ہوم » نیوز » عالمی منظر

پاکستان کے مشہور سماجی خدمت گارعبدالستار ایدھی کے انتقال پرسیاسی اورسماجی شخصیات کی جانب سے تعزیتی پیغامات

کراچی۔ پاکستان کی سب سے بڑی فلاحی تنظیم کے روح رواں اور کسی سَنت کی طرح قابل احترام سمجھے جانے والے عبدالستار ایدھی کا کل رات ہسپتال میں انتقال ہوگیا۔

  • UNI
  • Last Updated: Jul 09, 2016 04:09 PM IST
  • Share this:
  • author image
    NEWS18-Urdu
پاکستان کے مشہور سماجی خدمت گارعبدالستار ایدھی کے انتقال پرسیاسی اورسماجی شخصیات کی جانب سے تعزیتی پیغامات
کراچی۔ پاکستان کی سب سے بڑی فلاحی تنظیم کے روح رواں اور کسی سَنت کی طرح قابل احترام سمجھے جانے والے عبدالستار ایدھی کا کل رات ہسپتال میں انتقال ہوگیا۔

کراچی۔  پاکستان کی سب سے بڑی فلاحی تنظیم کے روح رواں اور کسی سَنت کی طرح قابل احترام سمجھے جانے والے عبدالستار ایدھی کا کل رات ہسپتال میں انتقال ہوگیا۔ ان کی موت کے اعلان کے بعد سے ٹی وی اور سوشل میڈیا پر تعزیتی پیغامات کا سیلاب آگیا ہے۔ پاکستانی وزیراعظم نواز شریف نے انہیں خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ  انسانیت کے اس عظیم خدمت گار کو بعد از مرگ صدارتی تمغہ سے نوازا جائے گا اور ان کی سرکاری اعزاز کے ساتھ تدفین ہوگی۔ 88 سالہ بزرگ منکسر المزاجی اور فراخدلی کی مثال تھے۔ اپنے امدادی کاموں کی وجہ سے انہوں نے ہر پاکستانی کے دل میں جگہ بنالی تھی۔ مسٹر شریف نے ایدھی کی موت سے چند گھنٹہ قبل ہی کہا تھا ’’شاید ہی کسی شخص نے پاکستانی عوام کی زندگی میں بہتری کے لئے اتنا اچھا کام کیا ہو جتنا عبدالستار ایدھی نے کیا ہے‘‘۔


اوسط قد اور لمبی سفید داڑھی والے ایدھی اکثر روایتی ٹوپی پہنتے تھے اور شلوار قمیض کے صرف دو سوٹ ان کے پاس تھے ۔ انہوں نے وصیت کی تھی کہ انہیں اسی لباس میں دفنا دیا جائے۔ گردے فیل ہوجانے کے بعد وہ کئی سال سے بیمار چل رہے تھے۔ شریف حکومت نے انہیں بیرون ملک علاج کرانے کی پیشکش کی تھی مگر انہوں نے یہ کہہ کر انکار کردیا تھا کہ وہ اپنے وطن میں سرکاری اسپتال میں علاج کرانا پسند کریں گے۔ ایدھی فاؤنڈیشن کے پاس ایمبولینسوں کا بڑاقافلہ ہے وہ ملک بھرمیں یتیم خانے اور طبّی کلینک چلاتی ہے۔


پچھلے سال رمضان میں جب دو کروڑ آبادی والے کراچی شہرمیں تباہ کن گرمی پڑی تھی تو اس ادارے نے بڑھ چڑھ کر لوگوں کی مدد کی تھی۔ اس کی ایمبولینس بیماروں کو لے کرروا دواں رہیں اور ان کے مردہ خانوں میں لاشوں کو رکھا گیا تھا اور غریب لوگوں نے مفت میں اپنے خاندان کے لوگوں کو ایدھی قبرستان میں دفنایا تھا۔ آج ان کی تدفین میں بہت بڑی تعداد میں لوگوں کے شامل ہونے کی امید ہے۔ یہ پاکستان کی تاریخ میں شاید بہت کم لوگوں کی میت کے وقت اتنے لوگ شامل ہوئے ہوں گے۔ لوگ ان کی بے حد قدر کرتے تھے اور دل کھول کر عطیات دیا کرتے تھے۔


ہندوستانی وزیر خارجہ سشما سوراج نے بھی ان کی تعریف کرتے ہوئے کہا ہے ’’وہ بہت عظیم شخصیت تھے جنہوں نے اپنی زندگی انسانیت کی خدمت میں صرف کردی تھی‘‘۔ پاکستان میں جہاں سماجی، نسلی اور مسلکی جھگڑے اور پرتشدد واقعات عام ہیں ایدھی اپنی بے لوث خدمت کی وجہ سے سماج کے ہر طبقہ میں احترام کی نظر سے دیکھے جاتے تھے۔ وہ کسی سادھو کی سی سادہ زندگی گزارتے تھے مگر رنگ و نسل کی تفریق کئے بنا ہر کسی کی مدد کرتے تھے۔ وہ کراچی میں بغیر کھڑکی والے ایک چھوٹے سے کمرے میں رہتے تھے جس میں بہت ہی کم سامان تھا۔ دو جوڑے کپڑے تھے ایک پرانے ٹیپ ریکارڈ پر قرآن کی تلاوت سنا کرتے تھے۔ انہوں نے 2013 میں رائٹر کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا تھا ’جب میری ایمبولینس تکلیف میں مبتلا کسی زخمی شخص کو ہسپتال پہنچا دیتی ہے ، جب بیمارہسپتال پہنچ جاتے ہیں تو مجھے اس کی مدد کرکے انتہائی سکون محسوس ہوتا ہے۔

’’میرا نصب العین انسانوں سے محبت ان کی خدمت ہے۔ ہر دن میری زندگی کا بہترین دن ہوتا ہے‘‘۔


وہ عام شہریوں پر حملہ کرنے کے لئے طالبان جیسے گروپوں پر نکتہ چینی کیا کرتے تھے۔ سرکار کی نا اہلی اور بدعنوانی کو نشانہ بناتےتھے اور متمول لوگوں کی ٹیکس چوری پر تنقید کرتے تھے۔ ان کی اہلیہ بلقیس جو نرس ہیں، ان کے فلاحی کاموں میں شابہ بشانہ رہی ہیں۔ وہ خواتین کی پناہ گاہیں اور یتیم خانوں کی دیکھ بھال کرتی ہیں۔ انہوں نے 25 ہزار بچوں کو پناہ دے کر ان کی پرورش کی ذمہ داری اٹھارکھی ہے۔ تاہم انہوں نے کہا کہ ’’ہم نے اپنے بچوں کے لیے کوئی گھر نہیں بنایا‘‘۔ ایدھی فاؤنڈیشن بنگلہ دیش، ایران، سری لنکا، کروشیا اور انڈونیشیا تک راحت پہنچاتا ہے۔ قطرینہ طوفان کے بعد اس نے امریکہ میں امدادی کام کیا تھا۔
عبدالستار ایدھی کے پاس کوئی سرمایہ نہیں تھا مگر اپنے جذبے کے سہارے انہوں نے فلاحی سلطنت قائم کرلی۔ ان کی تنظیم کا سالانہ بجٹ ڈیڑھ ارب روپے کا ہے جس میں زیادہ تر متوسط طبقہ سے ملنے والے چندے کا حصہ ہوتا ہے۔ اس ادارے کا نمایاں شعبہ اس کی 1500 ایمبولینس ہیں جو ملک میں دہشت گردی کے حملوں کے دوران بھی غیر معمولی طریقہ سے اپنا کام کرتی نظر آتی ہیں۔ سال 2000 میں گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈ میں ایدھی فاؤنڈیشن کا نام دنیا کی سب سے بڑی فلاحی ایمبولینس سروس کے بطور درج کیا گیا تھا۔


عبدالستار ایدھی 1928 میں ہندوستان کی ریاست گجرات میں ایک تاجر گھرانہ میں پیدا ہوئے تھے اور 1947 میں ہجرت کرکے پاکستان آ گئے تھے۔ ان کی ماں فالج اور ذہنی امراض میں مبتلا ہوئیں اور ان کا سرکاری اسپتالوں میں خاطر خواہ علاج نہ ہوسکا تو وہ بے حد غمزدہ ہوگئے اور اسی تکلیف کے لمحہ میں انہوں نے خدمت خلق کا فیصلہ کیا اور ان کی زندگی نے ایک نیا موڑ لے لیا۔ انہوں نے 1951 میں کراچی میں نہایت پرامید ہوکر اپنا کلینک کھولا۔

اپنی سوانح ’’اے مرر تو دی بلائنڈ‘‘ (اندھے کا آئینہ) میں انہوں نے لکھا ہے کہ ’معاشرے کی خدمت میری صلاحیت تھی جسے مجھے سامنے لانا تھا‘۔ ایدھی اور ان کی ٹیم نے گزشتہ سالوں میں میٹرنٹی وارڈ، مردہ خانے، یتیم خانے، شیلٹر ہوم اور اولڈ ہومز قائم کئے ہیں جس کا کام غریب اور بے سہارا لوگوں کی مدد کرنا ہے جو اپنی مدد آپ نہیں کرسکتے۔


انہیں کئی مرتبہ نوبل انعام کے لئے نامزد کیا گیا۔ انہوں نے وہ کام کیا جو سرکار نہ کرسکی۔
انہوں نے اپنے جسم کے کئی اعضا عطیہ کردیئے تھے مگر ان کی محض آنکھیں ہی درست حالت میں ہیں۔ وہ دو شہریوں کو لگائی جائیں گی۔ ان کی نماز جنازہ نیشنل اسٹیڈیم کراچی میں ادا کی جائے گی۔ انہوں نے 25 سال قبل ہی ایدھی ولیج میں اپنی قبر تیار کرائی تھی۔ لوگ قومی ہیرو کی موت پر برابر پیغام جاری کررہے ہیں۔ وہ انہیں ’سنت‘ اور پاکستان کی مدر ٹریسا قرار دے رہے ہیں۔ عمران خان نامی ایک شخص نے ٹوئٹ کیا ہے کہ ان کی موت کے سوگ نے پورے پاکستان کو متحدکردیا ہے۔ یہی ایک بات ان کی عظمت کی نشانی ہے۔

First published: Jul 09, 2016 04:07 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading