உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    پاکستان میں عمران خان کی پارٹی کے 250 سے زیادہ کارکنان گرفتار، ایک پولیس اہلکار کی موت

    Imran Khan party worker arrested: پاکستان میں سابق وزیراعظم عمران خان کی پارٹی کے 250 سے زیادہ کارکنان کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔ تصادم میں ایک پولیس اہلکار کی موت بھی ہوگئی۔ عمران خان نے 25 مئی کو راجدھانی اسلام آباد میں مارچ نکالنے کی اپیل کی ہے۔ انہوں نے حکومت پر وسط مدتی انتخابات کرانے کے دباو کے تحت اس مارچ کی اپیل کی ہے۔

    Imran Khan party worker arrested: پاکستان میں سابق وزیراعظم عمران خان کی پارٹی کے 250 سے زیادہ کارکنان کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔ تصادم میں ایک پولیس اہلکار کی موت بھی ہوگئی۔ عمران خان نے 25 مئی کو راجدھانی اسلام آباد میں مارچ نکالنے کی اپیل کی ہے۔ انہوں نے حکومت پر وسط مدتی انتخابات کرانے کے دباو کے تحت اس مارچ کی اپیل کی ہے۔

    Imran Khan party worker arrested: پاکستان میں سابق وزیراعظم عمران خان کی پارٹی کے 250 سے زیادہ کارکنان کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔ تصادم میں ایک پولیس اہلکار کی موت بھی ہوگئی۔ عمران خان نے 25 مئی کو راجدھانی اسلام آباد میں مارچ نکالنے کی اپیل کی ہے۔ انہوں نے حکومت پر وسط مدتی انتخابات کرانے کے دباو کے تحت اس مارچ کی اپیل کی ہے۔

    • Share this:
      لاہور: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے اسلام آباد میں مجوزہ عظیم مارچ سے ایک دن پہلے منگل کو پنجاب صوبہ میں ہوئے تصادم میں سابق وزیراعظم عمران خان کی پارٹی کے 250 سے زیادہ کارکنان کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔ تصادم میں ایک پولیس اہلکار کی موت بھی ہوگئی۔ حکومت پر وسط مدتی الیکشن کرانے کے لئے دباو بنانے کو لے کر عمران خان نے 25 مئی کو راجدھانی اسلام آباد میں مارچ کی اپیل کی ہے۔

      پنجاب حکومت کے ترجمان عطاء اللہ ترار نے کہا، پنجاب پولیس نے اب تک صوبہ میں پی ٹی آئی کے 250 سے زیادہ کارکنان کو گرفتار کیا ہے۔ حالانکہ انہوں نے پی ٹی آئی کے اس دعوے کی تردید کی کہ صرف پنجاب میں 1,000 سے زیادہ پارٹی کارکنان اور عہدیداران کو گرفتار کیا گیا ہے۔ عطاء اللہ ترار نے کہا کہ کارروائی جاری ہے اور گرفتاریوں کا امکان ہے۔

      مارچ میں شامل ہونے کی اجازت نہیں!

      پنجاب حکومت کے ترجمان نے کہا، حکومت پنجاب کے کسی بھی شخص کو عمران خان کے لمبے مارچ میں شامل ہونے کی اجازت نہیں دے گی، جس کا مقصد ملک کے امن وامان کو خراب کرنا ہے۔ اپوزیشن جماعت پی ٹی آئی کے اطلاعات ونشریات کے سکریٹری اور سابق صوبائی وزیر فواد چودھری نے کہا کہ پولیس نے پارٹی کے 1,100 لیڈران اور کارکنان کی رہائش گاہوں پر چھاپہ ماری کی۔ انہوں نے کہا کہ سبھی فاشسٹ ہتھکنڈوں کے باوجود، پی ٹی آئی کا ’آزادی مارچ‘ بدھ کو اسلام آباد پہنچے گا۔ لاہور میں پولیس کانسٹبل کمال احمد پی ٹی آئی آئی کارکنان کے ساتھ ان کے گھروں پر چھاپہ ماری کے دوران ہوئے تشدد میں مارے گئے۔ برسراقتدار پی ایم ایل-این قیادت نے پولیس اہلکاروں کی موت کے لئے سابق وزیر اعظم عمران خان کو ذمہ دار ٹھہرایا۔

      عمران خان نے کہا، یہ سیاست نہیں جہاد ہے

      اس سے قبل اتوار کو اسلام آباد مارچ کا اعلان کرتے ہوئے سابق وزیر اعظم عمران خان نے کہا تھا کہ یہ سیاست نہیں جہاد ہے۔ عمران خان نے کہا، 25 (مئی) کو میں اسلام آباد میں سری نگر شاہراہ پر آپ سے ملوں گا۔ میں چاہتا ہوں کہ سبھی (ہرطبقے) لوگ آئیں کیونکہ یہ جہاد ہے، سیاست نہیں۔ میں نے فیصلہ کیا ہے اور اپنی پوری ٹیم کو بتایا ہے کہ ہمیں اپنی زندگی کی قربانی دینے کے لئے تیار رہنا ہوگا۔ ’ڈان‘ اخبار کی خبر کے مطابق، پشاور میں اپنی پارٹی کی کور کمیٹی کی میٹنگ کے بعد پریس کانفرنس کو خطاب کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ یہ مارچ دھرنے میں تبدیل ہوجائے گا اور جب تک ان کے مطالبات کو مان نہیں لیا جاتا، تب تک یہ مارچ جاری رہے گا۔ انہوں نے پریس کانفرنس کے دوران کہا، راجدھانی تک مارچ کا اہم مطالبہ قومی اسمبلی کو فوری تحلیل کرنا اور آئندہ عام انتخابات کی تاریخ طے کرنے کے لئے دباو بنانا ہے۔
      Published by:Nisar Ahmad
      First published: