உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    افغانستان کو بھکمری سے بچانے کیلئے ہندوستان کرے گا یہ بڑی مدد ، پاکستان نے بھی دی اجازت

    افغانستان کو بھکمری سے بچانے کیلئے ہندوستان کرے گا یہ بڑی مدد ، پاکستان نے بھی دی اجازت ۔ AP

    افغانستان کو بھکمری سے بچانے کیلئے ہندوستان کرے گا یہ بڑی مدد ، پاکستان نے بھی دی اجازت ۔ AP

    Afghanistan starvation crisis grows : طالبان انتظامیہ میں افغانستان میں بڑھتی بھکمری کے حالات کے درمیان اب ہندوستان اب افغانستان کو 50 ہزار میٹرک ٹن گیہوں بھیج سکے گا ۔ دراصل پاکستان نے ہندوستان کو افغانستان کیلئے گیہوں بھیجنے کی اجازت دیدی ہے ۔

    • Share this:
      نئی دہلی : طالبان انتظامیہ میں افغانستان میں بڑھتی بھکمری کے حالات کے درمیان اب ہندوستان اب افغانستان کو 50 ہزار میٹرک ٹن گیہوں بھیج سکے گا ۔ دراصل پاکستان نے ہندوستان کو افغانستان کیلئے گیہوں بھیجنے کی اجازت دیدی ہے ۔ طالبان سرکار کے ایک ترجمان نے کہا کہ زمین کے ذریعہ ہندوستان کے ذریعہ گیہوں بھیجے جانے کا راستہ اب صاف ہوگیا ہے ۔ تقریبا ایک مہینے کے بعد پاکستان نے اس کو منظوری دیدی ہے ۔ طالبان ترجمان نے کہا کہ معاملہ سلجھ گیا ہے اور ہندوستان واگھہ بارڈر کے ذریعہ پاکستان کے راستے گیہوں بھیجے گا ۔

      طالبان انتظامیہ آنے کے بعد افغانستان میں یہ ہندوستان کی طرف سے پہلی مدد ہوگی ۔ اس سے پہلے ایران، یو اے ای اور پاکستان جیسے ممالک نے افغانستان میں رسد اور میڈیکل سپلائی بھیجی ہے ۔ اقوام متحدہ کی ایک تازہ رپورٹ کے مطابق افغانستان میں تقریبا چار کروڑ لوگوں کے سامنے سنگین خوراک بحران پیدا ہوسکتی ہے جبکہ تقریبا 90 لاکھ پہلے سے ہی بھکمری کی کگار پر آچکے ہیں ۔

      پاکستانی وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ ہندوستان کے ذریعہ گیہوں بھیجے جانے کیلئے پاکستان اپنے افغان بھائیوں کی اپیل سنے گا ۔ بتادیں کہ گزشتہ مہینے پاکستان نے گیہوں بھیجنے کیلئے اپنی زمین کے استعمال سے منع کردیا تھا ۔

      حال ہی میں عالمی صحت تنظیم نے کہا ہے کہ جنگ سے بدحال افغانستان میں لاکھوں کی تعداد میں بچے اس سال کے آخر تک بھوک سے مرسکتے ہیں ۔ طالبان انتظامیہ آنے کے بعد افغانستان کے بدتر ہوتے حالات پر ڈبلیو ایچ او کے بیان نے دنیا کی توجہ پھر سے مبذول کرائی ہے ۔ تنظیم نے کہا ہے کہ سردی کے موسم میں افغانستان میں درجہ حرارت کم ہوگا اور بھوک سے بلکتے بچے جان گنوا سکتے ہیں ۔

      نیوزی ایجنسی رائٹرس کی رپورٹ کے مطابق ڈبلیو ایچ او نے کہا کہ تقربیا 32 لاکھ افغانستانی بچے سال کے آخر تک غذا کی کمی کے شکار ہوں گے ۔ ان میں سے تقریبا دس لاکھ بچوں پر موت کا خطرہ منڈلا رہا ہے ۔ تنظیم کی ترجمان مارگریٹ ہیرس نے کہا کہ ملک میں پھیلتے بحران کے درمیان یہ ایک بڑی لڑائی ہوگی ۔
      Published by:Imtiyaz Saqibe
      First published: