உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    پاکستان الیکشن کمیشن کا بڑا فیصلہ: "ووٹ کسے دیا" پوچھنے پرملی گی تین سال جیل کی سزا

    پاکستان الیکشن کمیشن نے رائے دہندگان کو متاثر کرنے یا ووٹ کسے دیا؟ پوچھنے پر تین سال جیل کی سزا کافیصلہ کیا۔  ضلع الیکشن افسر یا سیشن جج اس طرح کے جرائم کرنے والوں کو تین سال تک کی سزا ئے قید یا ایک لاکھ روپئے کا جرمانہ یا قید اورجرمانہ دونوں سنا سکتا ہے۔

    پاکستان الیکشن کمیشن نے رائے دہندگان کو متاثر کرنے یا ووٹ کسے دیا؟ پوچھنے پر تین سال جیل کی سزا کافیصلہ کیا۔ ضلع الیکشن افسر یا سیشن جج اس طرح کے جرائم کرنے والوں کو تین سال تک کی سزا ئے قید یا ایک لاکھ روپئے کا جرمانہ یا قید اورجرمانہ دونوں سنا سکتا ہے۔

    پاکستان الیکشن کمیشن نے رائے دہندگان کو متاثر کرنے یا ووٹ کسے دیا؟ پوچھنے پر تین سال جیل کی سزا کافیصلہ کیا۔ ضلع الیکشن افسر یا سیشن جج اس طرح کے جرائم کرنے والوں کو تین سال تک کی سزا ئے قید یا ایک لاکھ روپئے کا جرمانہ یا قید اورجرمانہ دونوں سنا سکتا ہے۔

    • Share this:
      پاکستان میں 25 جولائی کو قومی اور صوبائی انتخابات ہونے ہیں۔ پاکستان الیکشن کمیشن نے اسے لے کر ایک گائڈ لائن جاری کی ہے۔ اس کے تحت اگر ووٹنگ کے بعد کوئی کسی سے پوچھتا ہے کہ اس نے کسے ووٹ دیا؟ تو متعلقہ شخص کو تین سال کی جیل ہوسکتی ہے یا اسے ایک لاکھ روپئے تک کا جرمانہ ادا کرنا پڑ سکتا ہے۔ اگر قسمت خراب رہی تو جیل اور جرمانہ دونوں ہی ادا کرنا پڑ سکتا ہے۔

      پاکستانی انگریزی اخبار "ڈان" نے اپنی ایک رپورٹ میں یہ اطلاع دی ہے۔ رپورٹ کے مطابق پاکستان کےالیکشن کمیشن کی طرف سے جاری نوٹیفکیشن میں ایسے کئی نکات ہیں، جن پر پابندی لگائی گئی ہے۔ اگر کوئی پابندی کے خلاف کام کرتا ہے، تو اسے کوڈ آف کنڈکٹ (ضابطہ اخلاق) کی خلاف ورزی تسلیم کی جائے گی۔ اس کے بعد متعلقہ شخص کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔

      اخبار کے مطابق پابندی عائد کئے گئے کاموں میں سے کسی سے یہ پوچھنا بھی شامل ہے کہ اس نے الیکشن میں کسے ووٹ دیا؟ بیلٹ پیپر کا فوٹو لینا بھی جرم تسلیم کیاجائے گا۔

      کمیشن کے نوٹیفکیشن میں کسی ووٹر کو ووٹنگ مراکز سے بھگانے، کسی کو ووٹنگ کرنے یا نہ کرنے کے لئے مجبور کرنے، کسی ووٹر کو نقصان پہنچانے یا اس کی دھمکی دینے، کسی ووٹر کا اغوا کرنے، اسےخوفزدہ کرنے، بہلانے پھسلانے یا کسی غلط طریقے سے متاثر کرنے، بیلٹ پیپر یا سرکاری مہر برباد کرنے یا ووٹنگ مرکز سے بیلٹ پیپرباہر لے جانے یا فرضی بیلٹ پیپر ڈالنے جیسے کاموں کو جرم ٹھہرایا گیا ہے۔

      رپورٹ کے مطابق ووٹنگ کرنے یا نہ کرنے کے کسی ووٹر کے فیصلے پرتحفہ دینے یا ایسی کوئی پیشکش کرنا بھی جرم مانا جائے گا۔ ضلع الیکشن افسر یا سیشن جج اس طرح کے جرائم کرنے والوں کو تین سال تک کی سزا ئے قید یا ایک لاکھ روپئے کا جرمانہ یا قید اور جرمانہ دونوں سنا سکتا ہے۔
      First published: