உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    ایمنیسٹی انٹرنیشنل نے پاکستان اور بنگلہ دیش کو بتایا غیرمحفوظ ممالک

    فائل تصویر

    فائل تصویر

    لندن : انسانی حقوق کی پامالیوں پر نظر رکھنے والی بین اقوامی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے پاکستان اور بنگلہ دیش کو ’محفوظ ملک‘ قرار دینے کی تجویز مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان ممالک میں تشدد، اقلیتوں سے تعلق رکھنے والے افراد پر مظالم اور آزادی اظہار پر قدغن لگائے جانے جیسے اقدامات روزمرہ کا معمول ہیں،

    • UNI
    • Last Updated :
    • Share this:
      لندن : انسانی حقوق کی پامالیوں پر نظر رکھنے والی بین اقوامی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے پاکستان اور بنگلہ دیش کو ’محفوظ ملک‘ قرار دینے کی تجویز مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان ممالک میں تشدد، اقلیتوں سے تعلق رکھنے والے افراد پر مظالم اور آزادی اظہار پر قدغن لگائے جانے جیسے اقدامات روزمرہ کا معمول ہیں، اس لیے انہیں ’محفوظ ملک‘ قرار دینے کا فیصلہ غلط ہو گا۔
      یورپی یونین کی جانب سے پاکستان اور بنگلہ دیش کو ’محفوظ ملک‘ قرار دینے کی تجویز مسترد کرتے ہوئے ایمنسٹی نے شمالی افریقی ممالک کو محفوظ قرار دیے جانے کے فیصلے پر بھی تنقید کی ہے۔ یورپی یونین کے رکن ممالک کے مابین پاکستان اور بنگلہ دیش کو ’محفوظ ریاستوں‘ کی فہرست میں شامل کیے جانے کے بارے میں جاری بحث کو ایمنسٹی نے مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ جنوبی ایشیائی ریاستیں کسی بھی طور پر ’محفوظ ممالک‘ نہیں ہیں۔
      آن لائن میڈیا کے مطابق ایمنسٹی کی جرمن شاخ کا تین روزہ سالانہ اجلاس آج جرمنی کے شہر نوئس میں ختم ہو گیا۔ اجلاس کے بعد ایمنسٹی انٹرنیشنل کی ترجمان گابی شٹائن نے یورپی یونین اور جرمنی سے مطالبہ کیا کہ وہ مہاجرین اور تارکین وطن کو بہتر تحفظ فراہم کرنے کے لیے مزید اقدامات کریں۔ممکنہ طور پر ’محفوظ ممالک‘ کی فہرست میں شامل کیے جانے کے بعد پاکستان اور بنگلہ دیش سے تعلق رکھنے والے تارکین وطن کو آئندہ یورپی یونین میں سیاسی پناہ ملنے کے امکانات نہایت کم ہو جائیں گے۔ ایمنسٹی کی ترجمان کا کہنا تھا، ’’سیاسی پناہ حاصل کرنے کا حق بنیادی انسانی حقوق میں شامل ہوتا ہے لیکن پناہ کا حصول موجودہ دور میں بدستور مشکل تر ہوتا جا رہا ہے۔‘‘
      انسانی حقوق کی عالمی تنظیم کی جرمن شاخ کے اس سہ روزہ اجلاس میں ترکی اور یورپی یونین کے مابین طے پانے والے متنازعہ معاہدے پر ایک بار پھر شدید تنقید کی گئی اور اسے ’انسانی حقوق سے متصادم‘ قرار دیا گیا۔ علاوہ ازیں یورپی یونین کی جانب سے نام نہاد ’محفوظ ممالک‘ سے تعلق رکھنے والے پناہ گزینوں کی جلد از جلد ان کے آبائی ملکوں کو واپسی کے فیصلے پر بھی شدید تحفظات کا اظہار کیا گیا۔
      حال ہی میں جرمنی کی وفاقی پارلیمان نے الجزائر، مراکش اور تیونس کو ’محفوظ ملک‘ قرار دینے کے فیصلے کی توثیق کر دی تھی۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل نے جرمن پارلیمان کے اس فیصلے پر بھی سخت نکتہ چینی کی ہے۔
      First published: