ہوم » نیوز » عالمی منظر

ہندوستان اگر شہریوں پر حملے کرے گا توجواب ہم بھی دیں گے: پاکستانی میجرجنرل کی دھمکی

راولپنڈی میں ہوئے ایک پریس کانفرنس میں پاکستان کے ڈائریکٹر جنرل انٹر سروسیز پبلک ریلیشن (آئی ایس پی آر) نے پیر کو ہندوستانی سرحد پر ہورہی سیز فائر خلاف ورزی پر کہا ہے کہ پاکستان امن پسند کرتا ہے، اس بات کو پاکستان کی کمزوری نہ سمجھا جائے۔

  • Share this:
  • author image
    NEWS18-Urdu
ہندوستان اگر شہریوں پر حملے کرے گا توجواب ہم بھی دیں گے: پاکستانی میجرجنرل کی دھمکی
راولپنڈی میں ہوئے ایک پریس کانفرنس میں پاکستان کے ڈائریکٹر جنرل انٹر سروسیز پبلک ریلیشن (آئی ایس پی آر) نے پیر کو ہندوستانی سرحد پر ہورہی سیز فائر خلاف ورزی پر کہا ہے کہ پاکستان امن پسند کرتا ہے، اس بات کو پاکستان کی کمزوری نہ سمجھا جائے۔

اسلام آباد: راولپنڈی میں ہوئے ایک پریس کانفرنس میں پاکستان کے ڈائریکٹر جنرل انٹر سروسیز پبلک ریلیشن (آئی ایس پی آر) نے پیر کو ہندوستانی سرحد پر ہورہی سیز فائر خلاف ورزی پر کہا ہے کہ پاکستان امن پسند کرتا ہے، اس بات کو پاکستان کی کمزوری نہ سمجھا جائے۔


پاکستان کے میجر جنرل آصف غفور نے کہا کہ ہندوستانی فوج نے 13 سالوں میں  2000 سے زیادہ بارسیز فائرکی خلاف ورزی کی ہے۔ ہندوستانی فوج شہریوں کو نشانہ بناتی ہے۔ ہندوستان کوسمجھنا ہوگا کہ امن کیسے قائم رکھنا ہے۔ دونوں ملک ایٹمی طاقت اورخوشحال ملک ہیں، ہمیں کسی بھی طرح سے ٹکراو سے بچنا چاہئے۔


انہوں نے یہ بھی کہا کہ ہمارا یہ فرض ہے کہ سیز فائر سمجھوتے کو قبول کریں۔ ہم خود پر ہونے والے پہلے حملے کا جواب نہیں دیں گے، لیکن اگر ہمارے شہریوں کو مارا جاتا ہے، تو ہماری فوج جوابی کارروائی ضرور کرے گی۔


 

 

واضح رہے کہ سال 2018 کا پانچواں مہینہ ختم ہوا ہے اور لائن آف کنٹرول (ایل او سی) پر پاکستان کی طرف سے سیز فائر کی خلاف ورزی کی واقعات کی تعداد 1250 تک پہنچ گئی ہے۔ سال 2017 میں ایسے واقعات کی تعداد 971 تھی۔ ان واقعات میں 36 لوگں (فوجی اور شہری) کو اپنی جان گنوانی پڑی ہے جبکہ 120 سے زیادہ لوگ زخمی بھی ہوئے ہیں۔

اسی کی وجہ سے ہندوستانی سرحد کے آس پاس رہنے والے ہزاروں لوگوں کو اپنا گھر چھوڑنا پڑا ہے۔ ان حادثات پر لگام لگانے کے لئے ہندوستان اور پاکستان کے ڈائریکٹر جنرل آف ملٹری آپریشن (ڈی جی ایم او) کے درمیان 2003 کے سیز فائر سمجھوتے کو پوری طرح سے نافذ کرنے پر اتفاق رائے بن گیا ہے۔ غور طلب ہے کہ اس معاہدے کے بعد ہند پاک سرحد پر تقریباً 6 سالوں تک امن برقرار رہی تھی۔

پاکستان آئے دن سرحد پر فائرنگ کرتا رہتا ہے۔ پاکستان کی طرف سے جاری فائرنگ میں کشمیری شہریوں کو نقل مکانی تک کا درد بھی جھیلنا پڑتا ہے۔ سمندری علاقوں میں پاکستان کی طرف سے جاری فائرنگ میں شہریوں کو سیکورٹی کیمپوں میں پناہ لینی پڑتی ہے۔

 

 
First published: Jun 04, 2018 06:09 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading