உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    OMG: تیرہ سالوں سے گردن کو ایک طرف جھکائے زندگی گزار رہی تھی پاکستانی بچی، 25 لاکھ روپے میں ملی نئی زندگی

    OMG: تیرہ سالوں سے گردن کو ایک طرف جھکائے زندگی گزار رہی تھی پاکستانی بچی، 25 لاکھ روپے میں ملی نئی زندگی ۔ تصویر : Instagram/afsheengul786

    OMG: تیرہ سالوں سے گردن کو ایک طرف جھکائے زندگی گزار رہی تھی پاکستانی بچی، 25 لاکھ روپے میں ملی نئی زندگی ۔ تصویر : Instagram/afsheengul786

    Pakistan girl head stuck at one side : ان دنوں پاکستان کی ایک بچی کی پریشانی لوگوں کو پریشان کر رہی ہے ، مگر اچھی بات یہ ہے کہ اس کو اس پریشانی سے نجات مل گئی ہے ۔ بچی 13 سالوں سے ایک طرف گردن جھکائے زندگی گزار رہی تھی ۔

    • Share this:
      دنیا میں جتنے لوگ ہیں ، ان سے وابستہ اتنی ہی پریشانیاں ہیں ۔ کسی کی پریشانی عام ہوتی ہے تو کسی کی پریشانی کے بارے میں جان کر ہر کوئی دنگ رہا جاتا ہے ۔ ان دنوں پاکستان کی ایک بچی کی پریشانی بھی ایسے ہی لوگوں کو پریشان کر رہی ہے ، مگر اچھی بات یہ ہے کہ اس کو اس پریشانی سے نجات مل گئی ہے ۔ بچی 13 سالوں سے ایک طرف گردن جھکائے زندگی گزار رہی تھی ۔

       

      یہ بھی پڑھئے :  ڈنر کے دوران روسی صدر ولادیمیر پوتن نے کیا کچھ ایسا، ڈر سے کانپنے لگی تھی یہ ماڈل


      پاکستان کی افشین گل صحت مند بچوں کی طرح ہی پیدا ہوئی تھی ، مگر وہ جب صرف آٹھ مہینے کی تھی تو کھیلتے وقت اچانک اس طرح گری کہ اس کے سر اور گردن میں سنگین چوٹ آگئی ۔ تب سے بچی کا سر 90 ڈگری کے اینگل پر مڑگیا ۔ دراصل اس کو سیریبل پیلسی کی پریشانی ہوگئی تھی ، جس کی وجہ سے بچی کی حالت اس طرح سے بگڑ گئی ۔

      بچی کے اہل خانہ کو لگا کہ اپنے آپ اس کی حالت صحیح ہوجائے گی ، مگر ایسا نہیں ہوا ۔ ان کے پاس اتنے پیسے بھی نہیں تھے کہ وہ اس کا علاج کرا سکیں ۔ ڈیلی اسٹار کی ایک رپورٹ کے مطابق ایک اخبار نے بچی کی خبر کو سنجیدگی سے شائع کیا تب لوگوں کو اس کے بارے میں پتہ چلا ۔ گو فنڈ می پر ایک مہم شروع کی گئی اور دھیرے دھیرے بچی کیلئے پیسے جمع کرنا شروع کیا گیا ۔ آپ کو یہ جان کر حیرانی ہوگی کہ آپریشن کیلئے 25 لاکھ روپے جمع کئے گئے ۔

       

      یہ بھی پڑھئے : یوکرین سے جان بچاکر 1100 کلومیٹر دور سلوواکیہ بارڈر تنہا پہنچا 11 سال کا بچہ، ہاتھ پر لکھے نمبر نے رشتہ داروں سے ملوایا


      سرجری کیلئے پیسے جمع کرنے کے بعد بھی اپولو میڈیکل ٹیم نے افشین کے زندہ بچنے کا صرف 50 فیصد امکان ظاہر کیا تھا ۔ این ایچ ایس کیلئے کام کرنے والے ڈاکٹر راج گوپالن کرشنن نے کہا کہ افشین کے بھائی یعقوب نے جب ایک ڈاکیومینٹری دیکھی ، جس میں انہوں نے ایسے ہی نوجوان کا علاج کیا تھا ، تو اس نے ان سے رابطہ کیا ۔ انہوں نے بتایا کہ وہ بچی کو دیکھتے ہی سمجھ گئے کہ اس کے بچنے کا امکان کافی کم ہے ۔

      بچی کی سرجری کورونا وبا کی وجہ سے پہلے ملتوی کردی گئی تھی ، مگر پچھلے ہفتہ اس کی سرجری پوری ہوگئی ہے ۔ ابھی بھی اس کے سر کو سپورٹ کی ضرورت ہے ، مگر وہ سیدھا ہوچکا ہے ۔
      Published by:Imtiyaz Saqibe
      First published: