانچ گھنٹے تک فائرنگ ہوئی لیکن ہندوستانی فوج نے کنٹرول لائن کو پار نہیں كيا۔
رپورٹ کے مطابق جنرل باجوا نے صحافیوں کے سامنے کئی سوال بھی رکھے۔ مثلا ہلاک شدگان کی لاشوں کو کہاں لے جایا گیا؟ سب کی جنازہ کہاں ادا کی گئي؟۔ اگر ہندوستان فوجی ان تمام لاشوں کو واپس لے گئے تو کسی بھی لاش کو کیوں نہیں دکھایا گیا؟ کہاں پر کیا نقصان ہوا ہے؟ ایک صحافی نے سوال کیا کہ کیا وہ اس سلسلے میں منصفانہ تحقیقات کے لئے تیار ہیں۔اس پر انہوں نے کہاکہ "اقوام متحدہ کے مبصرین اور صحافیوں کے لئے ہمارا راستہ کھلا ہے۔
First published: Oct 02, 2016 06:57 PM IST